بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / کھلی کچہری ’’تازہ ہوا کا جھونکا‘‘ 

کھلی کچہری ’’تازہ ہوا کا جھونکا‘‘ 


یہ زیادہ دور کی بات نہیں ہے نہ صرف پشاور بلکہ خیبرپختونخوا کے عوام اس اذیت سے دوچار نہ تھے جیسی اب کچھ سالوں سے سہہ رہے ہیں اور خاص طور پر دس بارہ برس کے دوران تو عوامی مسائل اتنے بڑھے کہ لوگوں کی چیخیں ہی نکل گئیں اگر بات صرف پشاور کی کی جائے تو یہ پھولوں کا شہر تو کہلاتا ہی ہے تاہم بیس پچیس برس قبل تک یہاں کے مکینوں کو تمام بلدیاتی سروس بہترین انداز میں پیش کی جارہی تھیں۔ ابھی بھی لوگوں کے زہنوں میں محو ہے کہ کس طرح یہاں کے گلی کوچوں میں حتیٰ کہ بازاروں اور بڑی سڑکوں پر بھی علیٰ الصبح صفائی کا اہتمام کیا جاتا تھا نہ صرف میونسپل کمیٹی کا عملہ صفائی بہترین انداز میں جھاڑو لگاتا تھا بلکہ ساتھ ہی ساتھ بہشتی پورے علاقے میں پانی کا چھڑکاؤ تک کرتے تھے، سٹریٹ لائٹس کا مسئلہ ہو یا کوئی اور، فوری حل کردیا جاتا تھا، غرض عوام خوش تھے، مطمئن تھے، چاہے وہ بلدیاتی سروسز ہوں یا دیگر دیکھنے میں آتا تھا کہ اگر کبھی کبھار عملہ صفائی کا کوئی اہلکار غفلت کا مظاہرہ کرتا یا اس پر سستی طاری ہوجاتی تو اس پرفوری کاروائی کی جاتی تھی، بات زیادہ سیریز ہوتی تو اس پہ کھلی کچہری لگ جایا کرتی تھی۔ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کی موجودگی میں لوگ اپنی شکایات کا اظہار کرتے تھے، مسئلہ کی نشاندہی کے بعد اسی وقت اس کے حل کیلئے تجاویز بھی سامنے آتی تھیں اور باہمی مشاورت سے کوئی ایک حل نکال کر وہیں سے کام بھی شروع کردیا جاتا اور اس طرح عوامی مسئلہ یا مسائل موقع پر ہی حقیقی معنوں میں حل ہوجاتے تھے عوامی مسائل کے حل کی وجہ اس وقت کی کھلی کچہریاں ہوا کرتی تھیں، تاجروں اور مکینوں کی ان کچہریوں میں دلچسپی اور مسئلہ حل کرنے کا عزم بھی انھیں کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا کرتا تھا، میونسپل اہلکار بھی نہ صرف اپنی ڈیوٹی کے حوالے سے الرٹ رہتے تھے بلکہ دلجمعی سے کام کیا کرتے تھے، وہ جانتے تھے کہ غفلت یا لاپرواہی کا مظاہرہ کیا تو بھری کچہری میں نہ صرف بے عزتی ہو جائے گی بلکہ انتظامیہ کی جانب سے سرزنش کے بھی خطرات موجود ہوتے تھے، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کھلی کچہریوں کے وقتاً فوقتاً انعقاد کے باعث عوامی چھوٹے بڑے مسئلے حل ہو جایا کرتے تھے تاہم جب سے ناظمین کے عہد کی شروعات ہوئیں یعنی اس صدی کے آغاز سے ہی ان کھلی کچہریوں کا رواج ختم ہو کر رہ گیا، اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ جب آپ کے مسائل آپ کے گھر کی دہلیز پر حل کرنے والے آپ کے منتخب نمائندوں کا وجود سامنے آگیا تو اس کے بعد ان مسائل کا حل بھی انہی منتخب نمائندوں کی ذمہ داری میں آجاتا ہے،اس وجہ سے ان عوامی کھلی کچہریوں کا رواج دم توڑ گیا اب ہوا کیا؟ جب کھلی کچہریاں ختم ہوئیں تویہ منتخب نمائندے بھی لاغر ہوتے گئے عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جس جس یونین کونسل کا ناظم متحرک تھا وہاں کے مکینوں کو کسی قسم کا مسئلہ درپیش نہ تھا اور جہاں جہاں لاپرواہ قسم کے نمائندے سامنے آگئے وہاں کے رہائشی سرپیٹتے ہی رہے کئی برس تو اس میں گزر گئے کہ منتخب نمائندوں کو اپنے اختیارات کا علم ہی نہ ہو سکا مختلف ورکشاپس، تربیتی کورسز اور خاص طور پرایک ناظم کی دوسرے ناظم کی دیکھا دیکھی پہلے تو یہ نمائندے اپنے اختیارات کے بارے میں جان سکے اور جب انہوں نے اپنے اختیارات استعمال کرنا شروع کئے تب تک میونسپل اہلکار لاغر ہو چکے تھے یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ میونسپل ملازمین یا عملہ صفائی ناظم کے گھر، گلی اور دفتر کے سامنے تو خوب صفائی کرتا حتیٰ کہ پانی کا چھڑکاؤ تک کیا جاتا باقاعدگی سے گلی ، سڑک کے کنارے، نالیوں کے ارد گرد چونا تک ڈالا جاتا اور باقی کی یونین کونسل کو یونہی چھوڑ دیا جاتا یعنی باقی کے علاقے میں سرسری ہی کام کیا جاتا تھا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ عملہ صفائی نے ناظمین اور کونسلرز کو اپنے قابو میں کر لیا تھا عوام بے چارے ناظم کے دفتر جا کر چیختے تو تب ان کی فریاد سنی جاتی یعنی رفتہ رفتہ جو ریگولر کام تھے ان میں بے قاعدگی نظر آنا شروع ہو گئی تھی ناظمین کا زمانہ تھا اب بظاہر کھلی کچہریوں کی ضرورت ہی نہ تھی مگر دیکھنے میں آیا کہ جتنی ضرورت ان کھلی کچہریوں کی اس وقت یا اس وقت سے محسوس کی جا رہی ہے اتنی ضرورت پہلے کبھی نہ تھی آج عوام کے بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں بس ضرورت ہے ان کی نشاندہی کی اگر ناظمین ہی خود کھلی کچہریوں کا انعقاد شروع کر دیں اور عوام بھی ایک مرتبہ پھر ان میں اپنی وہی پرانی دلچسپی کا اظہار کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ مقامی سطح پر ہی عوامی مسائل حل نہ ہونے پائیں اس کے لئے بہت ضروری ہے کہ ایک مرتبہ پھر چوپال اور حجروں کو آباد کیا جائے یہ ناظمین اور دیگر منتخب نمائندوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ جب حکومت انہیں ایک پلان بنا کر دے تو بحیثیت عوامی نمائندہ اس پلان پر مکمل عمل درآمد کرائیں تاہم پھر بھی کوئی کمی بیشی ہو تو پھر عوام کو چاہئے کہ وہ نہ صرف اپنے ناظمین بلکہ سرکاری انتظامیہ کے افسران کو بھی اس بات پر مجبورکر دیں کہ ان کے علاقے میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا جائے اور اس میں تمام مسائل پیش کئے جائیں ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ جب عوامی کچہری لگے تو اس میں بے شک اپنے منتخب نمائندے کی غفلت ہو یالاپرواہی اس کا بھی اظہار کیا جائے کیونکہ عوامی اوپن کچہریوں کی افادیت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتاہے ان کی اہمیت آج بھی مسلمہ ہے یہ کھلی کچہریاں ہر دور میں ہوتی آئی ہیں خاص طور پر محمد خان جونیجو کے دور وزارت عظمیٰ کے دوران تو بہت زیادہ ہوا کرتی تھیں اس سے قبل بھی ان کا انعقاد تواتر کے ساتھ ہوتا رہتا تھا بزرگ شہری بتاتے ہیں کہ عوامی کچہریوں کا رواج انگریز دور حکومت سے ہی شروع ہو گیا تھا اور جب کبھی ڈپٹی کمشنر کے زیر صدارت کچہری لگتی تھی تو تمام حاضر سروس ملازمین وہاں موجود ہوتے تھے عوامی رائے کو کافی ترجیح دی جاتی تھی تقریباً سارے مسائل موقع پر ہی حل ہو جاتے تھے۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کے احکامات 
’’تازہ ہوا کا جھونکا‘‘ 
گڈ گورننس ہوگئی تو اس کے شروع ہوتے ہی عوام کے نصف سے زائد بنیادی مسائل حل ہو جائینگے
اب جبکہ صوبائی حکومت نے یہ بات محسوس کرتے ہوئے صوبے کے ہر ضلع میں عوامی شکایات کے ازالے کیلئے ایک نظام قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو اس بات کی امید پیدا ہوگئی ہے کہ بنیادی عوامی مسائل جن میں خاص طور پر اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کو برقرار رکھنا، مصنوعی مہنگائی، زخیرہ اندوزی، تجاوزات کے خلاف کاروائیاں کرنے کی ذمہ داری ڈپٹی کمشنرز کے سپرد کردی گئی ہیں اسی طرح ملاوٹ کی روک تھام محکمہ خوراک، محکمہ مواصلات کو غیر قانونی سپیڈ بریکرز ہٹانے، غیر معیاری ادویات وغیر قانونی میڈیکل سٹورز کے خلاف ایکشن محکمہ صحت لے گا، صوبائی حکومت کے دیگر احکامات کے ساتھ ساتھ چیف سیکرٹری کے احکامات مسائل کے مارے عوام کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا ہیں بتایا گیا ہے کہ اس طرح گڈ گورننس کا قیام عمل میں لانا ہے۔ اور یہ بات بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ گڈ گورننس کی ضرورت روز بروز بڑھتی جارہی تھی تبھی چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اعظم خان نے اس بات کو محسوس کرتے ہوئے صوبہ بھر میں کھلی کچہریوں کے انعقاد کے احکامات جاری کئے اور مقام شکر ہے کہ تادم تحریر صوبے کے ایک دو ضلعوں میں ایسی کچہریوں کی اطلاعات بھی سامنے آگئی ہیں، جب مسائل کی وجوہات اور حل کیلئے تجاویز ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے چیف سیکرٹری کو تین ہفتوں تک پہنچانے اور پھر وہاں سے پندرہ دن میں ہی حل نکالنے پر عملاً کام شروع ہوگا تو یقین کیجئے کہ کام شروع ہوتے ہی آدھے سے زیادہ بنیادی مسائل جن میں خاص طور پر سینی ٹیشن جیسا بڑا مسئلہ جس نے صوبہ بھر کو لپیٹ رکھا ہے۔ فوراً حل ہوجائے گا اسی طرح دیگر مسئلے بھی۔


ڈسٹرکٹ ناظمین خود ہی کھلی کچہریوں کا سلسلہ شروع کردیں 
منتخب نمائندوں خاص طور پر ناظمین کی فعالیت وقت کی بڑی ضرورت ہے
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جب شہری مسائل کے حل کے حوالے سے یونین کونسل کے منتخب نمائندے، ٹاؤن و ڈسٹرکٹ مبران کی جانب سے غفلت برتی گئی تو ساتھ ہی دیکھنے میں آیا کہ ان سے کسی نے پوچھا ہو یا مسئلہ کے حل کی جانب تو یہ دی گئی ہو، ایسے منتخب ڈسٹرکٹ ناظمین کی بھی تو ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ از خود ان باتوں کا نوٹس لیتے مگر ایسا نہیں کیا گیا ، چونکہ اب عوام کے بنیادی مسائل کافی حد تک بڑھ گئے ہیں یعنی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں تو اب ان عوامی کچہریوں کی افادیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اس لئے یہ بہت ضروری امر بن چکا ہے کہ ڈسٹرکٹ ناظمین از خود آگے بڑھیں اور اپنی خدمات کا سلسلہ ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے نہ صرف ہر یونین کونسل میں کھلی کچہریوں کا انعقاد کریں بلکہ یو سی ناظمین کی بھی وقفے وقفے سے کچہریاں لگانا ممکن بنائیں کہ اب اسی طرح عوام کی مشکلات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ اگر ناظمین ہی متحرک ہوگئے تو پھر اس سے بڑھ کر کسی چیز کی ضرورت ہی نہیں رہے گی کیونکہ مقامی سطح پر مسائل حل نہ ہوں تو بڑی کچہریوں کی ضرورت تو پڑتی ہے۔