بریکنگ نیوز
Home / کالم / مستقبل کی سوچ

مستقبل کی سوچ


ملک بھر میں دھرنے ختم کرنے کا اعلان ہو گیا اچھی بات ہوئی‘ بات زاہد حامد کے استعفے پر ختم ہونی تھی زاہد حامد نے استعفے کا مان لیا تھا مگر کچھ سیاسی رکاوٹیں آڑے آئیں جس کے سبب بات کچھ آگے نکل گئی۔جس شق پر تنازع کھڑاہوا وہ ختم نبوت نے حلف نامے میں جو کچھ الفاظ کی کمی بیشی ہوئی اُس پہ تھا ۔جب غلطی کا احساس ہوا تو حلف نامہ اپنی پہلی شکل میں بحال کر دیا گیا۔بات ختم ہو جانی چاہئے تھی مگرنہ جانے کیوں ایک جماعت نے اسے اٹھا لیا اور احتجاج کے لئے لاہور سے اسلام آباد روانہ ہو گئی۔حکومت نے رکاوٹ نہ ڈالی کیونکہ یہ ایک حساس معاملہ تھا اور کہنے والوں نے صرف یہ اجازت لی تھی کہ وہ اسلام آباد میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرکے واپس آ جائیں گے۔ مگر بات اتنے سے احتجاج سے آگے نکل گئی اور دھرنے کی جانب نکل گئی ۔اب دھرنا ایک ایسی نازک جگہ پر دیا گیا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں زندگی مفلوج ہو گئی۔ ان دنوں میں جو شہریوں پر بیتی اس کا حساب تو کوئی نہیں لے سکے گا البتہ اسلام آبادہائی کورٹ نے از خود نوٹس لے کر اس دھرنے کو ختم کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت کو بتا یا گیا کہ دھرنے میں شامل لوگ مسلح ہیں اور حکومت ان کو بغیر کسی جانی نقصان کے منتشر کرنا چاہتی ہے‘ اس کے لئے کئی بیٹھکیں ہوئیں مگر دھرنا قائدین کسی بھی طرح نہ مانے ان کا ایک مطالبہ تھا کہ وزیر قانون زاہد حامد کو مستعفی ہو جانا چاہئے۔

‘اس لئے کہ یہ ان کی غلطی ہے۔ اس غلطی کا معلوم کرنے کیلئے راجہ ظفر الحق صاحب کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی تا کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حلف نامے میں تبدیلی کا بوجھ کس پر دھرا جائے‘ مگر اس کا تعین اسلئے ہونا مشکل ہے کہ یہ تبدیلی ایک انتیس ممبر کمیٹی نے کی جس میں ساری سیاسی جماعتوں کے اراکین شامل تھے پھر اس کا جائزہ نو اراکین کی کمیٹی نے لیا ‘اس کمیٹی میں بھی پارلیمان میں موجود ساری جماعتوں کے اراکین شامل تھے۔ جو یہ مسودہ منظور ہو کے پارلیمان میں لایا جانا تھا تو ظاہر ہے کہ اسے پارلیمان میں وزیر قانون نے ہی پیش کرنا تھا‘ وزیر قانون نے اس ترمیم شدہ مسودے کو اسمبلی میں پیش کیا ‘اس پر خاصی بحث کے بعد اسے پاس کر دیا گیا پھر اسے سینٹ میں منظوری کے لئے پیش کر دیا گیا اور سینٹ سے بھی یہ پاس ہو گیا لیکن جمعیت کے ایک رکن نے اس حلف نامے میں تبدیلی کی جانب اشارہ دیا تو اس غلطی کو درست کر دیا گیا۔ با ت ختم ہو گئی مگر کچھ سیاسی عناصر نے اس کو مسئلہ بنا لیا اور اس کے خلاف دھرنا دے دیا ۔ اس دھرنے نے ایک عجیب صورت اختیار کر لی چونکہ یہ ایک حساس مذہبی مسئلہ تھا کہ جس کے لئے ہر پاکستانی چاہے اس کا کسی بھی سیاسی پارٹی سے تعلق ہو وہ اپنی جان دینا بھی کم سمجھتا ہے۔

اس میں کوئی دو رائے ہو ہی نہیں سکتی کہ ختم نبوت پر کسی مسلمان کا مسلمان ہونا ہی مشکوک ہے اسی لئے اگر کوئی غلطی ہوئی تھی تو اسے دل و جان سے مان لیا گیا اور اس کی درستگی کر دی گئی اور اسلام کا ہی حکم ہے کہ اگر کوئی اپنی غلطی کو مان کرا س کا ازالہ ( توبہ کی صورت میں ) کر دیتا ہے تو اسے معاف کر دیا جائے گا۔ خیر بات آگے بڑھی تو وزیر قانون نے از خود استعفیٰ دے دیا‘ ان کے استعفیٰ دینے کے بعد دھرنے کا جواز ہی نہ تھا چنانچہ دھرنا قائدین نے دھرنا ختم کر دیا اور سارے شہروں میں دیئے گئے دھرنے بھی ختم ہو گئے ۔ اس کے بعد امید کی جا سکتی ہے کہ یہ معاملہ حل ہو گیا ہے او ر اس کے بعد پاکستان میں زندگی معمول پر آ جائے گی اور حکومت اور حزب اختلاف پوری تن دہی سے آئینی تبدیلیاں کر کے ملک کو ایک نئے الیکشن کی جانب لے جائیں گی۔ملک کو ایک الیکشن کی جانب لے کر جانا حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کافرض ہے جسے پارٹی سے بالا ہو کر ملک کی خاطر اور جمہوریت کی خاطر دونوں طرف سے بھر پور کوشش کی جائے گی۔ عدالت کا حکم بھی مان لیا گیا اور ہمارے خیال میں جمہوریت کو بھی بچا لیا گیا۔اب آگے کی ہی سوچنا چاہئے۔