بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ہائیکورٹ کا اکوڑہ میں کمسن طالب علم پر تشدد کا نوٹس

ہائیکورٹ کا اکوڑہ میں کمسن طالب علم پر تشدد کا نوٹس


پشاور۔پشاورہائی کورٹ نے اکوڑہ خٹک کے سرکاری سکول میں استادکی جانب سے کمسن طالبعلم کو تشدد کانشانہ بنانے اوراس کاہاتھ توڑنے کے واقعہ کانوٹس لے لیاہے اورصوبائی حکومت سے جواب مانگ لیاہے کہ طالبعلم کاہاتھ توڑنے والااستاداب بھی ملازمت پربحال ہے یااسے برطرف کردیاگیاعدالت عالیہ کے عدالت عالیہ کے جسٹس قیصررشیداورجسٹس مسرت ہلالی پرمشتمل دورکنی بنچ نے یہ احکامات گذشتہ روز غیرسرکاری تنظیم کی جانب سے سٹریٹ چلڈرن کو سکولوں میں لانے کے لئے دائررٹ کی سماعت کے دوران جاری کئے۔

اس موقع پرپشاورہائی کورٹ کے جسٹس قیصررشید نے کہا ہے کہ حکومت ہرمعاملے میں سب اچھا کی رپورٹ پیش کردیتی ہے تاہم سب کچھ اس کے برعکس ہوتاہے تعلیم ہمارے آئندہ نسلوں کی بہتری کی ضمانت ہے مگراس طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے اب بھی سکولوں میں چھتیں نہیں ہیں اورطلباء کھلے آسمان تلے پڑھنے پرمجبورہیں اساتذہ اب طلباء کے ہاتھ پاؤں توڑنے لگے ہیں جس کی واضح مثال اکوڑہ خٹک میں ایک طالبعلم پراستادکاتشدد ہے کیا۔

اس ماحول میں بچے پڑھنے آئیں گئے حکومت نے اس حوالے سے کیاکیاہے کیااس استادکوفارغ کردیاگیاہے یااب بھی وہ اسی سکول میں پڑھارہا ہے انتہائی افسوس کامقام ہے یہ ریمارکس فاضل جسٹس نے حیدرامتیازایڈوکیٹ کی وساطت سے دائرغیرسرکاری تنظیم ایکسس ٹوکوالٹی ایجوکیشن کی جانب سے دائررٹ کی سماعت کے دوران دئیے دورکنی جسٹس قیصررشیدبنچ اور جسٹس مسرت ہلالی پرمشتمل تھا ۔

اس موقع پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سکندر شاہ عدالت میں پیش ہوئے اورصوبائی حکومت کی جانب سے ارسال کردہ رپورٹ پیش کی عدالت کو بتایاگیاکہ اس وقت لاکھوں کی تعداد میں بچے سکولوں سے باہرہیں جبکہ جو سکول ہیں ان میں سہولیات نہ ہونے کے برابرہیں بیشترسکولوں کی چاردیواریاں ہی نہیں اورجوبچے سکولوں سے باہرہیں ان کے لئے حکومتی اقدامات کئے جائیں اورانہیں سکول لایاجائے فاضل بنچ نے اس موقع پر سیکرٹری تعلیم کو طلب کرتے ہوئے رٹ کی سماعت اگلی پیشی تک ملتوی کردی ۔