بریکنگ نیوز

چندآنسو!


خیبرپختونخوا حکومت میں بے سمت ترقی کا لب لباب یہ ہے کہ کسی ایک بھی شعبے کی کارکردگی سوفیصد اطمینان بخش نہیں بالخصوص جب ہم اعلیٰ تعلیم سے متعلق حکومتی ترجیحات کا جائزہ لیتے ہیں تو بلندوبانگ دعوؤں اور زمینی حقائق میں فاصلے دیکھ کر سوائے مایوسی اور شرمندگی کے چند آنسو‘ اظہار کی کوئی دوسری صورت دکھائی نہیں دیتی‘ عام آدمی کی حالت زار میں تبدیلی یعنی غربت کی دلدل سے نکلنے کا پائیدار ذریعہ اعلیٰ تعلیم ہے جو غریبی کے چکر کا توڑ بھی ہے‘ بناء تعلیم و اعلیٰ تعلیم فلاح و نجات کی نہ تو کوئی صورت اور نہ ہی کوئی دوسرا وسیلہ کارگر ثابت ہو سکتی ہے! ضلع تورغر سے اساتذہ کی نمائندگی کرتے ہوئے بذریعہ ای میل موصول ہونے والے زمینی حقائق تصدیق کرنے پر درست ثابت ہوئے جیسا کہ خیبرپختونخوا کا ایک ضلع ایسا بھی ہے جہاں طلباء اور طالبات کے لئے ایک بھی گرلز ڈگری کالج نہیں۔ سرسری تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صوبے کے چند اضلاع ایسے بھی ہیں جہاں اِکادُکا کالجز تو ہیں لیکن وہ آبادی کے تناسب اور حسب آبادی کی ضروریات کافی نہیں‘ ضلع طورغر کے شمال میں ضلع کوہستان کی مثال دی جاسکتی ہے جہاں دو کالجز ہیں لیکن دونوں ہی طلباء کے لئے ہیں اور ضلع تورغر کے برعکس یہاں کالجز تو موجود ہیں ۔

لیکن طالبات کے لئے نہیں۔ یہاں یہ بات قطعی طور پر نہیں کی جا رہی کہ جن علاقوں میں وہاں کے وزرائے اعلیٰ نے مقامی ضروریات سے بڑھ کر کالجز قائم کئے تو یہ ناانصافی ہوئی ہے۔ سیاسی حکمرانوں کی انتخابی مجبوریاں ہوتی ہیں اور انہیں اپنے آبائی علاقوں میں سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کیلئے ایسے ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت رہتی ہے‘ جس سے ان پر بیروزگاروں کا دباؤ کم ہو وگرنہ کالجز کا قیام اس بات کی ضمانت نہیں کہ فارغ التحصیل ہونے والوں کو جامعات میں داخلہ ملے گا یا وہ کالجز سے پاس آؤٹ ہی برسرروزگار ہو جائیں گے۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن خیبرپختونخوا کا اصل مسئلہ معاشی طور پر غیریقینی ر مبنی صورتحال ہے۔ نوجوان علم حاصل کرنے کے باوجود بھی خواندہ قرار نہیں دیئے جا سکتے کیونکہ انہیں نصابی کتب سے زیادہ مطالعے کی نہ تو ترغیب دی جاتی ہے اور نہ ہی اساتذہ ان کیلئے اس قسم کا رول ماڈل بنتے ہیں کہ انکی شخصیت میں نکھار آتا جائے ان میں تحقیق کی جستجو پیدا ہو‘ علوم کی دنیا میں وہ کسی ایک شاخ سے جڑ کر خلاؤں کو عبور کر جائیں۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ طلباء اور طالبات جس خوداعتمادی کے فقدان اور غیریقینی مستقبل کو لیکر کالجز یا جامعات میں داخل ہوتے ہیں فارغ التحصیل ہونے کے بعد انکی اکثریت کو معلوم نہیں ہوتا کہ اب کھٹن بھری عملی زندگی کس راستے پر چلنا ہے اور ان منزل کیا ہے! کوئی ہاتھ پکڑ کر کنارے لگا دے تو ٹھیک ورنہ لہروں پر ہچکولے اور غوطہ زنی کرتے ہوئے وہ افرادی قوت جو خیبرپختونخوا کا اثاثہ ہے کہیں بکھر رہی ہے تو کہیں ڈوب رہی ہے!

یادش بخیر خیبرپختونخوا میں اعلیٰ تعلیم سے متعلق ’ہائر ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ‘ نے ایک جائزہ رپورٹ شائع کی تھی جسکے مطابق صوبے میں کل 249 کالجز ہیں اور ان میں طلباء کے لئے 148 جبکہ طالبات کے101 کالجز ہیں‘ سب سے زیادہ کالجز ضلع پشاور کی حدود میں ہیں جن کی تعداد 25 (طالبات کے لئے 13) بتائی گئی تھی۔ خوش آئند تھا کہ پشاور صوبے کے ان چند اضلاع میں شامل ہے‘ کہ جہاں طالبات کیلئے زیادہ کالجز ہیں لیکن مردان جیسے بڑے ضلع میں جسکی آبادی بشمول قریبی دیہی علاقوں کو شامل کرکے کسی بھی طرح پشاور سے کم نہیں وہاں طلباء کیلئے 12 جبکہ طالبات کے لئے 10 کالجز ہیں‘ صوابی سترہ (طالبات آٹھ)‘ بنوں سولہ (طالبات چھ)‘ ایبٹ آباد سترہ (طالبات گیارہ)‘ ڈی آئی خان تیرہ (طالبات چار)‘ ہری پور تیرہ (طالبات آٹھ)‘ سوات تیرہ (طالبات پانچ)‘ ملاکنڈ بارہ (طالبات چار)‘ چارسدہ گیارہ (طالبات پانچ)‘ نوشہرہ گیارہ (طالبات چار)‘ لوئر دیر گیارہ (طالبات چار)‘ کرک گیارہ (طالبات تین)‘ کوہاٹ نو (طالبات چار)‘ مانسہرہ نو (طالبات تین)‘ لکی مروت آٹھ (طالبات دو)‘ اپر دیر پانچ (طالبات ایک)‘ بونیر پانچ (طالبات ایک)‘ چترال پانچ (طالبات دو)‘ شانگلہ پانچ (طالبات دو)‘ ٹانک تین (طالبات ایک) اور بٹ گرام میں دو (جن میں طالبات کے لئے ایک) کالج شامل ہے۔ اِن اعدادوشمار سے بوریت محسوس کرنے کی بجائے توجہ مرکوز رکھی جائے تو علاوہ ازیں حقیقت یہ بھی ہے کہ کوہستان اور تورغر کے اضلاع میں طالبات کے لئے اعلیٰ تعلیم کے مواقع موجود نہیں جنہیں میٹرک کے بعد مزید تعلیم کے قریبی اضلاع کا سفر کرنا پڑتا ہے اور بالخصوص قبائلی ماحول میں ایسے گھرانوں کی تعداد نہایت کم ہے‘ جو لڑکیوں کودور دراز سفر کرکے کالجز جانے کی اجازت دیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بھی موجود نہیں! صوبائی حکومت اگر فی الفور طالبات کے کالجز قائم نہیں کر سکتی تو کالجز کو ٹرانسپورٹ کی فراہمی کرکے یہ کمی ضرور دور کر سکتی ہے۔ اِس سلسلے میں ’پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ‘ جیسا امکان بھی اپنی جگہ موجود ہے۔