بریکنگ نیوز
Home / کالم / سعودی عرب احتساب

سعودی عرب احتساب


سعودی عرب میں اہم لوگوں کی گرفتاریوں کے بعد کرپشن کے خلاف جاری مہم کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے شہزادوں‘ وزراء اور تاجروں تک پھیلا دیا گیا جو سعودی عرب کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ کریک ڈاؤن کا یہ پہلا مرحلہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ اقدامات میں سے ایک ڈرامائی قدم ہے جو بین الاقوامی طور پر سعودی عرب کی موجودگی کا اعتراف کرانا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے گھر میں اپنی زیادہ طاقت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ سعودی عوام ابھی خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کی خوشیاں منانے میں مصروف تھے کہ عین اُسی وقت سعودی خاندان اور ریاست کے اندر اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ بحیرۂ احمر کے کنارے ریزورٹ منصوبے‘ کا اعلان بھی دنیا کے لئے حیران کن خبر تھی۔ ایک اور سرپرائز سعودی خواتین کو نئے سال کے آغاز پر اسٹیڈیم میں بیٹھ کر کھیلوں سے لطف اندوز ہونے کا اعلان تھا۔ اِن سب اقدامات کو سعودی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین ’’آئی واش‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ چار نومبر کی رات‘ سعودی عرب میں ایک شاہی فرمان کے ذریعے قائم ہونے والی ’انٹی کرپشن کمیٹی‘ نے شاہی خاندان کے گیارہ افراد سمیت درجنوں وزراء اور کاروباری شخصیات کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا۔کچھ حلقے اِسے کرپشن کے خلاف بڑی کاروائی قرار دے رہے ہیں تاہم یہ صرف اقتدار کی کشمکش نہیں بلکہ خطے میں اہم اسٹرٹیجک تبدیلیوں کی طرف اشارہ بھی ہے۔ اِس کارروائی کو‘ قطر بحران‘ لبنان کے تازہ سیاسی دھماکے‘ جیسے اہم عناصر سے الگ رکھ کر دیکھنا ایک نظری مغالطے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ جب شاہ سلمان نے جنوری دوہزار پندرہ میں تخت سنبھالا تو ریاست سے باہر شہزادہ محمد کو شاید ہی کوئی جانتا تھا۔

شاہ سلمان نے پہلے شاہی فرمان میں اپنے جانشینوں کا اعلان کیا۔ شہزادہ مقرن کو ہٹا کر شہزادہ محمد بن نائف کو ولی عہد جبکہ اپنے صاحبزادے شہزادہ محمد بن سلمان کیلئے نیا عہدہ تخلیق کیا اور انہیں ’نائب ولی عہد‘ بنادیا گیا۔ شہزادہ محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد کے علاوہ نائب وزیراعظم‘ وزیردفاع‘ دربارِ شاہی کا انچارج اور سعودی تیل کمپنی آرامکو کے بورڈ کا چیئرمین بھی بنایا گیا۔ سعودی عرب کا تیل سے انحصار ختم کرکے ریاست کو صنعت و کاروبار کی طرف لانے کے اعلانات کئے اور ساتھ ہی سفارتی سطح پر رابطے بڑھائے۔ ولی عہد بنتے ہی محمد بن سلمان نے شاہ سلمان تک اہم افراد کی رسائی بھی محدود کردی ۔ سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف مہم میں گرفتار تمام افراد اہم ہیں لیکن دو شہزادوں کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ سب سے پہلے شہزادہ الولید بن طلال‘ جو شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ٹرمپ دونوں کے بڑے اور کھلے ناقد ہیں۔ شہزادہ الولید بن طلال‘ محمد بن سلمان کے ویژن بیس سو تیس کی امریکی میڈیا میں کھل کر مخالفت کرتے رہے ہیں بالخصوص سعودی آرامکو کے حصص کی نیویارک اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے فروخت کے عمل کی شہزادہ ولید نے کھل کر مخالفت کی۔ امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ کاروباری تعلقات رکھنے والے شہزادہ ولید نے صدارتی الیکشن مہم کے دوران ٹرمپ کو امریکا کے لئے باعث شرمندگی قرار دیا‘ جس کا جواب ٹرمپ نے ٹویٹر پر دیتے ہوئے کہا کہ شہزادہ ولید باپ کی دولت کے بل پر امریکی سیاست میں مداخلت کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ مخاصمت کی تازہ مثال نیویارک کے سرمایہ کاروں کے وفد کی ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر سے ملاقات ہے‘ جس میں شہزادہ ولید بھی شامل تھے۔ شہزادہ ولید اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے درمیان اُس موقع پر تلخ کلامی بھی ہوئی۔ میڈیا کے کچھ حلقوں نے اِن سب عوامل کو بھی شہزادہ ولید کی گرفتاری سے جوڑا ہے۔ اِسی طرح شہزادہ متعب کی گرفتاری بھی اقتدار کی کشمکش کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے ‘ محمد بن سلمان نے العربیہ ٹی وی اور سعودی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں خطرے کی گھنٹیاں بجائیں۔ اُس انٹرویو میں محمد بن سلمان نے کھل کر غیر روایتی انداز میں اپنی پالیسیوں پر روشنی ڈالی تھی۔جس اِس کا اندازہ امریکی صدر کے دورہ ریاض اور اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے موقع پر ہونے والے معاہدوں سے ہوتا ہے۔ سعودی عرب نے امریکہ سے ایک عشرے کے لئے تین سو پچاس ارب ڈالر کا دفاعی سامان خریدنے کا معاہدہ کیا۔ ٹرمپ اِس معاہدے کو اپنے بڑی سفارتی کامیابی سمجھتے ہیں اور کسی قدر وہ حق بجانب بھی ہیں کیونکہ صدر اوباما کے دور میں سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار رہے اور تناؤ کی وجہ ایران کے ایٹمی معاہدے پر سمجھوتہ تھا جسے اوباما اپنی بڑی سفارتی کامیابی گردانتے ہیں۔ سعودی عرب میں اقدام جس تناظر میں بھی اٹھایا گیا اس کے اثرات یقیناًپورے خطے میں محسوس ہوں گے ، عالمی حالات کے اس ناز ک موڑ پر سعودی عرب میں استحکام پوری امت مسلمہ کیلئے اہم ہے اور ان حالات سے نکلنے کیلئے یقیناًدور اندیشی اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر یاسمین اکرم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)