بریکنگ نیوز
Home / کالم / نصف صدی کا قصہ

نصف صدی کا قصہ


پی پی پی50 برس کی ہو چکی ‘ کل اسلام آباد میں اس ضمن میں ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا جا رہا ہے چشم زدن کی بات ہے ‘ کل کی بات لگتی ہے جب نصف صدی قبل ذوالفقار علی بھٹو نے اسے تخلیق کیا تھا اس کے نعرے روٹی کپڑا اور مکان میں اس ملک کے غریب لوگوں کیلئے اتنی زیادہ کشش تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے اسوقت کے مغربی پاکستان کی ایک بڑی آبادی بھٹو صاحب کی گرویدہ ہو گئی اس وقت کے مشرقی پاکستان میں غالباً وہ اتنا سیاسی کام کر نہ پائے تھے کہ جتنا انہوں نے مغربی پاکستان میں کیا ورنہ1970ء کے الیکشن میں وہ وہاں بھی جھاڑو پھیر دیتے بھٹو ایک پڑھے لکھے انسان تھے خدا نے انہیں اچھی شکل و صورت سے بھی نوازا تھا وہ ایک کرشماتی قسم کے انسان تھے حاضر جواب تھے قابل تھے ملکی اور بین الاقوامی امور پر انکی گہری نظر تھی ایک مرتبہ جب وہ امریکی صدر سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کر رہے تھے تو انہوں نے بھٹو صاحب سے کہا کہ اگر آپ امریکی ہوتے تو میں یقیناًآپ کو اپنی کابینہ کا وزیر بناتا اس پر انہوں نے برجستہ امریکی صدر سے کہا جناب اگر میں امریکی ہوتا تو آج میں اس کرسی پر بیٹھا ہوتا کہ جس پر آپ بیٹھے ہوئے ہیں جنگوں میں فاتح ممالک کبھی بھی فتح کئے گئے علاقے باآسانی نہیں خالی کرتے گو وہ جنگی قیدی چھوڑ دیاکرتے ہیں یہ بھٹو کی ڈپلومیسی تھی کہ انہوں نے 1971ء کی جنگ میں بھارت سے شملہ معاہدے کے تحت وہ علاقے بھی خالی کرائے کہ جن پر اس کا قبضہ ہو گیاتھا بشمول90 ہزار جنگی قیدیوں کے ‘ اس ضمن میں شملہ میں اندرا گاندھی سے ان کی ملاقات نتیجہ خیز ثابت ہوئی ۔

1973ء کا آئین بھٹو صاحب کے دور حکومت کا ایک بڑا کارنامہ تھا بھارت نے تو اپنے لئے 1951ء میں آئین مرتب کر لیاتھاہم اس مسئلے کو لٹکاتے رہے اور یہ کریڈٹ یقیناًبھٹو اور پھر اس وقت موجود تمام سیاسی رہنماؤں کو بھی جاتا ہے کہ انہوں نے ملک کو 1973ء کا آئین دیا جسکی پاسداری پر وہ تمام سیاسی پارٹیاں آج بھی زور دیتی ہیں کہ جن کے رہنماؤں نے اس پر دستخط کئے تھے یہ علیحدہ بات ہے کہ اس آئین کی بعض شقوں کو بعد میں مسخ کیا جاتا رہا لیکن جہاں تک اس آئین کی تشکیل کا تعلق ہے اسکا زیادہ ترکریڈٹ بھٹو کو ملنا چاہئے بھٹو صاحب سے البتہ غریب لوگوں کو جو توقعات تھیں وہ سو فیصد پوری نہ ہو سکیں انہوں نے زندگی کے کئی شعبوں میں اصلاحات تو کیں لیکن وہ نیم دلانہ تھیں جس کی وجہ سے عام آدمی تک ان کے ثمرات نہ پہنچ سکے یہ جو اشرافیہ کا طبقہ ہے یہ بڑا کایاں ہوتا ہے اس نے بہت جلد بھٹو صاحب کو اپنے جام میں اتار لیا اور پی پی پی کیساتھ مخلص رہنماؤں کی جو ٹیم تھی اسے ان سے دور کر دیا ان میں خلیج پیدا کر دی ان میں غلط فہمیاں کھڑی کر دیں۔

حتیٰ کہ جے اے رحیم‘ ڈاکٹر مبشر حسن ‘ بابائے سوشل ازم شیخ رشید‘ معراج محمد خان جیسے لوگ جنہوں نے پی پی پی کا منشور مرتب کیا تھا دل برداشتہ ہو کرایک طرف ہو گئے اور بھٹو صاحب کے ار د گرد سرمایہ داروں ‘ وڈیروں نے ہالہ بنا لیا نہ جانے ان کو کیا سوجھی یا کسی نے غلط مشورہ دیا کہ چند نشستوں پر1977ء کے الیکشن میں رگنگ ضروری ہے اس دھاندلی کیخلاف احتجاج ہوا اور جس کے نتیجے میں پھر ملک میں مارشل لاء لگا اور بھٹو صاحب کو پھانسی دی گئی بھٹو صاحب کی بیلنس شیٹ کے کریڈٹ کے خانے میں اندراج زیادہ ہے کاش کہ وہ اپنے ان رفقائے کار سے دوریاں اختیار نہ کرتے کہ جنہوں نے پی پی پی کے قیام اور اس کی نشوو نما میں نمایاں کردار ادا کیا کاش کہ وہ اسی ڈگر پر یکسوئی اور اخلاص سے چلتے رہتے کہ جس پر چلنے کا انہوں نے قوم سے وعدہ کیا تھا اس کے باوجود پاکستان کی سیاست پر انہوں نے دور رس اثرات چھوڑے ہیں بھٹو کے سیاسی معیار کا لیڈر پی پی پی کو آج تک پھر نصیب نہ ہوا۔