بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / پھلتی پھولتی ٹیکنالوجی!

پھلتی پھولتی ٹیکنالوجی!


دنیا نے ذہانت کی اہمیت کو سمجھ لیا ہے جسکی ضرورت انسانوں اور مشینوں کیلئے یکساں اہم ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماہرین ایسے نصاب اور ذریعہ تعلیم پر زور دیتے ہیں جو مضامین کا ’رٹا‘ لگانے کی حد تک محدود نہ ہو‘ جس طرح انسانوں کی زندگی میں ذہانت ایک پرمعنی چیز ہے اسی طرح کمپیوٹرز بھی ذہانت ہی کے بل بوتے پر چلتے ہیں جسے ’آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ اصطلاحی طور پر ’آئی ای‘ یعنی مصنوعی ذہانت کہا جاتا ہے اور اس مصنوعی کہلانے والی ذہانت کی بنیاد پر انسانی دماغ کو مسخر کر کے اس سے کئی گنا زیادہ تیزی اور بیک وقت ایک سے زیادہ پہلوؤں پر سوچنے‘ سمجھنے اور پھر عمل کرنے یا نتیجہ تجویز کرنیوالے آلات تیار کئے جا رہے ہیں مصنوعی ذہانت 1960ء سے سائنس دانوں اور محققین کا پسندیدہ ترین موضوع رہا ہے اور تقریباً نصف صدی کے اس سفر میں تیز تر تحقیق کا یہ عالم ہے کہ آج انسان مصنوعی انسانی دماغ ’ایم مورٹیلیٹی ٹیکنالوجی‘کی تخلیق کے منصوبے کا آغاز کر چکا ہے‘ انٹرنیٹ کے جملہ وسائل جن میں گوگل‘ آئی بی ایم واٹسن‘ جدید مہلک ہتھیاروں کی دوڑ‘موبائل فون‘صنعتیں‘ معاشیات اور سماجی رابطہ کاری کے وسائل اسی مصنوعی ذہانت کے بل بوتے پر چل رہے ہیں لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت قابل بھروسہ نہیں اور یہ انسان کو ہر گزرتے دن اس کی اپنی تباہی کی جانب لے جا رہی ہے۔ جہاں انسان نے ابھی تک اپنے جیسے انسان کو پوری طرح نہیں سمجھا وہاں مشینوں کی مدد سے کس طرح کامیاب ہو سکتا ہے؟ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے سٹیفن ہاکنگ کا شمار دنیا کے ذہین ترین سائنسدانوں میں ہوتا ہے ۔

جن کی نظر میں دنیا کا سب سے بڑا معمہ خواتین ہیں۔ یہ تاثرات مصنوعی ذہانت یا روبوٹس پر پوچھے جانے والے سوالات کے گرد گھومتی بحث میں سامنے آئے‘ تاہم سٹیفن ہاکنگ نے دیگر موضوعات جیسے بگ بینگ تھیوری اور زندگی کی سب سے بڑی مسٹری پر بھی اظہار خیال کیا۔روبوٹس‘ یا مصنوعی ذہانت کے خطرے کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا مصنوعی ذہانت مسابقت کے حوالے سے حقیقی خطرہ ہے‘ ایک بہت زیادہ ذہین روبوٹ اپنے مقاصد کے حصول میں کسی بھی حد سے گزر سکتا ہے وہ جذبات سے عاری ہوتا ہے اور اس کیلئے اپنے مقصد کے حصول سے کوئی دوسری بات اہم نہیں ہوتی اگر ہم نے دنیا کو ایسی مصنوعی ذہانت رکھنے والی مشینوں کے حوالے کر دیا تو اس سے روزمرہ امور کی انجام دہی میں آسانیاں تو پیدا ہوں گی لیکن ان آسانیوں کی ہم انسانوں کو بھاری قیمت بھی چکانا پڑے گی لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مصنوعی ذہانت کو محدود رکھا جائے اور اس پر بڑھتے ہوئے انحصار کی بھی اخلاقیات طے کی جائیں ‘ سٹیفن ہاکنگ کا یہ خدشہ بے محل نہیں کہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس کی بدولت مشینیں مستقبل میں انسانوں کی جگہ لیں گی دنیا کے معروف سائنسدان نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ کبھی کوئی شخص ایسا مصنوعی ذہانت پر مشتمل پروگرام تیار کرے گا جو کہ خود کو بہتر کرتا چلاجائے گا اور بتدریج انسانوں پر حکمرانی حاصل کرلے گا انہوں نے کہا کہ اس کا نتیجہ زندگی کی نئی قسم کی شکل میں نکلے گا۔انکے بقول ’مجھے ڈر ہے کہ ’اے آئی‘ انسانوں کی جگہ سنبھال لے گی‘ اگر لوگ کمپیوٹر وائرسز (خودکار کمپیوٹر پروگرام) تیار کرسکتے ہیں‘توکبھی کوئی ایسا اے آئی بھی یقیناًڈیزائن کر ہی لیں گے‘ جو کہ خود کو بہتر سے بہتر بناتا رہے۔ خودبخود سیکھتا رہے اور اپنی تعداد بڑھانے کی صلاحیت کا حامل بھی ہو۔ اگر ایسی زندگی ایجاد کر لی گئی تو وہ گھڑی انسانوں کے خاتمے کی شروعات ہوگی۔

ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا کہ سٹیفن ہاکنگ یا دیگر ماہرین نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے اپنے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہو بلکہ کمپیوٹرز کی دنیا پر حکمرانی کو بھانپتے ہوئے پھلتی پھیلتی ٹیکنالوجی پر کنٹرول کرنے کے مشورے ہر طرف سے آ رہے ہیں تاکہ انسانی اقدار اور سماجی زندگی کو ختم ہونے کے خطرے سے بچایا جاسکے۔ انسانی نسل کو لاحق خطرات کو پہچاننا ذہانت کی نشانی ہے کیونکہ ’اے آئی‘ پروگرامز اتنے طاقتور ہوسکتے ہیں کہ غیر دانستہ طور پر انسانوں کی حکومت ہی نہیں بلکہ انکا وجود ہی ختم کردیں جو زیادہ تشویشناک بات ہے۔ کئی امریکی اور یورپی ماہرین جن میں سپیس شپ اور ٹیسلاکے بانی ’ایلون مسک‘ بھی شامل ہیں اسی طرح کے خدشات کا اظہار کرچکے ہیں اور وہ اس طرح کی ڈیجیٹل سپر ذہانت کو تشکیل دینے کے مخالفین میں شامل ہیں پاکستان کی سطح پر مصنوعی ذہانت ایک خاص موقع پر نصاب میں پڑھائی جاتی ہے اور ہمارے طلباء و طالبات اس میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ اسکی بنیاد پر مشینیں محدود پیمانے پر فیصلہ سازی کرنے لگتی ہیں حدود کا تعین ہونا چاہئے‘انسانوں پر مشینوں کی حکومت قائم کرنے کیلئے خود انسان جس قدر محنت کر رہے ہیں جبکہ اس سے نہایت ہی کم محنت اور قیمت میں ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹ کر ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کر سکتے ہیں جسے پھر مصنوعی ذہانت رکھنے والی مشینوں کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔