بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پن بجلی منافع اور اس کا استعمال

پن بجلی منافع اور اس کا استعمال


وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے 34ارب روپے اگلے ماہ کی 10تاریخ تک ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے‘ اس کے ساتھ مشترکہ مفادات کونسل کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں اے جی این قاضی فارمولے کے مطابق بجلی کے خالص منافع پرمعاہدے کا عندیہ بھی دیاجارہا ہے‘ یہ بھی کہاجارہا ہے کہ نیٹ ہائیڈل پرافٹ کا حجم 150ارب روپے تک پہنچ جائے گا‘ بجلی آمدن کی مد میں خیبرپختونخوا 92ارب روپے پہلے ہی وصول کرچکا ہے‘ وفاقی حکومت چشمہ رائٹ بنک کینال کی منظوری کیساتھ گیس کے ذخائر سے استفادہ میں سوئی ناردرن گیس کمپنی کی جانب سے اخراجات برداشت کرنے کی یقین دہانی بھی کراچکی ہے‘ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ صوبے کو بجلی منافع کی مد میں پہلے 6ارب روپے ملتے تھے جو اب 150ارب ہوجائیں گے‘ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں ہونے والے فیصلے قابل اطمینان سہی تاہم ماضی میں ہونے والے متعدد اہم اورخوش کن فیصلے بروقت عملدرآمد سے محروم رہتے ہوئے بے ثمر ثابت ہوئے، حالیہ اعلانات بھی صرف اسی صورت سودمند ہوسکتے ہیں جب رقم کی بروقت ادائیگی یقینی ہو۔

‘ اس کیساتھ ضروری یہ بھی ہے کہ صوبے میں آنیوالے فنڈز کا استعمال بھی قواعد کے مطابق ٹائم فریم کے اندر ہو تاکہ رقوم لیپس نہ ہوجائیں‘اس مقصد کیلئے صوبائی اداروں کو بروقت اور فول پروف منصوبہ بندی کرنا ہوگی‘ تعمیر وترقی کے عمل میں ترجیحات کا تعین کرناہوگا‘ترجیحات میں سرفہرست موجودہ انفراسٹرکچر کی بہتری ہونی چاہئے‘ ہم سارا زور ہمیشہ نئے منصوبوں پر ڈالتے ہیں جبکہ مہیا عمارات اور ان میں موجود سہولیات دیکھ بھال نہ ہونے پرنان آپریشنل ہوچکی ہوتی ہیں‘ کوئی بھی نئی سڑک بنانا جتنا ضروری ہے اتنا ہی موجودہ سڑکوں کی تعمیر ومرمت اور انہیں ٹریفک کے بڑھتے بوجھ کو برداشت کرنے کے قابل بنانے کی ہے‘ یہی پریکٹس دوسرے شعبوں کیلئے بھی ناگزیر ہے‘ اس مقصد کیلئے صوبے میں سٹیک ہولڈرزپرمشتمل باڈی تشکیل دینی چاہئے جو ضروریات کے تعین اور فنڈز کے بروقت اور شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے عمل کی نگرانی کرے۔

بنیادی مسائل کا حل؟

وطن عزیز میں سیاسی تناؤ‘ امن وامان کی صورتحال اور دیگر تمام چیلنج اپنی جگہ اقدامات کے متقاضی ضرور ہیں تاہم عوام کو درپیش بنیادی مسائل سے صرف نظر کسی طور درست روش نہیں‘ بجلی کیساتھ گیس کی لوڈشیڈنگ اور پریشر میں کمی نے موسم سرما میں مسائل کی شدت مزید بڑھادی ہے‘ مارکیٹ میں گرانی کی شرح روز بروز بڑھ رہی ہے جبکہ کنٹرول کے ذمہ دار ادارے کبھی کبھار دو چار چھاپے مارنے کے بعد لمبی تان کر سوجاتے ہیں‘ پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے ذمہ دار ادارے انسانی صحت وزندگی سے جڑے اہم مسئلے کے حل میں مطلوبہ اقدامات‘ مطلوبہ رفتار سے نہیں اٹھاپارہے‘ اس سب کیساتھ ملاوٹ بھی انسانی صحت اور زندگی کیلئے پریشان کن صورت اختیار کرچکی ہے کھانے پینے کی اشیاء خصوصاً دودھ میں مضر صحت کیمیکلز کی ملاوٹ چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے‘گوشت قیمے کا معیار چیک کرنا اور مردہ مرغیوں کے فروخت کا دھندہ ہر قیمت پر روکنا متعلقہ ذمہ دار اداروں کی ذمہ داری ہے جس پر مستقل بنیادوں پر کام جاری رکھنا ہوگا‘ مرکز اور صوبوں میں برسراقتدار حکومتوں کیلئے ضروری ہے کہ تمام تر دیگر ذمہ داریوں کیساتھ عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز رکھیں۔