بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان نے جدید ترین ٹینک کی تیاری شروع کردی

پاکستان نے جدید ترین ٹینک کی تیاری شروع کردی


اسلام آباد۔پاکستان نے عصر حاضر کے تقاضے پورے کرنے کے لیے جدید ترین ٹینک الخالد 2کی تیاری شروع کردی ہے تاہم مطلوبہ بجٹ نہ ملنے کی وجہ سے ٹینکوں کی سالانہ پیداوار پچاس سے کم ہو کر اٹھارہ رہ گئی ہے ۔۔ایچ ائی ٹی نے مطالبے پر سینیٹ کی دفاعی پیداوار کمیٹی کے تمام اراکین کو بلٹ پر وف جیکٹس فراہم کرنے کا بھی اعلان کردیا؂ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار کا لیفٹنٹ جنرل (ر)عبدالقیوم کی زیر صدارت اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا جس میں ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (ایچ آئی ٹی) کے امور کار پر بریفنگ دی گئی۔

؂وزیر دفاعی پیداوار اور سیکرٹری کی اجلاس میں عدم شرکت پر ارکان نے اظہار برھمی کیاقائمقام چیئرمین ایچ آئی ٹی بریگیڈیئر طاہر اسلام نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ ایچ آئی ٹی میں ٹینکس، ٹینکوں کی گنیں اور متعلقہ مصنوعات بنانا ہے، سالانہ 50 ٹینکس، 100 ٹینک کے انجن اور 50 اے پی سی تیار کرنے کی صلاحیت ہے، بریفنگ میں بتایا گیا کہ الخالد 1 ٹینک 220 کی تیاری 2016 میں شروع ہوئی اور 2023 تک دو مراحل میں مکمل ہوگی۔

30 لاکھ ڈالر میں ایک ٹینک تیارہوتا ہے، کورین ٹینک 12 ملین ڈالر میں بنتا ہے، بریفنگ میں بتایا گیا کہ الخالد ٹینک تکنیکی اعتبار سے کورین سے بہت بہتر ہے،مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر الخالد 2 ٹینک تیار کیا جارہا ہے،آئندہ 4 سالوں میں الخالد 2 کی پیداوار شروع ہوجائے گی، الخالد 2 کسی بھی طور جدید ترین ٹینکوں سے کم نہیں ہوگا، کوئی بھی ٹینک 35 سے 40 سال سروس میں رہتا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجٹ مسائل کی وجہ سے سال میں 50 کی بجائے صرف 18 ٹینک بناپارہے ہیں،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ نجی شعبے کے تعاون سے بہترین مصنوعات تیار کی جاسکتی ہیں،دفاعی مصنوعات کے شعبے میں بھی نجی اور سرکاری شعبے میں تعاون کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، بریفنگ میں بتایا گیا کہ 108 ٹینک کی تزئین و مرمت کا پہلا مرحلہ 2015 میں شروع ہوا، تزئین و مرمت کا پہلا مرحلہ رواں سال مکمل ہوجائے گا۔

160 ٹینکوں کی تزئین و مرمت کا دوسرا مرحلہ 2018 میں شروع ہوگا،فنڈز کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہے، براہ راست بجٹنہیں ملتا، منصوبوں کیلئے بجٹ جی ایچ کیو کے توسط سے آتا ہے، جس میں تاخیر ہوتی ہے، برامدات صرف اپنی ضروریات پوری ہونے کے بعد فاضل پیداوار پر ہوسکتی ہیں۔

کمیٹی کو بجٹ سے متعلق عسکری حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ انڈسٹریز پرا جیکٹ کے لیے فنڈز جی ایچ کیو مختص کرتا ہے۔جس پراجیکٹ کے لے فنڈز ملتے ہیں اس پرا جیکٹ پر ہی لگتا ہے۔ دفاعی حکام نے بتایا کہ بلٹ پروف جیکٹس پانچ ہزار سے زائد ہیں اگر کوئی پہن لے تو پتہ نہیں چلتا۔ سینیٹر حمد اللہ نے کہا کہ پھر تو میں ضرور لوں گا۔میں تو نائن الیوین سے اس جیکٹ کی تلاش میں ہوں، حکام نے بتایاکہ تمام ارکان کو بلٹ پروف جیکٹس پیش کرینگے۔