بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / فاروق ستار کا سیاست چھوڑنے کا اعلان

فاروق ستار کا سیاست چھوڑنے کا اعلان


متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے پارٹی سمیت سیاست سے دستبرداری کا اعلان کردیا۔

کراچی میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ ’کل کی ملاقات کا فیصلہ مشاورت سے ہوا تھا، خواجہ اظہار الحسن، فیصل سبزواری، کامران ٹیسوری، کنور نوید جمیل سب سے مشاورت ہوئی، ایسا نہیں کہ میں نے فیصلہ مسلط کر دیا، سب کو اعتماد میں لیا تھا لیکن ایک طرف آپ کک ماریں اور دوسری طرف کارکنان مخالف ہوجائیں ایسا نہیں ہونا چاہیے، آپ جانیں آپ کی پی ایس پی جانے، آپ جانیں اور آپ کی رابطہ کمیٹی جانے۔‘

ان کا کہنا تھا ’میں نے آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آج سے 38 سال پہلے سندھ میڈیکل کالج میں شمولیت اختیار کی تھی، تاریخ کے اوراق میں میراسیاسی سفر محفوظ ہے، نشتر پارک کے جلسے سے ایم کیوایم عوامی جماعت بنی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’1968 سے لے کر اب تک پی آئی بی کا گھر ہی میری جائیداد ہے، میرے اس گھر میں بھائی بہن بھی حصہ دار ہیں، جبکہ مکان اوربینک اکاؤنٹ کےعلاوہ میری ڈائری بھی اپنی نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’1988 میں 27 برس کی عمر میں میئر کراچی بنا، 2 بار رکن سندھ اسمبلی اور پانچویں بار رکن قومی اسمبلی بنا، 92 کےآپریشن میں کارکنوں کے ساتھ رہا، آپریشن کے دوران 5 سال اسیری میں بھی گزارے، جبکہ ایک مقدمہ بھی این آر او کے تحت ختم نہیں کر وایا۔‘

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ روز پی ایس پی کے صدر مصطفیٰ کمال نے مفاہمتی فضا میں باریک کام کیا، گزشتہ روز پریس کلب میں مہاجروں کے مینڈیٹ کی تذلیل ہوئی، مصطفیٰ کمال نے لینڈ کروزر کا ذکر کیا، میں نے گاڑی خریدنے کے لیے 17 لاکھ روپے ادھار لیے جو چکانے ہیں، گاڑی کو بلٹ پروف کرانے کے لیے 40 لاکھ روپے میرے رکن قومی اسمبلی نے مجھے دیئے، اس کے برعکس مصطفیٰ کمال کی لینڈ کروزر سوا 3 کروڑ روپے کی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں نے اپنا حساب دے دیا، اب مصطفیٰ کمال اپنی گاڑی کا حساب دیں، مصطفیٰ کمال بتائیں سوا 3 کروڑ روپے کی گاڑی کیسے لی، مجھے علم ہے کہ مصطفیٰ کمال کی گاڑی کہاں سے خریدی گئی، پارٹی نے مصطفیٰ کمال کو گھر دیا تھا انہوں نے اس کے پیسے واپس نہیں کیے، وہ بتائیں کہ ان کے پاس خیابان سحر کا گھر کیسے آیا۔‘

فاروق ستار نے کہا کہ ’کل میں نے ایک الیکشن اتحاد کی بات کی تھی، لیکن کراچی ہو یا پاکستان انجینئرڈ سیاست نہیں چل سکتی، ہم پاکستان کے اندر پاکستان کی سیاست کرنے کھڑے ہوئے ہیں، جبکہ جو عوام کے دل پر راج کرے گا اسی کی حکومت ہوگی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایم کیو ایم کو ختم کرنے کی بات کی گئی، آپ پی ایس پی بنائیں یا حقیقی، جس نام پر جیتے ہیں اور مرتے ہیں اسے کیسے مٹا دیں گے، اپنے شہدا، اپنی قربانیوں کو کیسے بھلا سکتے ہیں، 23 اگست کے بعد ایم کیو ایم الطاف حسین کی نہیں رہی، 23 اگست کو بننے والی ایم کیو ایم پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کی ہے، ایم کیو ایم کہیں نہیں جارہی، یہ ایک حقیقت ہے جسے سب کو تسلیم کرنا پڑے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ تاثر بھی دیا جارہا ہے کہ پتہ نہیں میری پی ایس پی کی قیادت سے کتنی ملاقاتیں ہوئیں، مصطفیٰ کمال سے کبھی اکیلا نہیں ملا، انیس قائم خانی سے صرف ایک ملاقات ہوئی ہے، آج ان سے گلہ ہے کہ کل ہمارے دل دکھے، کیا جذبہ لے کر گئے تھے اور کیا صلہ ملا۔‘

سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ ’مصطفیٰ کمال کہتے ہیں کہ وہ مہاجروں کی سیاست نہیں کرنا چاہتے، وہ کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کی سیاست کر رہے ہیں تو میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ لاہور یا پشاور سے ایک بھی نشست جیت کر دکھادیں، اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اپنا جھنڈا اور نشان اپنے ہاتھوں سے دفن کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مہاجروں کا ذکر کرنا پاکستان کے استحکام کے لیے لازمی ہے، زندہ قومیں وہ ہوتی ہیں جو اپنے آباؤ اجداد کی قربانیاں یاد کرتی ہیں، ہم کراچی میں پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں، لندن قیادت کو آئین اور ریاست پاکستان کے لیے چھوڑا، کراچی کے امن کو دیرپا بنانے کے لیے اتحاد کا فیصلہ کیا، مہاجروں، مظلوموں کا ووٹ بینک تقسیم نہ ہو اس لیے اتحاد بنایا، کارکنان آپس میں محاذ آرائی سے گریز کریں اس لیے الحاق کیا، لیکن جو مہاجروں کو نہیں گردانتے ان سے کیسے الحاق کر سکتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’کراچی کے عوام کی اکثریت ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ ہے، ساتھیوں سے چندہ جمع کر کے 5 نومبر کو حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کرایا، جلسے کے بعد اعتماد ملا کہ تمام جماعتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلیں، دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو اپنی جگہ میں بھی آپ کو جگہ دینے کا فیصلہ کیا، جبکہ ہم نے کل ایک جماعت کو ساتھ چلنے کے لیے انگلی پکڑائی تھی۔‘

انہوں نے پاک سرزمین پارٹی کو ایک بار پھر ایم کیو ایم میں شامل ہونے کی دوبارہ پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ایم کیو ایم میں شامل ہوجائیں کیونکہ یہی آپ کی جڑ ہے۔‘