بریکنگ نیوز
Home / کالم / کوئی تو آخر بول رہا ہے

کوئی تو آخر بول رہا ہے


جوں جوں رائے ونڈ مارچ کی تاریخ نزدیک آتی جا رہی ہے لگ یہ رہا ہے کہ شاید عمران خان کو اس سیاسی لانگ مارچ کوتن تنہا ہی سرانجام دینا پڑے ڈاکٹر طاہر القادری اس وقت تک یعنی 30 ستمبر 2016ء تک واپس آئیں یا نہ آئیں یہ خدا کو ہی پتا ہے وزیراعظم کیساتھ عمران خان کے دھرنوں کے خلاف جن جن سیاسی پارٹیوں نے وفاداری کا ثبوت دیا تھا ان میں شاید ہی کوئی سیاسی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے مجوزہ لانگ مارچ میں شامل ہو ۔ راولپنڈی سے صرف شیخ رشید ہی رائے ونڈ میں دلچسپی لے رہے ہیں لیکن خدا لگتی یہ ہے کہ ان کی سیاسی حیثیتOne Man Show سے زیادہ نہیں میڈیا کو بالکل نہیں چاہئے تھا کہ وہ اس لانگ مارچ کے سلسلے میں اس قدرHype پیدا کرتا الیکٹرانک میڈیاکئی دنوں سے تقریباً روزانہ سنسنی خیز خبریں ٹیلی کاسٹ کر رہا ہے کبھی وہ ایسی فوٹج چلاتا ہے کہ جس میں (ن) لیگ کی ڈنڈا برادر فورس کے جوان اپنے ہاتھوں میں ڈنڈے لئے کھڑے ہوتے ہیں اور ان کی دھمکی آمیز لہجے میں ڈوبی ہوئی آواز بھی سنائی جاتی ہے جس میں وہ پی ٹی آئی کے ورکز کو تنبیہ کرتے ہیں کہ اگر تم جاتی عمرا کی طرف آئے تو تمہاری ٹانگیں توڑ دیں گے‘ آخر یہ کیا ہے ؟ یہ کس قسم کی سیاسی تربیت سیاسی پارٹیاں اپنے ورکرز کو دے رہی ہیں اس قسم کی دھمکیوں سے اگر پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز مشتعل نہ ہوں گے تو پھرکون ہوں گے ؟ اور پھر پاکستان تحریک انصاف کی جواں لڑکیوں اور لڑکوں کو کفن پہنے ہوئے ٹیلی ویژن پر دکھانا بھی قابل مذمت ہے آخر وہ جلسہ کرنے جا رہے ہیں کہیں کسی کفار سے لڑنے تو نہیں جا رہے جو سر پر کفن انہوں نے باندھ لیا ہے ویسے یہ کفن پہننے کی رسم ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے اپنے اسلام آباد والے دھرنے میں ادا کی تھی مختصر یہ کہ رائے ونڈ مارچ کو جتنا میڈیا نے گرم کر دیا ہے۔

شاید پی ٹی آئی والوں نے اتنا گرم نہ کیا ہو تو وہی بات ہوئی نا کہ کچھ تو ہوتا ہے محبت میں جنوں کا اثر اور کچھ لوگ دیوانہ بناتے ہیں اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے اسے میڈیا نے مزید گرم کر دیا ہے اب خدا کرے کہ 30 ستمبر کا دن خیر وعافیت سے گزر جائے (ن) لیگ نے اچھا کیا جو یہ فیصلہ کر دیا کہ رائے ونڈ مارچ کے روٹ یعنی راستے میں جہاں جہاں بھی (ن)لیگ کے سیاسی دفتر ہیں وہ30 ستمبر کو بند رکھے جائیں اور (ن) لیگ والے بالکل اس روز اس روٹ پر نہ جائیں بلکہ اپنے گھروں میں رہیں ویسے بھی وہ جمعہ کا دن ہو گا پنجاب حکومت بالکل اس دن اس لانگ مارچ میں شرکت کرنے کیلئے دوسرے شہروں یا صوبوں سے لاہور آنے والے لوگوں پر پابندی نہ لگائے ان کو چھوڑ دیاجائے تاکہ وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال لیں یہ ایک عوامی سیلاب ہے کہ جس کوOut let ملنا چاہئے اس ضمن میں پاکستان تحریک انصاف سے زیادہ ذمہ داری (ن)لیگ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ صاحب اقتدار ہے اسے برداشت دور اندیشی اور صبر و تحمل کا زیادہ مظاہرہ کرنا ہوگا۔

عمران خان کی دیکھا دیکھی اب دوسری سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کا بھی جی کر رہاہے کہ وہ بھی اپنے اپنے سیاسی تندور گرم کریں چنانچہ پی پی پی بھی اب آئندہ چند روز میں متحرک ہونے والی ہے اے این پی بھی جلسے کرنے اور جلوس نکالنے کیلئے اپنے پر تول رہی ہے اور جماعت اسلامی بھی کچھ اس انداز میں سوچ رہی ہے ابھی بڑا وقت پڑا ہے 2018ء الیکشن کو اس وقت تک نہ جانے کون کون سے سیاسی اتحادبنیں؟ یہ بات تو طے ہے کہ (ن) لیگ کے کرتا دھرتوں کیخلاف کوئی اور سیاسی لیڈر بات کرے یا نہ کرے عمران خان یہ کام کرتا رہے گا اکثر لوگوں کا خیال یہ ہے کہ ملک میں کئی عرصے سے صرف پی ٹی آئی ہی صحیح اپوزیشن کا کام کر رہی ہے باقی سیاسی رہنما تو بس گونگے پہلوان ہیں عمران خان کے بدترین سیاسی دشمن بھی اس بات کے معترف ہیں کہ عمران خان کم از کم کھل کر حکمرانوں کی کرپشن کے پردے تو چاک کر رہا ہے عوام کو ان کے کرتوتوں سے باخبر تو کر رہا ہے اگر وہ بھی چپ ہار کر ایک طرف جا کر بیٹھ گیا تو پھر تو اس ملک کے سیاسی میدان میں ایک سناٹا سا چھا جائے گا ایک قبرستان سی خاموشی طاری ہو جائے گی دیگر رہنماؤں کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہے وہ توٹس سے مس نہیں ہورہے۔