بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاسی خاندان : بیٹیا ں اور داماد

سیاسی خاندان : بیٹیا ں اور داماد


اپنی شہرت کے عروج کے عرصے میں جنوبی ایشیاء کے دو عظیم ترین سیاستدان اور ایک دوسرے کے شدید مخالف بالکل یکساں ذاتی صدمے سے نمٹنے کی کوشش کر رہے تھے‘ان دونوں سیاسی رہنماؤں کو اپنی بیٹیوں سے بے پناہ محبت تھی مگر ان کے داماد انہیں دکھ دینے والے تھے‘ لبرل پرورش پانے والے ان رہنماؤں کا اپنے دامادوں کے ساتھ گھلنا ملنا مشکل نہیں ہونا چاہئے تھا مگر انہیں بے چینی کے سوا کچھ نہ ملا‘ جناح کی واحد بیٹی دینا نے 1938ء میں نیول واڈیا سے شادی کر لی۔ نہرو کی اکلوتی اولاد اندرا نے 1942ء میں فیروز گاندھی سے شادی کر لی۔ دینا نیویارک میں دو نومبر کو اٹھانوے برس کی عمر میں وفات پا گئیں۔ وہ اندرا سے دو سال چھوٹی تھیں جنہیں ستاسٹھ برس کی عمر میں 1984ء میں قتل کر دیا گیا تھا۔ دونوں بیٹیوں نے اپنے والدین کی مرضی کے خلاف محبت کی شادیاں کیں اور دونوں اپنے شوہروں کے ساتھ زیادہ دن نہیں رہ پائیں۔ دینا اور نیول کا ایک بیٹا نصلی اور ایک بیٹی ڈیانا تھی‘ یہ جوڑا 1943ء میں علیحدہ ہوگیا تھا مگر باقاعدہ طلاق کبھی نہیں ہوئی۔ اندرا اور فیروز گاندھی کے دو بیٹے راجیو اور سنجے گاندھی تھے‘ ان کے باہمی اختلافات نے ان کی ساٹھ کی دہائی کی سیاست میں کردار ادا کیا یہاں تک کہ فیروز اڑتالیس برس کی عمر میں چل بسے۔

سوئیڈش صحافی برٹل فاک‘ جنہوں نے دہلی میں فیروز گاندھی پر اپنی تازہ کتاب پر حال ہی میں بات کی‘ کے مطابق نہرو کے داماد نایاب جمہوریت پسند تھے‘فاک کے مطابق ’’جب نہرو نے 1959ء میں اندرا کے دباؤ میں آ کر کیرالہ کی کمیونسٹ حکومت کو ختم کر دیا تو فیروز اور اندرا کی سخت لڑائی ہوئی۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ یہ معاملہ وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ ’تین مورتی بھون‘ میں ناشتے کی میز پر زیرِ بحث آیا۔ اس وقت رائے بریلی سے کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ فیروز نے مبینہ طور پر اندرا سے کہا تھا: ’’یہ بالکل بھی درست نہیں ہے۔ تم لوگوں کو ہراساں کر رہی ہو۔ تم فاشسٹ ہو۔‘‘ فاک لکھتے ہیں کہ نہرو پریشان نظر آئے مگر غصے میں بھری اندرا نے جوابی حملہ کیا: ’’تم مجھے فاشسٹ کہہ رہے ہو؟ میں یہ برداشت نہیں کر سکتی۔‘‘ فاک کے مطابق اندرا نہرو کو کمزور فیصلہ لینے کی قوت سے عاری سمجھتی تھیں۔ اندرا گاندھی نے اپنی امریکی دوست ڈوروتھی نورمن کو لکھا تھا کہ ’’انہوں (نہرو) نے شروع سے بہت زبردست قیادت کی ہے مگر وہ آمریت یا اپنے سینئر ساتھیوں کی رائے کو سختی سے مسترد کرنے کے قابل نہیں ہیں۔‘‘ ناشتے کی میز پر ہونیوالی اس لڑائی کے بعد فیروز نے پارلیمنٹ میں کانگریس کے ارکانِ پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کمیونسٹوں کا اثر ختم کرنے کیلئے اندرا کے بھڑکانے پر نائر سروس سوسائٹی کو قابو میں لانے کے اقدامات پر سوال اٹھایا۔ فاک کے مطابق فیروز نے کہا کہ: ’’کانگریس کہاں ہے؟

کانگریس کے اصول کہاں ہیں؟ کیا ہم اپنے بنائے ہوئے ذات پات کے عفریت کے احکامات پر چلیں گے؟‘‘ جب دِینا نے نیول سے شادی کی تو باوجود اس کے کہ انہوں نے خود بھی ایک پارسی (جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا) سے شادی کی تھی‘ جناح غصے سے آگ بگولہ ہوگئے تھے۔ اپنی کتاب: مسٹر اینڈ مسز جناح: دی میرج دیٹ شوک انڈیا‘ میں مصنفہ شیلا ریڈی لکھتی ہیں کہ ’’جناح نے دِینا کی نیول سے شادی کو سنگین سیاسی بدنامی کے طور پر دیکھا۔‘‘ ریڈی لکھتی ہیں کہ ’’انہوں نے انہیں (دِینا) کو اس بات سے ہٹانے کی کوشش کی مگر جب انہیں اس پر قائم پایا‘ تو انہیں قطع تعلق کی دھمکی دے دی مگر انہوں نے بھی جھکنے کی بجائے اپنی نانی کے گھر کا رخ کر لیا اور اس شادی کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔‘‘ کہا جاتا ہے کہ دِینا اور نیول 1943ء میں الگ ہوگئے تھے مگر باقاعدہ طلاق کبھی بھی نہیں ہوئی۔ جب اُنیس سو اکتالیس میں یہ افواہ پھیلی کہ جناح اپنا بمبئی والا گھر فروخت کر رہے ہیں تو دینا نے ’’پیارے پاپا‘‘ کے نام طویل خاموشی کے بعد ایک خط لکھا۔ اٹھائیس اپریل 1941ء کو لکھا گیا یہ خط ریڈی نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ لکھا ہے کہ: سب سے پہلے میں آپ کو پاکستان حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرنا چاہتی ہوں یعنی کم از کم اصولی طور پر اس کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔

مجھے آپ پر فخر اور آپ کیلئے خوشی ہے۔ آپ نے اس کیلئے بہت زیادہ محنت بھی کی ہے۔‘‘ پھر دِینا اپنی بنیادی دلچسپی کے امر پر آتے ہوئے لکھتی ہیں: ’’میں نے سنا ہے کہ آپ نے ’جنوبی صحن‘ دالمیا کو بیس لاکھ روپے میں فروخت کر دیا ہے۔ یہ بہت زبردست قیمت ہے اور آپ بہت خوش ہونگے‘ اگر آپ نے (اسے) فروخت کر دیا ہے تو میں آپ کو ایک مشورہ دینا چاہتی ہوں۔ اگر آپ اپنی کتابیں منتقل نہیں کر رہے تو میں رتی کی چند پرانی شاعری کی کتابیں بائرن شیلی اور آسکر وائلڈ کی سیریز کی کتابیں لے سکتی ہوں؟‘‘ جناح کا جواب بس گھر کی فروخت کو ایک ’’بے بنیاد افواہ‘‘ قرار دینے تک محدود تھا اور انہوں نے بیٹی سے کوئی بھی بات یا سلسلۂ کلام شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کردیا۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: جاوید نقوی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)