بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / حسن اورحسین نواز کے اثاثے قرق کرنے کے حکم

حسن اورحسین نواز کے اثاثے قرق کرنے کے حکم


 اسلام آباد: احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹوں حسن اور حسین نواز کے اثاثے قرقی کرنے کے احکامات جاری کردیے۔

نیب نے حسین نواز کے چار بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی احتساب عدالت میں جمع کرادیں۔۔ فوٹو: فائل

احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹوں حسن اور حسین نواز کے خلاف نیب کی جانب سے دائر کردہ العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ نیب کی جانب سے حسن اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دینے کی تعمیلی رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی۔

سماعت کے دوران فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنس میں تفتیشی افسر محمد کامران، العزیزیہ اسٹیل ملز کے تفتیشی افسر محبوب عالم اور ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے اپنے بیانات قلمبند کرادیے۔ احتساب عدالت نے مزید سماعت کل تک ملتوی کردی جس کے باعث ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کا عمل کل مکمل کیا جائے گا۔ عدالت نے حکم دیا کہ تفتیشی افسر ملزمان کی جائیداد قرق کرنے کا حکم نامہ آج لے کر جائیں۔

تفتیشی افسر محمد کامران نے عدالت کو بتایا کہ حسن اور حسین نواز کی بذریعہ اشتہار طلبی کے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرایا گیا۔ دونوں مفرور ملزمان کے اشتہارات رہائش گاہوں کے باہر اور عدالتی نوٹس بورڈ پر آویزاں کیے گئے۔ ملزمان کی طلبی کی خبریں بھی تمام میڈیا میں رپورٹ ہوئیں اور متعلقہ تھانوں میں اندارج بھی کرایا گیا۔

رائے ونڈ روڈ پر اعلانات بھی کرائے گئے اور لندن میں ایون فیلڈ پراپرٹیز پر آویزاں کرنے کے لیے نوٹس بذریعہ فارن آفس بھجوائے گئے۔ تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ تمام قانونی تقاضے پورے کردیے گئے، حسن اور حسین نواز جان بوجھ کر مفرور ہیں لہذا انہیں اشتہاری قرار دیا جائے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب کی جانب سے حسین نواز کے چار بینک اکاؤنٹس کی تفصیل بھی عدالت میں پیش کی گئی ہیں جس کے مطابق حسین نواز کے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک میں چار اکاوٴنٹس ہیں اور رقم بھی موجود ہے۔ ایک بنک اکاوٴنٹ میں 3992 ڈالرز اور دوسرے میں 4272 یورو موجود ہیں۔ حسین نواز کے تیسرے بنک اکاونٹ میں 207.53 پاوٴنڈز اور چوتھے اکاونٹ میں 382381 روپے موجود ہیں۔

احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹوں حسن اور حسین نواز کے اثاثے قرقی کرنے کے احکامات جاری کردیے جس کے بعد ایس ای سی پی کے فراہم کردہ شیئرز اور بینک اکاونٹس سمیت دیگر پراپرٹی قرق کی جائے گی۔