بریکنگ نیوز
Home / کالم / خزاں کے موسم میں

خزاں کے موسم میں


قدرت کے اپنے ہی قوانین ہیں جن تک پہنچنا انسان کے بس میں نہیں ہے۔انسان ان قوانین کا مطالعہ کر کے اپنی زندگی میں بہتری لا نے کی کوشش توکر سکتا ہے مگر ان قوانین کو تبدیل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک درخت اپنے ننگے جسم پر سردی کے وار سہتا ہے۔ یخ بستہ ہواؤ ں کے تھپیڑے کھاتا ہے۔ ایک طویل سردی برداشت کرنے کے بعد اسے کونپلیں اور پتے عطا ہوتے ہیں جن کی خوراک کیلئے وہ اپنی جڑیں زمین میں دور دور تک پھیلاتا ہے اور اپنے پتوں کیلئے خوراک تلاشتا ہے اور انکو ہرا بھرا اور جوان رکھنے کے لئے زمین میں دور دور تک جا کر ان کے لئے خوراک لا تا ہے اور ساری بہار اور گرمی میں ان کے لئے خوراک مہیا کرتا رہتا ہے مگر جونہی خزاں کی پہلی ہوا آتی ہے پتے ایک ایک کر کے درخت کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور اس کو پوری سردی کا موسم ننگے جسم پر برداشت کرنا پڑتا ہے۔ بالکل اسی طرح ایک انسان اپنی اولادکے لئے اپنی جوانی برباد کرتا ہے ان کے لئے ہر قسم کی تکلیف برداشت کرتا ہے مگر جب قویٰ مضمحل ہوتے ہیں تو جوان اولادکہ جس کے لئے اس نے ساری جوانی برباد کی ہوتی ہے اس سے آنکھیں پھیر لیتی ہے اور یا تو وہ اکیلے چارپائی پر پڑے پڑے مو ت تک پہنچتا ہے یا اس کی ناز برداریوں سے پلی اولاد اسے کسی اولڈ ہوم کی نذر کر دیتی ہے‘ یہی حال سیاست کا ہے جب تک ایک لیڈر کی پارٹی بر سر اقتدار رہتی ہے اُس کے کارکن اس کیساتھ درخت کے پتوں کی طرح چمٹے رہتے ہیں اور جب اس پر زوال کے اثرات نمودار ہوتے ہیں تو اسکے بہت ہی قریبی ساتھی بھی بہانے ڈھونڈتے ہیں تا کہ اس کا ساتھ چھوڑ کر کسی ایسے لیڈرکا ساتھ دیں کہ جس کو اقتدار ملنے کی توقع ہو ۔

میاں نواز شریف کے ساتھ ننانوے میں بھی ایسا ہی ہو ا تھا کہ جب اسے جہاز اغواکے کیس میں ملوث کیا گیا تو اسکے بہترین ساتھی جن میں چوہدری برادران اور شیخ رشید جیسے قابل اعتماد لوگ شامل تھے اسکا ساتھ چھوڑ کر جنرل پرویز مشرف کیساتھ جا بیٹھے اور وہ مسلم لیگ جو اقتدارکے مزے لے رہی تھی اور جس کی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت تھی ٹوٹ پھوٹ کر ایک نئی مسلم لیگ کا روپ دھار گئی اورجسے جنرل پرویز مشرف کی سو فی صد حمایت حاصل تھی۔ یہی مسلم لیگ اگلے کئی سال تک اقتدار میں رہی مگر ایک جنرل کے سائے میں‘ اور جس کے ممبران زیادہ تر وہی لوگ تھے جو نواز شریف کے قریبی ساتھی ہونے کا دعویٰ رکھتے تھے وہ لوگ جو اس بر سر اقتدار مسلم لیگ کے اراکین تھے اور نواز شریف کیساتھ تھے اور اس کے اقتدار کے بعد بھی اس مسلم لیگ کے حامی تھے وہ دس سال تک مار کھاتے رہے مگر اپنے لیڈر کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچنے دی‘ جب دوبارہ نواز شریف کو اقتدار ملا تو اسکا ساتھ چھوڑنے والوں میں اکثریت کو معافی مل گئی اور وہ پھر سے اقتدارکے مزے لینے لگے‘ لیکن کچھ جو جنرل پرویزمشرف کے بہت قریب تھے ا ور جنہوں نے اپنی خدمات ازخود جنر ل کو پیش کی تھیں وہ نواز شریف کا قرب حاصل نہ کر سکے اور گذشتہ چار سال سے متواتراس حکومت کیخلاف سازشوں میں مصروف رہے انکی بات بنتی نظر آ رہی ہے۔

اب وہی لوگ جو گذشتہ چار سال سے اقتدار کے مزے لے رہے تھے ہوا کے رخ پر پرواز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں آئین میں ایک ترمیمی بل پیش ہوا جس کواسمبلی کی کمیٹی نے عرق ریزی سے تیار کیا ‘اس میں اسمبلی میں موجود ساری پارٹیوں کے اراکین نے حصہ لیا مگر اس میں ختم نبوت کے حلف نامے میں نادانستہ طور پرکچھ الفاظ آگے پیچھے ہو گئے جن کی نشاندہی سینٹ میں ہوئی اور ان الفاظ کو پھر اصلی حالت میں کر دیا گیامگر سازش کرنے والوں نے اس غلطی کو اٹھا لیا اور صاحبان علم دین نے اسے ایک سازش بنا کر پیش کیا اورمسلمانوں کے جذبات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس مسئلے کو سڑکوں پر لے آئے‘ اسکی وجہ سے حکومت کے اندر دراڑیں پڑتی دکھائی دیں تو مسلم لیگ کے پنجابی ساتھیوں نے دکھتی انگلیاں پکڑنی شروع کر دیں اور بہت سے ساتھی اپنے اپنے استعفے لیکر میدان میں حاضر ہیں اور اقتدارکی ہچکولے کھاتی کشتی سے چھلانگیں مارنے کو تیارہیں‘ انکے مطالبات کو دیکھ کر ہنسی نکل جاتی ہے کہ کس بھونڈے طریقے سے یہ لوگ اس پارٹی کو چھوڑنے کو تیار ہو رہے ہیں کہ جس نے ان کو اقتدارکے مزے دیئے۔مگر کیاکیا جائے کہ یہ قدرت کا ایساقانون ہے کہ جس میں کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا۔