بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / سوالیہ نشان!

سوالیہ نشان!


خیبرپختونخوا پولیس کا ’’شعبۂ تفتیش‘‘ اور جملہ خفیہ اداروں کے اہلکار مربوط کوشش کر رہے ہیں کہ بارہ ربیع الاوّل عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یکم دسمبر) کا اِنتخاب کرتے ہوئے ’زرعی تربیتی مرکز پشاور‘ پر حملے اُور اِس سے حاصل ہونے والے شواہد و ثبوتوں کی بنیاد پر سہولت کاروں تک رسائی حاصل کی جا سکے‘ جنہوں نے دہشت گردی کی اِس واردات کو ممکن بنانے میں (درپردہ رہتے ہوئے) اہم کردار اَدا کیا ہے اُور اتفاق اِس بات پر ہے کہ جب تک دہشت گردوں کے لئے سہولت کاری کرنے والوں کو گرفتار (بے نقاب) نہیں کیا جاتا‘ اُس وقت تک بالخصوص تعلیمی اِداروں پر مزید ایسے حملوں کے اِمکانات (خطرات) کو ختم نہیں کیا جا سکے گا۔ تفتیش کا دائرہ یقیناًوسیع تو ہے لیکن اِس میں جس قدر زور (focus) مالی و افرادی وسائل کی دستیابی اور پشاور کے تین اطراف قبائلی علاقوں کی امتیازی حیثیت پر ہونا چاہئے‘ وہ دکھائی نہیں دے رہا۔ اگرچہ پشاور پولیس نے بہادری کی مثال قائم کرتے ہوئے قبائلی علاقوں میں گھس کر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف چند ایک کاروائیاں کی ہیں لیکن یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔ حالیہ دہشت گرد حملے پر ’خیبرپختونخوا اسمبلی‘ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور اِس سلسلے میں پولیس سربراہ سے ’بند کمرے اجلاس‘ میں رپورٹ طلب کی ہے‘ جس سے قانون سازوں کے خدشات دور ہوں گے یا نہیں لیکن پہلے سے دباؤ میں محکمۂ پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ضرور لگ گیا ہے جو قطعی منطقی نہیں۔

ایک ہی سانس میں پولیس کی تعریف اور اُس پر تنقید کرنے والے اراکین صوبائی اسمبلی کی جانب سے ایک جائز مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ ’’نیشنل ایکشن پلان‘‘ پر اُس کی روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے لیکن اِسی ضرورت کو تو خود پولیس کے ذمہ دار بھی محسوس کر رہے ہیں۔ کیا منتخب نمائندے اپنی آمدنی کے مطابق مالی حیثیت اور اثاثہ جات کی تفصیلات سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کرنے میں سوفیصد صداقت سے کام لیتے ہیں؟ کیا اراکین اسمبلی سرمائے کی غیرقانونی بیرون ملک منتقلی (ہنڈی کے کاروبار) کا خاتمہ چاہیں گے؟ خواہشات عمل سے مطابق ہونا چاہئے۔ بیانات اور تقاریر سے معاملات کو مزید الجھانے کے ماہرین اگر اپنی خداداد صلاحیتوں کا استعمال کسی دوسرے مقصد کے لئے کریں تو نہ صرف اُن کے حق میں بلکہ ملک کو قوم کے حق میں بھی زیادہ مفید ہوگا۔ اراکین صوبائی اسمبلی کی جانب سے وفاقی حکومت کی توجہ اِس جانب مبذول کی گئی ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس کی افرادی قوت اور تکنیکی استعداد میں اضافہ کیا جائے لیکن کیا یہی کام صوبائی وسائل سے ممکن نہیں۔

اے کاش کہ نیت (ارادہ) اور کوشش بھی ہمراہ ہوتی! ’زرعی تربیتی مرکز‘ پر حملے سے متعلق پشاور پولیس کی مرتب کردہ عبوری رپورٹ میں اِس بات کا بالخصوص ذکر ملتا ہے کہ منصوبہ سازوں اور سہولت کار خفیہ ادارے کے دفتر کو نشانہ بنانا چاہتے تھے جنہیں غلط فہمی ہوئی۔ اس سلسلے میں اُن کی طلباء سے بات چیت کا حوالہ بھی دیا گیا ہے‘ ’زرعی تربیتی مرکز‘ پر حملے کی پولیس کے ’انسداد دہشت گردی (کاؤنٹر ٹیرراِزم ڈیپارٹمنٹ) نے پاکستان پینل کوڈ اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء کے سیکشن سات اور اسلحہ ایکٹ کے سیکشن پندرہ کے تحت ’ایف آئی آر‘ درج کی ہے‘ جس میں تین سو دو‘ تین سو چوبیس‘ تین سو تریپن اور چار سو ستائیس دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ’ایف آئی آر‘ کے مطابق حملہ صبح آٹھ بج کر پینتیس منٹ پر ہوا‘ جب رکشے میں سوار تین برقع پوش حملہ آوروں نے ’زرعی تربیتی مرکز‘ کے دروازے پر تعینات چوکیدار (عبدالحمید) کو نشانہ بنایا اُور عمارت میں داخل ہوئے‘سیکورٹی اداروں کی بروقت کاروائی سے حملہ آوروں کو ایک بلاک تک محدود کیا گیا اور نقصان کو کم سے کم کرنے کی جو کوشش کی گئی وہ بڑی حد تک کامیاب رہی تاہم مزیدبہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔