بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان کے گردشی قرضہ 500ارب روپے سے متجاوز

پاکستان کے گردشی قرضہ 500ارب روپے سے متجاوز


اسلام آباد۔پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں سیکرٹری پیٹرولیم ڈویژن سکندر سلطان راجہ نے انکشاف کیا کہ گردشی قرضہ 500ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔کمیٹی کنوینئر شفقت محمود نے کہا کہ پچھلے سال 480 ارب کا گردشی قرضہ ادا کیا ہے،سیکرٹری وزارت پٹرولیم ڈویژن سکندر سلطان راجہ نے اعتراف کیاکہ پی ایس او کے پٹرول میں مسئلہ ہے، اس حوالے سے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے، ایم ڈی پی ایس او نے جواب دیا کہ پی ایس او کے پٹرول کی کوالٹی میں بھی مسائل ہیں اور مقدار میں بھی مسائل ہیں، کمیٹی نے وزارت کو دیہاتوں میں ڈرم میں پٹرول بیچنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کردی، کمیٹی نے آڈٹ اور وزارت پٹرولیم ڈویژن کے درمیان محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس نہ ہونے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ پی ایس او میں خلاف ضابطہ اورمعیار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آئی ایس آئی کے افسر کی تقرری کی افسراوورایج بھی تھا۔

، 2010سے 2014تک اس افسر کو 3کروڑ 20لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگی کی گئی۔ پی ایس او حکام نے بتایا کہ دوسرے لوگوں نے اپلائی کیا تھا مگر اسی شخص کو دیا گیا،60لاکھ روپے الاؤنس کی مد میں دیا گیا۔ کمیٹی نے دو ماہ میں اس پر تحقیقات کی ہدایت کر دی۔کمیٹی نے وزارت حکام سے اپوزیشن جماعتوں کے ایم این ایز کے گیس منصوبوں کے حوالے سے تفصیلات طلب کرلیں۔بدھ کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینئر شفقت محمود کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وزارت پٹرولیم کے مالی سال 2015-16کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ وزارت پٹرولیم کی بجٹ گرانٹ میں81فیصد بچت ہوئی، جس پر وزارت حکام نے بتایا کہ ہمیں 30جون کو یہ گرانٹ ملی، جس پر وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ ڈی جی گیس نے کہا تھا کہ یہ فنڈز جاری کر دیں اور وزارت خزانہ نے ان کو کہا تھا کہ یہ فنڈز آج رات ختم ہو جائیں گے۔ کمیٹی نے کہا کہ اگر دوبارہ ایسا ہوا تو کمیٹی اس پر سخت ایکشن لے گی۔ کمیٹی نے ڈی جی گیس سے اپوزیشن جماعتوں کے ایم این ایز کے گیس منصوبوں کے حوالے سے تفصیلات طلب کرلیں۔ وزارت پٹرولیم ڈویژن کے آڈٹ اعتراضات میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ پٹرولیم ڈویژن کے پالیسی ونگ میں خلاف ضابطہ کنسلٹنٹس بھرتی کئے گئے، ایک کنسلٹنٹ کو 66لاکھ روپے تنخواہ دی گئی اور اضافی 19لاکھ 30ہزار روپے جون 2014میں ادا کئے، کنسلٹنٹ کی بھرتی کیلئے کوئی اشتہار نہیں دیا گیا۔

کمیٹی نے اس پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھرتی کے قوانین کے مطابق بھرتی نہیں کی گئی اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی، ایل پی آر پر بھرتی ہوئی ہے یا نہیں اور ڈبل تنخواہ دی گئی، سیکرٹری پٹرولیم ڈویژن سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ اس پر تحقیقات کی ہدایت کر دی ہے اور تحقیقات کے بعد رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے گی۔ کمیٹی رکن شاہدہ اختر علی نے کہا کہ ہمیں درخواستیں آرہی ہیں کہ سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس میں میرٹ پر ترقیات نہیں ہو رہی ہیں، جس پر وزارت حکام نے بتایا کہ پروموشن پالیسی میرٹ کی بنیاد پر ہوتی ہے اور ترقی کا فیصلہ بورڈ کرتا ہے۔ کمیٹی ایچ ڈی آئی پی کا 70لاکھ سے زائد کا آڈٹ اعتراض نمٹا دیا،70لاکھ فیصد کی مد میں وصول نہیں کئے گئے تھے۔وزارت پٹرولیم ڈویژن کے آڈٹ اعتراض میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ ساڑھے چار کروڑ روپے کی اضافی رقم مڈ انجینئرنگ خدمات کی مد میں نجی کمپنی کو دی گئی، اس معاہدے میں پیپرا قوانین کی بھی خلاف ورزی کی گئی، جس پر ایم ڈی پی پی ایل وامق بخاری نے جواب دیا کہ جس کمپنی سے معاہدہ کیا گیا وہ کم ترین بومی دہندہ تھا، جس پر کمیٹی نے دوبارہ آڈٹ اعتراض کا جائزہ لینے کی آڈٹ حکام کو ہدایت کر دی۔

پاکستان اسٹیٹ آئل کے اعتراض میںآڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ خلاف ضابطہ غلط مٹیریل کی سپلائی کی مد میں کروڑوں روپے کی ادائیگی کی گئی، نجی کمپنی کو ایل ای ڈی لائٹ سسٹم کا ٹھیکہ دیا گیا تھا، بعد ازاں پی ایس او نے معاہدے کی خلاف ورزی پر کمپنی سے معاہدہ ختم کیا، لیکن اس کے بعد سیٹلمنٹ معاہدہ نجی کمپنی اور پی ایس او کے درمیان ہوا، اس معاہدے کے تحت پی ایس او نے ایک کروڑ 40 لاکھ روپے کی ادائیگی کی۔ کمیٹی کنوینئر شفقت محمود نے پی ایس او حکام سے سوال کیا کہ گاڑیوں کی کمپنی ہنڈا نے پی ایس او کے پٹرول کے حوالے سے شکایت کی تھی، جس پر ایم ڈی پی ایس او نے جواب دیا کہ ہنڈا کی صرف ایک گاڑی میں مسئلہ تھا کیونکہ پاکستان میں پی ایس او سمیت دیگر ادارے بھی پٹرول بیچتے ہیں۔ سیکرٹری وزارت پٹرولیم ڈویژن سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ پی ایس او کے پٹرول میں مسئلہ ہے، اس حوالے سے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے، ایم ڈی پی ایس او نے اعتراف کیا کہ کوالٹی میں بھی مسائل ہیں اور مقدار میں بھی مسائل ہیں، کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ دیہاتوں میں ڈرم میں پٹرول بیچنے والوں کے خلاف ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی جائے کہ کارروائی کریں، کمیٹی نے محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس نہ ہونے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا، کمیٹی نے معاملہ نمٹا دیا۔

کمیٹی نے خلاف ضابطہ کنسلٹنسی فیس کی مد میں 16لاکھ روپے زائد کی رقم کی ادائیگی کی تحقیقات کی ہدایت کر دی، ایم ڈی پی ایس او نے انکشاف کیا کہ پی ایس او کے جینکوز کے ذمہ 245ارب روپے کے واجبات ہیں، جس میں 190ارب روپے لیٹ پیمنٹ سرچارج ہے اور ابھی تک جینکوز کو تیل کی سپلائی کی جاتی ہے، سیکرٹری وزارت پٹرولیم سکندر سلطان راجہ نے انکشاف کیا کہ گردشی قرضہ 500ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے، کمیٹی نے کہا کہ پچھلے سال 480ارب روپے گردشی قرضہ ادا کیا ہے۔ کمیٹی کنوینئر شفقت محمود نے کہا کہ ہماری آنے والی حکومت کیلئے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں، جس پر میاں عبدالمنان نے کہا کہ مشکل لگتا ہے ، جس پر کمیٹی کشت زعفران بن گئی۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ شیئرز اور گراس سیلز کی عدم وصولی کے باعث 53کروڑ سے زائد کا نقصان پی ایس او کو اٹھانا پڑا، جس پر پی ایس او حکام نے بتایا کہ اس میں اب صرف 20کروڑ کی رقم باقی رہ گئی ہے، کمیٹی نے بقایا جات کی وصولی کی ہدایت کر دی۔ کمیٹی کنوینئر شفقت محمود نے کہا کہ پی اے سی میں وہی معاملات لائیں جائے جو کسی طور پر ڈی اے سی میں حل نہ ہوں، ڈی اے سی کی یہ لائن کہ پی اے سی کے سامنے رکھ دیں یہ قبول نہیں کی جائے گی۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ خلاف ضابطہ تقرری کی گئی اور مینجمنٹ نے کرائٹریا رکھا تھا کہ آرمی کرنل ہونا چاہیے اور کمرشل کمپنی میں کام کا تجربہ ہونا چاہیے مگر بعد ازاں اس عہدے پر آئی ایس آئی کے افسر کی تقرری کی گئی اور وہ افسراوورایج بھی تھا اور اسے 2010سے 2014تک اس افسر کو 3کروڑ 20لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگی کی گئی۔ پی ایس او حکام نے بتایا کہ دوسرے لوگوں نے اپلائی کیا تھا مگر اسی شخص کو دیا گیا،60لاکھ روپے الاؤنس کی مد میں دیا گیا۔ کمیٹی نے دو ماہ میں اس پر تحقیقات کی ہدایت کر دیں۔سوئی سدرن گیس کے آڈٹ اعتراض میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ انڈسٹریل صارفین کی جانب سے گیس چوری کی وجہ سے 15کروڑ 65لاکھ سے زائد کا قومی خزانہ کو ٹیکہ لگایا گیا۔