بریکنگ نیوز
Home / کالم / بھرتیاں اورمیرٹ

بھرتیاں اورمیرٹ


ہم نے جب ایم ایس سی کیا تو جنگ ستمبر کی وجہ سے بھرتیوں پر پابندی تھی پھر بھی کبھی نہ کبھی کوئی ضروری آسامی ایسی نکل آتی تھی کہ جس کے لئے عارضی بھرتی کر لی جاتی تھی۔ ہم پشاور یونیورسٹی کے تحت چلنے والے ایک سکول میں بحیثیت استاد کام کر رہے تھے۔یہ بھی ایک عارضی پوسٹ تھی اسی دوران اسلامیہ کالج میں ایک پوسٹ ہماری تعلیم کی نکلی ۔ ہم نے اپلائی کیا اور انٹرویو کے ایک دن پہلے مجھے معلوم ہو گیا کہ فلاں آدمی کو اس پوسٹ کے لئے سلیکٹ کر لیا گیا ہے۔ میں نے اپنے دوسرے دوست کو بتا دیا ۔ اس نے مجھے کہا کہ یار پھر تو انٹرویو کے لئے جانا ہی بے کار ہے۔ میں نے کہا یہ بات تو ہے مگر چلو ایک سال سے اپنے کلاس فیلوز سے ملاقات نہیں ہوئی اس انٹرویو کی وساطت سے دوستوں سے ملاقات ہی ہو جائے گی۔خیر وہ مان گئے ۔ انٹر ویو ہوا تو میرے دوست نے جس طرح انٹر ویو دیا اور جیسے اسکی تعلیمی قابلیت تھی وائس چانسلر صاحب بضد ہوئے کہ اس کو اس پوسٹ کے لئے رکھیں۔ مگر جب بتایا گیا کہ یہ پوسٹ تو فلاں کے لئے ہی نکالی گئی ہے اس لئے کہ اُس کی کالج کے لئے کافی خدمات ہیں ۔ وی سی صاحب ما ن توگئے مگر اس شرط پر کہ اس امیدوار کو جس بھی شعبے میں کوئی ویکنسی نکلی تو بغیر انٹر ویو کے رکھا جائے گا۔ یہ وہ دن تھے کہ جب بہت سی جگہوں پر میرٹ کا خیال رکھا جاتا تھا۔ اسی دوران ایک پوسٹ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں نکلی تو ہم اس کے لئے انٹر ویو کے لئے گئے۔انٹر ویو کے بعد ہمیں یقین تھا کہ ہماری پوسٹنگ ہو جائے گی مگر بعد میں معلوم ہوا کہ ہمارے ایک اور دوست کو وہ پوسٹ مل گئی ہے۔ اسی طرح کے ایک اور انٹر ویو کے لئے جب ہم گئے تو ہمارے پروفیسر صاحب جو انٹر ویو کے لئے آئے ہوئے تھے مجھے دیکھ کر حیران ہوئے اور فرمایا کہ کیا تمہیں پہلے والی پوسٹ نہیں ملی تھی۔ میں نے بتایا کہ اس پر فلاں کی اپوئنٹمنٹ ہو گئی تھی۔ انہوں نے فرمایا کی انٹرویو میں تو تم پہلے نمبر پر تھے۔

میں ہنس پڑا اور کہا کہ سر میں انٹرویو میں تو فرسٹ آ سکتا ہوں مگر سفا رش میں صفر ہوں۔ وہ تو اللہ بھلا کرے پبلک سروس کمیشن کا کہ انہوں نے ہماری ایڈہاک اپوائنٹمنٹ کردی جو بعد میں ریگولر بھی ہو گئی مگر اس میں ہمارے تین قیمتی سال ضائع ہو گئے۔ آج کل بھی جب نوکریوں کے رویئے دیکھتا ہوں تو مجھے اپنا وقت یاد آ جاتا ہے اور یہ بھی کہ جب آپ کو اپنا حق نہیں ملتا تو پھر بندہ کیا کیا کچھ سوچتا ہے۔ہم میں سوچنے اور کڑھنے کی تو صلاحیت تھی مگر اس سے آگے جانے کی ہمت نہ تھی مگر بہت ایسے ہیں کہ جب ان کو حق نہیں ملتا تو وہ حق چھیننے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی سے بات بگڑ تی ہے۔آج کل جب ہم داعش میں اور طالبان میں پڑھے لکھے لوگوں کی شمولیت کا سنتے ہیں تو فوراً ذہن اس طر ف جاتا ہے کہ جب ایک نوجوان کو اپنا حق نہیں ملتا تو وہ اپنا حق چھیننا چاہتا ہے اور اس کے لئے اُسے آج کل بہت سے مواقع مل جاتے ہیں۔اگر آپ کو بیس ہزار کی نوکری میرٹ پر نہیں ملتی اور ایک آفر آپ کو اسی نوے ہزار کی مل جاتی ہے اور اس کے ساتھ آپ کے گھر اور بہن بھائیوں کے تحفظ کی بھی ضمانت ملتی ہے تو آپ کیا کریں گے۔ہم جیسے بزدل تو بھاگ جائیں گے مگر جن کے دل اپنا حق نہ ملنے پر جلے ہوتے ہیں وہ پھر کسی کی پرواہ نہیں کرتے۔حال ہی میں جو ایک تنظیم کے کچھ لوگ کراچی وغیرہ میں پکڑے گئے اور معلوم ہو ا کہ وہ تو اچھے خاصے پڑھے لکھے تھے تو اداروں کا ماتھا ٹھنکا کہ یہ کیوں ہوا ہے ۔ کیونکہ اس سے قبل تو صرف دینی مدرسوں کو ہی بد نام کیا ہوا تھا کہ ان کے فارغ التحصیل طالبان وغیرہ جیسی تنظیموں میں چلے جاتے ہیں لیکن یہاں تو اچھے خاصے اعلیٰ تعلیمی ڈگریوں کے حامل لوگ ایک دہشت گرد تنظیم میں شامل ہو رہے ہیں مگر اس کو صحیح طور پر جانچا نہیں گیا آپ نے کچھ دہشت گرد مار دیئے ہیں مگر ان کی جڑوں کو نہیں نکالا ۔

آپ نے درخت کے ڈال کاٹے ہیں مگر اس کی جڑیں تومیرٹ کے قتل میں مضمر ہیں جب تک آپ اس خونی عمل کو نہیں روکیں گے آپکے نوجوان دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہوتے رہیں گے ۔ ایک بات اور کہ جو لوگ اس دہشت گرد تنظیم میں شامل تھے ان کا تعلق سندھ سے تھا اور سندھ میں جو دیہی اور شہری تفریق ہے اور جس طرح اس کو ایکسپلائٹ کیا جاتا ہے اسی کا شاخسانہ ہے کہ پڑھے لکھے نوجوان دہشت گرد بنتے جا رہے ہیں ۔ جب آپ میرٹ پر بھرتیاں کریں گے تو دہشت گردی خود بخود ختم ہو جائے گی۔