بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / نئے منظروں کی آہٹ

نئے منظروں کی آہٹ


ہر سال ستمبر کے مہینے بیسیوں ملکوں کے سربراہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک آتے ہیں، اس ایوان میں خوشحال ملکوں کے لیڈر اپنے ارادوں، خوابوں اور وژن کی باتیں کرتے ہیں اور غریب ملکوں کے حکمران قیمتی سوٹ پہن کر اپنے لوگوں کے مصائب وآلام کا ذکر کرتے ہیں، بعض رہبران ملت دبے لفظوں میں عالمی نظام کی ناانصافیوں کی دہائی دیتے ہیں، اس ہجوم میں کبھی کبھار ایک آدھ انقلابی اپنی گرجدار آواز میں بڑی طاقتوں کی لوٹ مار اور جارحیت پر صدائے احتجاج بھی بلند کرتے ہیں، بائیس ستمبر 2007ء کے دن جارج ڈبلیو بش کے بعد جب وینزویلا کے صدر ہیوگو شاویز جنرل اسمبلی کے سٹیج پر آئے تو انہوں نے روسٹرم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سلفر کی بو آرہی ہے، اس روز صدر شاویز نے عراق اور افغانستان کی جنگوں سے لیکر لاطینی امریکہ کی غربت اور بدحالی تک ہر فساد کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا، امریکہ میں کھڑے ہوکر امریکہ کو اتنی بے نقط کم ہی کسی نے سنائی ہونگی، اس کے دوسال بعد جب براک اوباما جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے آئے تو فضاء میں ان کے انتخابی جلسوں میں گونجنے والے تبدیلی اور امید کے نعروں کی بازگشت سنائی دے رہی تھی، تئیس ستمبر 2009ء کے دن صدر اوباما نے واشگاف الفاظ میں اپنے پیشرو کی یکطرفہ اور جارحانہ پالیسیوں کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ کے اسلامی دنیا کیساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے فلسطینیوں کیلئے ایک الگ ریاست قائم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی، اس کے ٹھیک سات برس بعد بیس ستمبر2016ء کو اسی جگہ کھڑے ہوکر صدر اوباما نے فلسطین کے بارے میں صرف اتنا کہا کہ وہ اگر ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرلیں اور اسرائیل بھی اگر یہ مان لے کہ وہ ہمیشہ فلسطینی سرزمین پر قابض نہیں رہ سکتا تو اس میں دونوں کی بہتری ہوگی، اسرائیل کے ظلم وستم کے ستائے ہوئے فلسطینیوں نے آتش فروشوں سے پھولوں کی تمنا کبھی بھی نہ کی تھی مگر سات برس پہلے براک اوباما کی گھن گرج میں انہیں امید کی ایک ہلکی کرن ضرور نظر آئی تھی، اب اگلے برس بیس جنوری کو امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر کی وائٹ ہاؤس سے رخصتی کے بعد اس کے وعدے وعید بھی دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے مانند قصہ پارینہ ہوجائیں گے، ہمیشہ کی طرح اوباما کے آٹھ سالہ دور صدارت میں بھی اسرائیل نے سرزمین فلسطین پر یہودیوں کی نئی بستیاں بنانے کا کام جاری رکھا، بنجامن نتن یاہو کی شعلہ بیانی اور زہر افشانی آج بھی کم ہونے میں نہیں آرہی۔

اک گردن مخلوق جو ہر حال میں خم ہے
اک بازو ئے قاتل ہے کہ خوں ریزبہت ہے

آج براک اوباما کا شمار ان مقبول امریکی صدور میں ہو رہا ہے جن کی مقبولیت کا گراف ان کے آخری ایام صدارت میں ساٹھ فیصد کے قریب تھا، مشرق وسطیٰ اگر جل رہا ہے تو اس سے امریکی عوام کو کوئی سروکار نہیں، عرب ممالک جتنے غیر مستحکم اور باہم برسرپیکار ہونگے تیل اتنا ہی سستا ہوگا، دوسرے لفظوں میں مسلم ممالک اگر خوشحال اور پرامن ہونگے تو اہل مغرب اسے اپنے حکمرانوں کی نااہلی اور ناکامی سمجھیں گے۔
براک اوباما کا دور اقتدار دنیا کے کونے کونے میں مسلمانوں کیلئے کسی بھیانک خواب اور عہد پرآشوب سے کم نہ تھا، جارج بش نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گنے چنے ڈرون حملے کئے تھے، صدر اوباما نے چارسو اٹھائیس ڈرون حملے کرکے ہزاروں بے گناہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو بیدردی سے ہلاک کیا، عراق کے آدھے سے زیادہ تیل پر کرد باغیوں کا قبضہ ہے اور وہ اسے اونے پونے یورپی ممالک پر بیچ رہے ہیں، شام کی خانہ جنگی میں ہر فرقے کے مسلمان امریکی اور روسی ہتھیاراٹھائے دل کھول کر ایک دوسرے کا قتل عام کررہے ہیں، اس پانچ سالہ پرانی جنگ کو ختم کرنے کی امریکی کوششیں دکھاوے سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔

گزشتہ ماہ صدر اوباما نے بھارت سے ایک جوہری معاہدہ کرکے اسے جنوبی ایشیاء بحر ہند اور جنوبی چین کے سمندر کی نگہبانی بھی سونپ دی ہے، دو برس پہلے تک بھارت اور پاکستان کے مابین تلخ نوائی کے نتیجے میں امریکی سفارتکار فوراً متحرک ہوکر بیچ بچاؤ کرادیتے تھے، اب مقبوضہ کشمیر میں ڈھائی ماہ سے بھارت کے انسانیت سوز مظالم کی وجہ سے دو ایٹمی ممالک ایک دوسرے کو للکار رہے ہیں مگر عالمی امن کے ٹھیکیدار سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش ہیں، لگتا ہے کہ بھارت سے جوہری معاہدے کے بعد امریکہ اس خطے میں اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوگیا ہے، اب اس کے پاکستان کیساتھ تعلقات بھارت کی خوشنودی کے مرہون منت ہونگے، امید ہے کہ امریکہ کیلئے پاکستان کی فدویانہ ایثار کیشی کا دور اب اختتام پذیرہوجائیگا، ہم تنہائی کے اس نئے سنگ میل پر اگر چاہیں تو منیر نیازی کی بصیرت سے استفادہ کرسکتے ہیں۔
تھا منیر آغاز ہی سے راستہ اپنا غلط
اس کا اندازہ سفر کی رائیگانی سے ہوا
اس طویل سفر کی رائیگانی کے بعد بھی ہمارا قبلہ ابھی تک درست نہیں ہوا مگر عالمی مالیاتی اداروں پر انحصار کی صورت میں ہم نئی منزلوں کا تعاقب کربھی کیسے سکتے ہیں، ان حالات میں جان کیری سے بھارت کا ہاتھ روکنے کی استدعا کرنا ہماری مجبوری ہے‘ انیس ستمبر کو نیویارک میں وزیراعظم نواز شریف نے امریکی وزیر خارجہ کیساتھ ایک ملاقات میں ان کی توجہ کشمیر میں بھارت کے بہیمانہ مظالم کی طرف دلائی تو انہوں نے جواب میں جو کچھ کہا اس کی خبر کسی امریکی یا پاکستانی اخبار نے ابھی تک نہیں دی، اتنا معلوم ہوا ہے کہ جان کیری نے اس ملاقات میں وزیراعظم صاحب سے ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کا مطالبہ کیا ہے، اس مکالمے پر اس شعر سے زیادہ بلیغ تبصرہ کیا ہوسکتا ہے
ہم نے سوچا تھا کہ منصف سے کریں گے فریاد
وہ بھی افسوس ترا چاہنے والا نکلا

اس دشمن جاں کی یہ بیوفائی کوئی نئی بات تو نہیں، اس کے لگائے ہوئے زخموں سے تو خون ابھی تک رس رہا ہے مگر اس کا دامن چھوڑا بھی نہیں جاسکتا، بھارت کئی بار مطالبہ کرچکا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردریاست قرار دیاجائے، یہ کام کیونکہ امریکہ ہی نے کرنا ہے اسلئے تیری محفل میں قسمت آزما کر ہم بھی دیکھیں گے جیسی ایثار کیشی کو فی الحال موقوف نہیں کیاجاسکتا، حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جان کیری سے نوازشریف نے اتنا ضرور کہا کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کا مطالبہ بھارت سے کیوں نہیں کرتے، یہ اگر سچ ہے تو اسے اسلئے خوشخبری کہاجاسکتا ہے کہ ہمارے ایک وزیراعظم نے پانچ سال قبل امریکی حکام بالا سے کہا تھا کہ وہ ان کے یعنی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے احتجاجی بیانات کی پرواہ کئے بغیر ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھیں، اب لگتا ہے کہ بھارت کی کراچی اور بلوچستان میں چیرہ دستیوں نے ہمیں حالت انحراف سے برآمد ہونے پر مجبور کردیا ہے، وزیراعظم نے اگر جان کیری کو یہ معقول جواب دیا ہے تو اسے نئے منظروں کی آہٹ کہاجاسکتا ہے، داغ داغ اجالا اور شب گزیدہ سحر کے بطن سے عہد نو کی صبح خوش جمال کے طلوع ہونے میں ابھی کچھ دیر باقی ہے مگر ایک نئی منزل کی جانب سفرکے آثار نظر آرہے ہیں۔

سوویت یونین کی تحلیل کے بعد گزشتہ ربع صدی میں امریکہ کی یک قطبی سلطنت میں لہولہان ہونے کے بعد دنیا بھر کے ممالک نئی صف بندیاں کررہے ہیں، روس کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں کے بعد پاکستان ایک نئے عالمی بلاک کا حصہ بن چکا ہے، چین اور ترکی جیسے اہم ممالک اس صف میں شامل ہیں، ایران فی الحال امریکہ سے جو کچھ وصول کرسکتا ہے وہ اسے سمیٹنے میں مصروف ہے مگر اسرائیل اور ریپبلکن پارٹی کے عقاب اسے بہت جلد اس نئے قلعے میں پناہ لینے پر مجبور کردیں گے، روس تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے اقتصادی بدحالی کا شکار ہے مگر ان برے حالات میں بھی اس نے کریمیااور یوکرائن پر تسلط جما کر ایک مرتبہ پھر اپنے عالمی طاقت ہونے کا اعلان کردیا ہے، امریکہ اگر پانچ برس تک مسلسل بشارالاسد کی معزولی کا مطالبہ کرنے کے بعد اب اس ہٹ دھرمی سے دستبردار ہوکر داعش کو شکست دینے کیلئے روس سے معاہدہ کرنے پر مجبورہوگیا ہے تو کہاجاسکتا ہے کہ نئے منظروں کی آہٹ دہلیز تک آپہنچی ہے، یہ ہلچل تبدیلی کی نئی لہروں کی نوید بھی ہے اور ایک نئی سمت کا اشارہ بھی۔