بریکنگ نیوز
Home / کالم / پہنچی وہیں پہ خاک

پہنچی وہیں پہ خاک


میڈیاکی خیر کہ بہت سے پروگرام جن سے لوگ استفادہ بھی کرتے ہیں اور حالات پر تبصرے اور ماہرین کے رائے سے بھی مستفید ہوتے ہیں سب کو ایک طرف چھوڑ کے تین چار گھنٹے محض یہ بتانے کے لئے ضائع کر دیئے کہ ایم کیو ایم پاکستان اورمصطفی کمال کی پا رٹی ایک دوسرے سے گلے ملنے جا رہی ہے‘اس یکجائی کو سابق صدرپرویز مشرف صاحب کی بھی تائید مل گئی‘ اس لئے نہیں کہ دو پارٹیاں یکجا ہونے جا رہی ہیں بلکہ اسلئے کہ مہاجر ایک ہو رہے ہیں۔ ویسے پی پی کی جانب سے ایک پیش گوئی بھی آ رہی تھی کہ دونوں مہاجر پارٹیاں یکجا ہو جائیں گی اور ان کا نام بھی بدل دیا جائے گا اور اس کی قیادت دبئی کے ہاتھوں میں ہو گی‘ شاید پرویزمشرف صاحب نے یہ پیش گوئی سن لی تھی اور اسی لئے ان کو اکٹھا ہونے پر مبارک با د دی کہ اب مہاجروں کی باگ ڈور ان کے اپنے پرویز مشرف کے ہاتھ میں جانیوالی ہے۔پرویز مشرف کی مسلم لیگ تو پھل نہ دے سکی اب اس اکٹھ کو وہ لیڈ کرنے کی خوشی میں مبارک بادیں دے رہے ہیں۔اب اللہ جانے فاروق ستا ر اور مصطفی کمال اس کو کس قدر اچھی نظروں سے دیکھیں گے ۔ بڑی مشکل سے مصطفی کمال نے مہاجروں کی باگ ڈور سنبھالی تھی اور ان کو ایک یکجائی کے ماحول میں لے جا رہے تھے کہ کراچی صرف مہاجروں کا نہیں اس میں ملک کی ساری ہی قومیں آباد ہیں اسلئے یہاں صرف مہاجروں کی سیاست نہیں چلے گی ۔ اس کے لئے ساری قوموں کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔مگر وہ لوگ جو صرف مہاجروں کے سر پر سیاست کر رہے تھے وہ بہت ناراض ہیں ۔ کئی ایک نے تو اس اکٹھ سے لا تعلقی کا بھی اظہار بھی کر دیا ہے‘ اب نہ جانے کتنے اور ہیں جو اس اکٹھ سے جدا ہونے کو پر تول رہے ہیں۔

شاید یہی وجہ تھی کہ یہ اکٹھ ایک دن بھی نہ چل سکا‘ ادھر زرداری صاحب بھی اپنا جال لئے مہاجروں کو شکار کرنے نکل کھڑے ہوئے ہیں اور بہت سے مہاجر لیڈر ان سے رابطے میں بھی ہیں اور جلد ہی وہ پی پی پی جائن کرنے کا اعلان بھی کر نے والے ہیں۔اور اگر ایسا ہوا تو کہا جا سکتا ہے کہ ایم کیو ایم جس کیلئے مصطفی کمال نے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ الطاف حسین کی پارٹی تھی ، ہے اور رہے گی۔ اس لئے اُن کی پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان ایک ہونے جارہی ہیں اور اب ایم کیو ایم باقی نہیں رہے گی اور یہ دونوں پارٹیاں ایک سمبل‘ ایک جھنڈے اور ایم پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لیں گی اور جس طرح الطاف حسین مہاجروں کو مروا رہے تھے اب ایسانہیں ہو گا ان دونوں رہنماؤں کو کہا ں تک کامیابی ملتی ہے اس کا تو آگے جا کر ہی پتہ چلے گا اس لئے کہ اسی وقت ستار فاروق نے کہہ دیا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کہیں نہیں جا رہی ان دونوں جماعتوں کا اکٹھ صرف الیکشن کے لئے ہے۔ یعنی پہلی اینٹ رکھتے ہی دیوار میں رخنہ آ گیا ہے۔ ادھر ایم کیو ایم کے بہت سے ذمہ داران کو تحفظات ہیں کہ ان سے تو مشورہ ہی نہیں کیا گیا ۔ ہوسکتا ہے کہ ایم کیو ایم مزید حصوں میں بٹ جائے‘ اگر دیکھا جائے تو ستار فاروق نے اپنی پارٹی کو بچانے کے لئے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے اس لئے کہ پارٹی کے اچھے اچھے لیڈر پارٹی کو چھورڑکر مصطفی کمال کا دامن تھام رہے ہیں اور اس عمل میں جس طرح تیزی آ رہی ہے اس کے لئے یہی بہتر تھا کہ ایک ہی چھتری تلے آ جائیں‘۔

اگر یہ اتحاد کامیاب ہو جاتا اور دونوں پارٹیا ں یکجا ہو کر سیاست میں کراچی کے ووٹ اکٹھے رکھ سکتی ہیں یا نہیں‘ اس لئے کہ زرداری صاحب بھی اپنے پورے سیاسی تدبر کیساتھ کراچی کو اپنی گرفت میں لینے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور اس میں بڑی حد تک کامیاب بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس لئے کہ ایم کیو ایم کے بڑے بڑے نام زرداری صاحب سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور زرداری صاحب سے جس نے ایک دفعہ ملاقات کر لی سمجھو کہ وہ ان ہی کا ہو گیا ۔ اس لئے کہ زرداری صاحب کی میٹھی زبان ہر ایک کو قائل کر لیا کرتی ہے۔ ادھر مسلم لیگ ن کے لیڈروں کو عدالتیں ریلیف دینے کے موڈ میں نظر نہیں آتیں اس لئے اس جماعت میں بھی دراڑوں کی اطلاعات آ رہی ہیں۔ادھر عمران خان بھی نا اہلی کی زد میں ہیں گو سپریم کورٹ ان کے ساتھ بہت ہی نرمی کا سلوک کر رہی ہے مگر کیا پتہ وقت کیا کچھ دکھا نے کی موڈ میں ہو۔تو صرف پی پی پی ہی رہ جاتی ہے کہ اب تک اس کے لیڈروں کو عدالتیں بلانے کے موڈ میں نظر نہیں آتیں۔