بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ماضی اور آج کے خیبرپختونخوا میں نمایاں فرق ہے ٗ پرویز خٹک

ماضی اور آج کے خیبرپختونخوا میں نمایاں فرق ہے ٗ پرویز خٹک


پشاور۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا سے متعلق غلط تصورات کو تبدیل کرکے صحیح اور حقیقی امیج اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ غلط تصورات پورے معاشرے کو پنپنے نہیں دیتے ترقی کے راستے روک دیتا ہے اور معاشرتی اور معاشی ابتری کا نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیتا ہے۔اُنہوں نے واضح کیا کہ اُن کی حکومت نے کرپشن کے خاتمے ، جرائم کی شرح کو کم کرنے اور حکمرانی کے پورے سٹرکچر میں شفافیت لانے کیلئے جدید خطوط پر کام کیا ہے۔سرکاری اداروں میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ کیا اور قابل عمل اصلاحات لائیں جن کی وجہ سے ادارے بہترین طریقے سے ڈیلیور کرنے کے قابل ہوگئے ہیں۔

اُن کی حکومت کی سرمایہ کار دوست حکمت عملی کی وجہ سے نجی اور بیرونی سرمایہ کار یہاں کا رخ کررہے ہیں کیونکہ خیبرپختونخوا صنعتکاری اور سرمایہ کاری کیلئے موزوں ترین خطہ بنتا جارہا ہے۔اُن کی حکومت اور نظام میں کرپشن کی کوئی گنجائش نہیں۔ اُنہوں نے فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کیلئے بھی نیک نیتی اور سیاسی عزم کی ضرورت پر زور دیا۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاو رمیں ڈی ایف آئی ڈی کی سربراہ جوناریڈ کی سربراہی میں ڈی ایف آئی ڈی پاکستان کے چار رکنی وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹیری شہزاد بنگش، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں ، سٹرٹیٹجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت نے حکمرانی کے سٹرکچر کو ٹھیک کرنے پر کام کیا کیونکہ ماضی کے حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے ایک غلط امیج بن چکا تھااور عوام کا اعتماد سسٹم سے اُٹھ چکاتھا۔آج کے خیبرپختونخوا اور ماضی کے خیبرپختونخوا میں بڑا فرق ہے۔پرویز خٹک نے حکومتی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ صوبے میں نظام کی اصلاح اور تبدیلی کے مجموعی عمل کو متعد د قوانین سے دیر پا بنایا گیا ہے جو ایک مشترکہ ٹیم ورک کا نتیجہ ہے ۔ڈیڑھ سو زائد قوانین بن چکے ہیں جبکہ محکمہ قانون میں سو سے زائد قوانین اور ترامیم اب بھی موجود ہیں۔ ہم کسی قسم کے دباؤ میں نہیں آئے اور آج تحریک انصاف کے وعدے کے مطابق تبدیلی نظر آرہی ہے ۔ادارے ڈیلیو رکر رہے ہیں اور لوگ مطمئن ہیں۔ یہ نقطہ اختتام نہیں بلکہ ایک کرپشن فری اور شفاف حکمرانی کی بنیاد ہے۔بہتری کا عمل جاری ہے جو صوبے کے ترقیافتہ مستقبل پر منتج ہو گا۔

پرویز خٹک نے کہاکہ اُن کی حکومت نے صوبے میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کو ترغیب دینے کیلئے سرمایہ کار دوست صنعتی پالیسی تشکیل دی ہے جس کے تحت سرمایہ کاروں کو پرکشش مراعات دی جارہی ہیں۔ سرمایہ کاری کے عمل کو تیز رفتار بنانے کیلئے ایک آزاد اور بااختیار کمپنی ازمک بنائی گئی ہے۔غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ مختلف شعبوں میں معاہدوں اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کر چکے ہیں۔اُنہوں نے کہاکہ رشکئی ، حطار اور ڈی آئی خان اکنامک زونز قائم کئے جارہے ہیں۔ وسیع پیمانے پر صنعتکاری کے اس عمل سے بیروزگار لوگوں کو روزگار ملے گا اورماضی میں نظر انداز کئے گئے اس صوبے کی ترقی اور خوشحالی کا راستہ ہموار ہوگا۔ یہ صوبہ سی پیک کے تناظر میں سرمایہ کاری کیلئے موزوں ترین خطہ بننے جارہا ہے ۔شعبہ پولیس میں اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرکے ایک بااختیار فور س بنایا گیا ہے ۔

فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ خود اور پختونخوا اور قبائلی علاقوں دونوں طرف کے عوام انضمام کے حق میں ہیں مگر اس مقصد کیلئے وفاقی حکومت کی سطح پر سیاسی عزم اور نیک نیتی کی ضرورت ہے ۔صوبائی حکومت نظام میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ میگاپراجیکٹس پر بھی کام کر رہی ہے ۔سوات موٹروے اور بی آرٹی صوبائی حکومت کے اپنے وسائل سے تعمیر ہونے والے منفرد منصوبے ہوں گے اس کے علاوہ صوبہ بھر میں 356 پن بجلی کے چھوٹے منصوبے قائم کئے جارہے ہیں ۔

جن میں سے بیشتر مکمل ہیں۔ ہم مزید 700 منصوبے پلان کر رہے ہیں۔ واٹر سکیموں ، ایرگیشن سکیموں ، سکولوں ، ہسپتالوں اور مساجد کی سولرائزیشن کا عمل بھی جاری ہے ۔زیادہ تر ہسپتالوں ، مراکز صحت اور رورل ہیلتھ سنٹرز کو پورے وسائل دیئے گئے ہیں۔ یہ 70 سال کی کمی ہے جو ہم پورا کر رہے ہیں جس کے لئے مزید اربوں روپے اخراجات کرنے پڑیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی پارٹی اپنی کارکردگی کی بنیادوں پر خیبر پختونخوا میں دوبارہ حکومت بنائے گی اور آئندہ عام انتخابات میں ملک بھر میں اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کرے گی اُنہوں نے واضح کیا کہ انتخابات میں کوئی بھی سیاسی قوت پی ٹی آئی کا مقابلہ نہیں کر سکتی کیونکہ تمام نوجوان طبقہ پی ٹی آئی کے ساتھ ہے۔