بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / خاموش احتجاج!

خاموش احتجاج!


پاکستان تحریک انصاف کیلئے یہ امر یقیناًباعث اطمینان و مسرت ہے کہ پشاور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے فور کا ضمنی معرکہ اس نے بہرحال جیت کر اس تاثر کی نفی کر دی ہے کہ پشاور پر اس کی مقبولیت ماضی کے مقابلے کم ترین سطح پر ہے تاہم بیشتر دیہی علاقوں پر مشتمل صوبائی دارالحکومت کے اس حلقے میں رہنے والوں کے دل جیتنے کا مرحلہ ابھی باقی ہے! چھبیس اکتوبر کے روز ہوئی پولنگ میں این اے فور کے تین لاکھ ستانوے ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز میں سے ایک لاکھ تینتیس ہزار سے زائد نے حق رائے دہی میں حصہ لیا اور پولنگ کی مجموعی شرح 33.67فیصد رہی‘ کسی انتخابی حلقے کی اکثریت اگر عام انتخاب میں اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کرتی اور پولنگ کے روز اس عمل سے الگ رہنے میں عافیت سمجھتی ہے تو جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کو اس خاموش اکثریت کے جذبات کا احساس کرتے ہوئے ووٹ نہ دے کر خاموش احتجاج کی اہمیت کو بھی سمجھنا چاہئے۔ آخر کیا وجہ ہے عمومی طور پر ہر انتخابی حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی بڑی تعداد ووٹ دینے کی زحمت گوارہ نہیں کرتی جیسا کہ این اے فور پر ساٹھ فیصد سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز کا طرزعمل دیکھنے میں آیا‘ سیاسی جماعتیں اپنے ماضی انتخابی منشور اور مسائل کے حل بارے ترجیحات کی بنیاد پر نہیں بلکہ مدمقابل امیدواروں کی خامیوں اور ماضی کے ہر ایک چھوٹے بڑے داغ کو بطور طعنہ اچھال اچھال کر ووٹ مانگتی ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت نے شعبۂ تعلیم کی کارکردگی پر نظر رکھنے کیلئے ایک خودمختار نگران ادارہ انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ قائم کیا‘تاکہ تعلیمی اصلاحات کو تیزرفتار بنایا جاسکے‘ اس نگران ادارے کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق این اے فورکے حلقے میں سرکاری سکولوں کی کل تعداد 469 ہے جن میں 242 سکولوں بغیر بجلی کے فعال ہیں۔ تعلیم کے بارے میں سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ ساز ائرکنڈیشنڈ کمروں اور گاڑیوں سے استفادہ کرتے ہیں۔

لیکن سرکاری وسائل اس قدر بھی نہیں کہ زیرتعلیم بچوں کو ایک پنکھے جیسی آسائش ہی فراہم کی جائے! تحریک انصاف کے نامزد امیدوار ارباب عامر ایوب نے 45ہزار734 ووٹ حاصل کرکے اپنے مدمقابل ’عوامی نیشنل پارٹی‘ کے خوشدل خان کو شکست دی جنہیں 24 ہزار 874 ووٹ ملے لیکن انتخاب میں شکست سے اُن کی اہمیت ختم نہیں ہوتی اور اگر تحریک انصاف کے مدمقابل اُمیدواروں کو ملنے والے تمام ووٹوں کو جمع کیا جائے تو انکا شمار کامیاب قرار پانے والے ارباب عامر سے زیادہ بنتا ہے! سوال یہ بھی ہے کہ جس اِنتخابی حلقے کے قریب نصف سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہو‘ وہاں صوبائی حکومت کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرنے والے ووٹرز کون ہیں؟ کیا یہ سیاست برائے سیاست ہو رہی ہے یا ووٹ کارکردگی کے احتساب کا جمہوری ذریعہ ہے؟ کیونکہ اگر مذکورہ انتخابی حلقے میں صوبائی حکومت کی کارکردگی پیش نظر ہوتی تو تحریک انصاف کے نامزد امیدوار کی کامیابی یوں اور اس قدر ووٹوں کے فرق سے یقینی نہ ہوتی؟تفصیلات غورطلب ہیں کہ این اے فور کے جن 277 سرکاری سکولوں میں برقی رو نہیں‘ ان میں 59 فیصد طلباء اور 41 فیصد طالبات کیلئے مخصوص تعلیمی ادارے ہیں جن میں 382 پرائمری‘ 33 مڈل‘ 40 سیکنڈری اور 9 ہائر سیکنڈری سکولز شامل ہیں لیکن ایسا نہیں کہ اِن سکولوں میں صرف بجلی ہی نہیں بلکہ 76 سرکاری سکول ایسے ہیں کہ جن میں پینے کا پانی دستیاب نہیں۔ 43 سکولوں میں بیت الخلاء اور 30 سکولوں کی چاردیواریاں تاحال تعمیر نہیں ہو سکی ہیں!

جب ہم بنیادی سہولیات کے فقدان کا ذکر کر رہے ہیں تو انکی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان سکولوں میں 1 لاکھ 10 ہزار طلباء و طالبات زیرتعلیم ہیں جن میں 61 فیصد لڑکے ہیں! پشاور کے دیہی علاقوں میں زیرتعلیم لڑکیوں کی تعداد بھی نمایاں طور پر کم دکھائی دیتی ہے اور اس کے کئی محرکات میں وہ سماجی دباؤ اور این اے فور میں امن و امان کی عمومی و خصوصی صورتحال بھی ہے جس میں بہتری کا دعویٰ تو کیا جاتا ہے لیکن اس کے مکمل معمول پر نہیں آ سکی ہیں۔ تین اطراف میں قبائلی علاقوں سے متصل پشاور کے وسطی علاقوں میں بھی امن و امان کا تعلق انہی کوششوں کی کامیابی پر منحصر ہے۔این اے فور کے ضمنی انتخاب میں کامیاب ہونیوالے ارباب عامر بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ان کا حلقہ خاطرخواہ ترقی اور بالخصوص تعلیمی سہولیات کے تناسب و موازنے سے محروم ہے‘ تاہم وہ عزم رکھتے ہیں کہ رہی سہی کسر پوری کریں گے اور اس سلسلے میں انہوں نے مختلف حکومتی محکموں سے گذشتہ چار برس کے دوران مکمل ہوئے یا زیرتعمیر ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات طلب کر رکھی ہیں۔