بریکنگ نیوز
Home / کالم / آئینی جمہوریت

آئینی جمہوریت


اسلامی مملکت پاکستان ایک آئینی جمہوریت ہے جسکی تعریف ایک ایساحکمرانی کا نظام ہوتا ہے جس میں عوام کی رائے سے منتخب ہونے والوں کو بالادستی حاصل ہوتی ہے اور وہ مملکت کے جملہ فیصلوں اور وسائل سے متعلق حکمت عملی مرتب کرتے ہیں لیکن یہ طرزحکمرانی ایک قانون کا پابند ہوتا ہے اور اگرچہ منتخب ہونے والے اپنے فیصلوں میں آزاد ہوتے ہیں لیکن انکے فیصلے آئین کے پابند ہوتے ہیں اور اختیارات لامحدود ہونے کے باوجود بھی محدود ہوتے ہیں‘جن پر حاکم قانون ہوتا ہے۔آئینی جمہوریت کا بنیادی جز آئین ہوتا ہے اور آئین کی پاسداری حکمرانی جیسی ذمہ داری ادا کرنے والوں کی پہلی ترجیح ہوتی ہے‘ اسی سے حاصل ہونے والے اختیار کو سیاسی اختیار کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے جسے حکومت کی طاقت بھی کہا جا سکتا ہے اور اسکا احتساب کرنے کیلئے آئین سے رہنمائی لی جاتی ہے‘ آئین کو سامنے رکھتے ہوئے ہی اختیارات کا تعین کیا جاتا ہے اور اسی کے تحت 1: حکومت کی طاقت کو بیان کیا جاتا ہے اور اسکی حدود مقرر ہوتی ہیں 2: اسی کے ذریعے سیاسی اختیار کی تعریف اور تعین ہوتا ہے جو کہ حکومت کا بنیادی و اہم کام ہے۔ سیاسی سماجیات کا پہلا اصول یہ ہے کہ حکومت کی حدود اور اختیارات کو طے کیا جائے اور پھر طے شدہ اصولوں کے مطابق حکومت کے جملہ ادارے کام کریں گے۔

آئینی جمہوریت کا دوسرا بنیادی حصہ ’جمہوری جزئیات‘ ہوتے ہیں۔ جن میں سیاسی اختیار کا استعمال کیا جاتا ہے اور دوسرا ان اختیارات کے تعین اور حصول کو طے اور یقینی بنایا جاتا ہے‘ اسکا اطلاق ان کرداروں پر ہوتا ہے جنہیں سیاسی اختیار حاصل ہوتا ہے‘اسلامی مملکت پاکستان ایک آئینی جمہوریہ ہے‘ قانون کے تحت پاکستان کے ووٹرزاپنے رہنماؤں کا چناؤبذریعہ عام انتخابات کرتے ہیں۔ آئین کے تحت عدالتوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عوام کے منتخب رہنماؤں کی کارکردگی اور کردار کا احتساب کریں اور انہیں نااہل قرار دے سکیں۔ وہ رہنما جنہیں عوام براہ راست منتخب کرتے ہیں انہیں عدالتیں نااہل قرار دے سکتی ہیں اور جن کو عدالتیں نااہل قرار دیں وہ بذریعہ ووٹ خود کو اہل قرار نہیں دلوا سکتے۔ آئینی جمہوریت میں رہنماؤں کا انتخاب بذریعہ ووٹ اور ان منتخب رہنماؤں کا احتساب بذریعہ عدالت ہوتا ہے اور یہ دونوں نظام ایک دوسرے کیساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ آئینی جمہوریت میں جہاں ووٹ کے ذریعے منتخب ہونے کا عمل ضروری ہے اسی طرح عدالت کے ذریعے منتخب رہنماؤں کو آئین کا پابند بنانا بھی ضروری ہوتا ہے۔پاکستان کی جمہوری آئینی ریاست کے انتظامی ڈھانچے پر غور کریں۔ 193 رکن ممالک پرمشتمل اقوام متحدہ ایک عالمی ادارہ ہے اور اسکے تمام رکن ممالک میں صرف ایک ملک ایسا ہے جس میں قانون ساز ایوانوں نے ایک ایسا قانون منظور کیا ہے جسکے تحت عدالتوں سے نااہل قرار پانیوالا شخص سیاسی جماعت کی صدارت کرنے کیلئے اہل قرار دیا گیا ہے‘ دنیا کے کسی ملک ماسوائے پاکستان کے قانون ساز ایوانوں کے اراکین نے ایسا کوئی بھی قانون منظور نہیں کیا جو عدالتوں سے متصادم ہو۔

پاکستان کے لئے یہ منفرد اعزاز کسی بھی طرح قابل فخر نہیں کہ ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں خود کو آئین و عدالتوں سے ماوراء سمجھتی ہیں اور جمہوریت ایک ایسے نظام کو کہا جاتا ہے جس میں سیاستدان خود کو کسی کے سامنے جوابدہ نہ سمجھیں ان پر قوانین اور آئین کا اطلاق نہ ہو اور جو کچھ ان کے جی میں آئے وہ کرتے پھریں اور کوئی بھی ان سے پوچھنے والا نہ ہو۔ جمہوریت کی تالی کو صرف ایک ہاتھ سے بجانے کی کوشش کرنیوالے پاکستانی سیاست دان جگ ہنسائی کا باعث بنے ہیں!کیا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس بات کا تصور کیا جاسکتا ہے کہ اسکا وزیرخزانہ مفرور قرار دے دیا گیا ہو۔ ایک ایسا وزیرخزانہ جس پر مالی بدعنوانیوں اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے جیسے الزامات عائد ہیں اور جسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے اور جس کے اثاثے قومی تحویل میں لیکر ملک کا وہ قرض ادا کیا جائے‘ جو عوام کی بہبود پر خرچ نہیں ہوا۔ آئین ملکی امور کا اختیار وزیراعظم اور وفاقی وزراء کو دیتا ہے لیکن یہ عہدیدار اپنے حصے کی ذمہ داریاں کماحقہ ادا نہیں کر رہے اور اس آئین کی پاسداری نہیں کی جا رہی‘ جو امور مملکت کے شفاف انداز میں چلنے کی ضمانت ہے۔ یہ کہنا بیجا نہیں ہوگا کہ پاکستان ایک آئینی جمہوریہ تو ہے لیکن یہاں آئین کیساتھ ٹکراؤ جیسی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے اور عدالت کے اختیار اور آئین کی بالادستی کو سیاسی و ذاتی مفادات کے سرنگوں کر دیا گیا ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)