بریکنگ نیوز
Home / کالم / کرپٹ عناصر کا بائیکاٹ

کرپٹ عناصر کا بائیکاٹ


ایم کیو ایم پاکستان اور پاکستان سرزمین پارٹی کا اچانک آپس میں شیروشکر ہوجانا اور پھر چند گھنٹے بعد الگ ہو جانا وہ اہم باتیں ہیں کہ جن سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ اس ملک کی محب وطن غیر مرئی قوتیں سندھ کے عوام کی زرداری اینڈ کمپنی سے شاید جان چھڑوانا چاہتی ہیں‘ خدا لگتی یہ ہے کہ سندھ میں گزشتہ دس برس سے وہاں کے برسراقتدار طبقے نے بھی جی بھر کر بہتی گنگا میں اشنان کیا ہے‘ ادھر ایم کیو ایم والوں نے بھی یہ محسوس کرلیا تھا کہ انکے تقسیم ہوجانے سے سندھ ‘ خصوصاًکراچی میں آئندہ الیکشن میں ان کے سیاسی حریفوں کو ہی فائدہ ہوگا اور جو نشستیں ان کے پاس پارلیمنٹ میں ہیں وہ بھی انکے ہاتھ سے نکل سکتی ہیں لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ وہ دوبارہ آپس میں یک جان دو قالب ہوجائیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم کراچی میں اب بھی بعض سیاسی عناصر ایسے ہیں کہ جو فاروق ستار‘ مصطفی کمال اور عشرت العباد کی الطاف بھائی سے بے وفائی پر ان سے خفا ہیں‘ واقفان حال کا تو البتہ یہ بھی کہنا ہے کہ یہ سب کچھ جو فاروق ستار اور مصطفی کمال کررہے ہیں یہ ایک ٹوپی ڈرامہ ہے اور سردست وہ ایم کیو ایم کو مکمل بربادی سے بچانے کیلئے اپنے آپکو الطاف بھائی سے منحرف قرار دے رہے ہیں ‘۔

اس سنجیدہ سیاسی پیش رفت کیساتھ ساتھ اب ذرا امیرجماعت اسلامی سراج الحق صاحب کی اس تجویز پر دوچار باتیں ہوجائیں جو انہوں نے اگلے روز ایک سیاسی مجلس میں دی انہوں نے کہا کہ نیب کو چاہئے کہ وہ اپنے دفاتر کے قرب وجوار میں امراض قلب کے جدید ہسپتال کھول لے جس میں امریکی اور فرنگی ہارٹ فزیشنز اور ہارٹ سرجنز تعینات کردیئے جائیں کیونکہ نیب جس سیاسی رہنما کو کرپشن میں پکڑتی ہے اسے فوراً ہارٹ اٹیک ہوجاتا ہے اور وہ بھاگم بھاگ علاج کیلئے لندن یا نیو یارک دوڑتا ہے‘ اگر ایک اچھا ہسپتال نیب کے دفاتر کے نزدیک موجود ہوگا تو کم ازکم ان افراد کو بیرون ملک تو نہیں جانا پڑیگا گو سراج الحق صاحب نے یہ تجویز طنزاً دی ہے پر نیب کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے‘ ۔

پانامہ لیکس میں درج انکشافات کیاکم تھے کہ اب پیراڈائز لیکس کے نام سے بھی مزید ان آف شور کمپنیوں کے نام منظر عام پر آگئے ہیں کہ جن میں بھی درجنوں پاکستانی ملوث ہیں‘ سرمایہ دارانہ نظام کامکروہ چہرہ کھل کر سامنے آرہا ہے‘ اب لوگوں کوپتہ چل رہا ہے کہ کارل مارکس کی بعض باتیں واقعی سچ تھیں‘ اسکی کئی پیش گوئیاں درست ثابت ہورہی ہیں سرمایہ دارانہ نظام کے داعی افراد کن کن حربوں سے کالا دھن کماتے ہیں اور پھراس دھن کو عوام کی نظروں سے بچانے اور ٹیکسوں کی ادائیگی سے جان چھڑانے کیلئے کیسے کیسے پاپڑ بیلتے ہیں کیسے کیسے طریقے اپناتے ہیں پر اب انکا بھانڈا پھوٹ رہا ہے‘ وہ خداکی پکڑ میں آرہے ہیں اسی کو تومکافات عمل کہتے ہیں کیا کبھی وہ سوچ بھی سکتے تھے کہ ان میں کتنے لوگ اپنے اونچے اونچے مناصب سے محروم کردیئے جائیں گے‘ اس قسم کے لوگوں کی پاکستان میں تعداد دوتین ہزار کے قریب ہوگی انہوں نے ملکی وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے اور اب بھی ان کا پیٹ نہیں بھرا‘ اب بھی وہ اقتدار کی کرسی حاصل کرنے کے خواہاں ہیں یہ لوگ کسی طورپر بھی کسی نرمی یا رعایت کے مستحق نہیں‘ ان کا عوام مکمل طورپر سوشل بائیکاٹ کریں تو بہتر ہے۔