بریکنگ نیوز
Home / کالم / منطقی انجام

منطقی انجام


اسلام آباد میں فیض آباد انٹرچینج پر دھرنے کے اثرات لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں سے ہوتے ہوئے ملک بھر میں پھیل گئے تھے۔ ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کے معاملے پر مظاہرین کا غم و غصہ حکومت کی جانب سے طاقت کے استعمال سے مزید بڑھ گیا تھا حکومت کی طرف سے بغیر کسی حکمت عملی سے شروع کی گئی کاروائی کے دوران ایک پولیس اہلکار سمیت چھ افراد جاں بحق جبکہ ڈھائی سو سے زائد زخمی ہوئے جبکہ سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا‘ دھرنے کے باعث اسلام آباد اور راولپنڈی مفلوج ہو کر رہ گئے دونوں شہروں کے لوگ راستے بند ہونے سے عذاب میں مبتلا تھے‘ حکومت کی طرف سے غلطیوں اور کوتاہیوں سے بھرپور ایسا آپریشن کیا گیا کہ دھرنے پورے ملک میں پھیل گئے۔ لوگ راستوں میں پھنس گئے‘ مسافربس اڈوں اور ریلوے سٹیشنوں پر خوار ہو تے رہے‘ اِن بائیس روز میں تجارتی سرگرمیوں کی معطلی سے معیشت کو اربوں کا نقصان ہوا۔ سٹاک مارکیٹ سنبھلنے لگتی ہے تو دھرنے‘ دھرنوں‘کبھی ان کیخلاف آپریشن اور کبھی دہشت گردی کی کاروائیوں سے پھر گر جاتی ہے۔ میاں نوازشریف کی نااہلیت کے بعد حکومتی پارٹی کے اندر بے چینی اور ملک میں بحران بڑھتے جا رہے ہیں‘۔

دھرنا اگر تحریک لبیک کی ہٹ دھرمی سے تین ہفتوں سے جاری تھا تو اس میں حکومتی ذمہ داران کو بھی معصوم قرار نہیں دیاجاسکتا تاہم مذاکرات میں لچک دونوں طرف سے دکھائی جانی چاہئے تھی۔ حکومتی پارٹی کے اندر پہلے ہی ایک ابال محسوس ہوتا تھا۔ اب انتشار کی سی کیفیت ہے‘ کئی ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے آپریشن کی کھل کر مخالفت کی ۔ وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ دھرنے والوں کا بھارت سے رابطہ ہے ساتھ ہی انہوں نے مذاکرات کی پیشکش بھی کی ‘وزیر داخلہ ایسے بیان پر پہلے اپنی پارٹی کو تو مطمئن کر لیں۔ تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی نے اسے وزیر داخلہ کا جھوٹ قرار دیکر کابینہ سے مستعفی ہونے کابھی مطالبہ کیا‘ اپوزیشن تو حکومت کیخلاف ایسے بیانات کی تلاش میں رہتی ہے‘ عمران نے بھی مولانا کے مطالبے کی تائید کی ہے۔حکومت کی طرف سے احتجاج کرنیوالوں کیخلاف آپریشن بغیر کسی منصوبہ بندی اور تیاری کے نیم دلی سے کیاگیا جسکا اظہار وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے بیانات سے بھی ہوتا ہے‘ دونوں کہتے ہیں کہ آپریشن عدالت کے احکامات پر کیا‘ گویا ان کا ارادہ آپریشن کرنے کا نہیں تھا‘ عدالت کے حکم پر آپریشن کا مطلب علامتی آپریشن نہیں تھا جس طرح کا آپریشن ہوا اس سے لگتا ہے کہ خانہ پُری کی گئی مگر چھ قیمتی جانیں چلی گئیں‘ کئی ایک جان کنی کے عالم میں ہیں اور پورا ملک الگ سے مفلوج ہوا پڑا ہے۔

حکومت نے اگر آپریشن شروع کیا ہے تو یہ منطقی انجام تک پہنچنا چاہئے اس حوالے سے جاتی عمرہ میں اجلاس کے دوران صلاح مشورے ہوئے پھر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے فوجی قیادت کی ملاقات اور آرمی چیف نے واضح الفاظ میں حکومت اور دھرنے والوں کو تشدد روکنے کا مشورہ دیا۔ بلاشبہ یہ بجا مشورہ ہے مگر اس کی میڈیا میں تشہیر کی ضرورت نہیں تھی‘ جس سے ایک جمہوری حکومت کو ڈکٹیشن ملنے کا تاثر ملتا ہے۔حکومت اور اداروں کا ترجیحاً مقصد فیض آباد انٹرچینج سے دھرنا ختم کرانا تھا۔ دھرنے والوں کو اپنا دھرنا فیض آباد انٹرچینج سے پریڈ گراؤنڈ منتقل کرنیکی پیشکش کی گئی مگر میں نہ مانوں کا اعادہ کیا جا تارہا۔ وزیر داخلہ نے انہیں پھر مذاکرات کی دعوت دی جب آپ اُن پر بھارت کیساتھ رابطوں کا الزام لگائیں گے‘ تو وہ کس طرح مذاکرات پر آمادہ ہوں گے۔ اب حکومت نے فوج کو طلب کیا ہے‘ فوج نے اپنے کردار کے حوالے سے حکومت سے وضاحت مانگی ہے۔

فوج کسی قسم کا تشدد نہیں چاہتی۔ حکومت کی بھی ایسی خواہش نہیں ہے، کیونکہ تشدد سے حالات مزید بگڑ جائیں گے۔ فوج اسی لئے کسی بھی قسم کی کاروائی سے گریز کر تی رہی‘ایسے معاملات اداروں کے مابین مثالی کو آرڈی نیشن کے متقاضی ہوتے ہیں مگر جہاں مثالی تو کیا کوآرڈی نیشن کا شدید فقدان رہاہے بلکہ مرکز کی سمت کچھ اور ہے‘ پنجاب حکومت کی اور ہے جبکہ فوج کی دونوں سے مختلف ہے۔ کنفیوژن اور ابہام کا ایک غبار ہے۔ ابہام اور کنفیوژن حکومت اور اداروں کے مل بیٹھنے سے ہی دور ہو سکتا ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: اورنگ زیب خان۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)