بریکنگ نیوز
Home / کالم / حکومتی عملداری: نتائج و اسباق!

حکومتی عملداری: نتائج و اسباق!


وفاقی حکومت یا اِحتجاج کرنے والے دھرنے کے اراکین میں سے کس کو ’کامیاب اور کس کو کامران‘ ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ جڑواں شہروں کے سنگم ’فیض آباد‘ کے مقام پر بائیس روز سے جاری دھرنا حکومت اور مذہبی جماعت کے درمیان ہونے والے ایک ایسے معاہدے کی روشنی میں ختم ہوا‘ جس کے بارے میں عدالت نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ احتجاجی مظاہرین کے مطالبے پر وفاقی وزیر قانون زاہد حامد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ میجر جنرل فیض حمید کے ذریعے طے پانے والے معاہدے کے مطابق ختم نبوت کے قانون کی شق میں تبدیلی کے حوالے سے راجہ ظفر الحق کی انکوائری رپورٹ تیس روز میں منظر عام پر لائی لانے کے لئے بھی حامی بھر لی گئی ہے جبکہ دھرنا شرکاء کے خلاف حکومتی آپریشن کی انکوائری کے لئے بورڈ کی تشکیل جو تیس روز کے اندر اپنی رپورٹ مکمل کرے گا اور ذمہ داروں کا تعین کرے گا جبکہ دھرنے کے آغاز سے اختتام تک ہونے والے تمام سرکاری اور غیرسرکاری املاک کے نقصان کا تعین کرکے اس کا ازالہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کریں گی۔ ملک بھر سے گرفتار ہونے والے تحریک لبیک یا رسول اللہ کے کارکنوں کو تین دن کے اندر رہا کیا جائے گا۔ کارکنان اور قیادت کے خلاف درج و عائد مقدمات اور نظر بندیاں ختم کردی جائیں گی۔ اِن شرائط اور سمجھوتے کی شقیں دیکھ کر کیا یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ حکومت کامیاب ہوئی ہے؟

انتخابی اصلاحات بل میں حلف نامے میں بھی تبدیلی کا انکشاف ہوا تو اس پر پورے ملک میں ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اس تبدیلی کو واپس لینے کا مطالبہ ہر کسی کی زبان پر تھا حتٰی کہ جن لوگوں نے اس ترمیم کی منظوری دی۔ وہ بھی واپسی کا مطالبہ کررہے تھے۔ اسے کسی نے اَنا کا مسئلہ نہیں بنایا‘ بلاتاخیر آئین میں ترمیم کرکے حلف نامے کو پہلے والی شکل دیدی گئی۔ پارلیمنٹیرین اور حکومت کی طرف سے حلف نامے کے الفاظ بدلنے پر شرمندگی کا اظہار بھی کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان نے اسے پارلیمنٹ کی مشترکہ کوتاہی قرار دیا تھا۔ تحریک لبیک یارسول اللہ نے الیکشن ایکٹ دوہزار سترہ میں ’سیون بی‘ اُور ’سیون سی‘کو مکمل متن مع اردو حلف شامل کرنے کے اقدام کی ستائش کی تھی مگر ان کا مطالبہ یہ سامنے آیا کہ زاہد حامد اس لئے استعفیٰ دیں کہ وزارت قانون کے انچارج وزیر کے طور پر حلف نامے میں تبدیلی کے ذمہ دار ہیں۔ اس مطالبے کے ساتھ تحریک لبیک یارسول اللہ لانگ مارچ کرتے ہوئے فیض آباد انٹرچینج پر براجمان ہو گئی۔ دو شہروں کو ملانے والے اِس چوک میں دھرنے سے دونوں شہروں کا رابطہ ختم ہوگیا۔ حکومت نے مذاکرات کا ڈول ڈالا مگر دھرنا قیادت وزیر قانون کے استعفیٰ سے کم پر مطمئن نہ ہوئی۔ معاملہ ابتدائی دنوں میں طے ہو جانا چاہئے تھا‘ طول پکڑنے پر دھرنا قیادت کا مؤقف جہاں تک پہنچنا ممکن تھا‘ پہنچ گیا۔

دھرنا کے حامیوں میں بے چینی واضح نظر آرہی تھی‘ حکومت نے کچھ گرفتاریاں کیں تو بے چینی میں مزید اضافہ ہوا اور پھر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے ہرصورت دھرنا ہٹانے کا حکم دیا تو حکومت نے عدلیہ کے حکم پر عمل تو کیا مگر بغیر کسی تیاری اور حکمت عملی سے پچیس نومبر کی صبح پونے آٹھ بجے آپریشن کا آغاز کردیا۔ پولیس اور دھرنا کے شرکاء کے مابین جھڑپیں ہوئیں‘ آنسو گیس کا استعمال ہوا‘ کبھی پولیس آگے بڑھتی اور کبھی دھرنا کے شرکاء اسے پسپائی پر مجبور کردیتے۔ پہلے روز چھ افراد جاں بحق ہوگئے‘ زخمیوں کی تعداد دو سو کے قریب تھی۔ سینکڑوں گرفتار کرلئے گئے۔ اس دھرنا کے شہر شہر میں موجود حامی مشتعل ہوگئے اور پورے ملک میں احتجاج اور مظاہرے ہونے لگے۔ اسلام آباد پنڈی کی طرح اکثر شہروں میں نظام زندگی مفلوج ہوگیا۔ حکومت کو تین گھنٹے بعد آپریشن معطل کرنا پڑا مگر دھرنا قیادت کے حامیوں کے اشتعال میں کمی نہ آسکی۔ حکومت نے اگر آپریشن کرنا ہی تھا تو ابتدائی دنوں میں کامیابی سے ہوسکتا تھا بشرطیکہ ریاستی اِداروں کے مابین ہم آہنگی ہوتی۔ پنجاب حکومت نے لانگ مارچ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی۔ مرکزی حکومت نے احتجاج اور دھرنے کی کوئی پروانہ کی۔

دو شہروں کا نظام درہم برہم ہوا تو حکومت کے کان کھڑے ہوگئے مگر اس وقت تک پانی سر سے گزر چکا تھا۔ ایک آپریشن ناکام ہونے پر فوج کو طلب کیا گیا۔ مذہبی رنگ اختیار کرتی تحریک سے حکمت و دانش سے نمٹنا ہوتا ہے۔ ’پی این اے‘ نے 1977ء کی تحریک میں اسلام کا نام استعمال کرکے لوگوں کے جذبات ابھارے گئے اور تحریک بالآخر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے پر منتج ہوئی۔ معاملہ افہام و تفہیم اور مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس عمل میں فوج بھی شامل ہوگئی۔ مقصد دھرنا ختم کرنا اور شہروں میں مفلوج ہوئی زندگی کو معمول پر لانا تھا‘حالات خوفناک صورتحال اختیار کررہے تھے۔ کئی وزراء کے گھروں اور ڈیروں پر حملے ہوئے۔ مسلم لیگ (نواز) سے لاتعلقی اختیار کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا تھا۔ فوج آپریشن کرکے چند گھنٹے میں دھرنا ختم کراسکتی تھی جس میں خونریزی کے خدشات کو رد نہیں کیا جا سکتا تھا۔ عوامی سطح پر اشتعال کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اب معاملہ طے تو پاگیا ہے مگر حکومت کی سبکی کے ساتھ‘ اس سے گو حکومت محفوظ ہوگئی ہے‘ اسے عدلیہ کی طرف سے برہمی کا سامنا بھی ہے‘ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کمزور ہوئی اور اسکی پسپائی کا پہلو نمایاں ہے۔ دھرنا ختم ہوگیا مگر دھرنے اور آپریشن کے اثرات تادیر محسوس کئے جاتے رہیں گے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر عدنان کریم آغا۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)