بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / حکومت کا خواتین کو بااختیار بنانے کی پالیسی کا اعلان

حکومت کا خواتین کو بااختیار بنانے کی پالیسی کا اعلان


پشاور ۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے خواتین کو با اختیار بنانے کی صوبائی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو با اختیار بنانا قومی سطح پر غربت کے خاتمے،اعتدال پسند معاشرے کی تشکیل اور معاشی خود کفالت کی کنجی ہے۔ یہ انسانی ترقی اور بنیادی انسانی حقوق کا لازمی جز ہے۔ صوبائی حکومت جانتی ہے کہ خواتین کی ترقی در اصل انسانی ترقی کا پیش خیمہ ہے۔اس لئے خواتین کو با اختیار بنانا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ہم نے خواتین کے حوالے سے تعلیم، صحت ، گورننس ، انصاف تک رسائی اور روزگار کے مواقع بڑھانے سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں کئی ٹھوس اقدامات کئے ہیں تاہم ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔خواتین کی تعلیم ،روزگار،جائیداد میں وراثت،قرضوں کی سہولت،انصاف تک رسائی ، سیاست و حکومت اور قومی و نجی زندگی کے تمام شعبوں میں زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی اور ترقی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کیلئے مزید اقدامات اور کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

وہ وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں ویمن امپاورمنٹ پالیسی پر سیمینار کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے تقریب سے ویمن پارلیمنٹری کاکس کی چیئرپرسن معراج ہمایون، کنٹری ہیڈ ، یو این او ویمن ویلفیئر جمشید قاضی اور دیگر نے بھی خطاب کیا اور خواتین کی فلاح و بہبود سے متعلق صوبائی حکومت کے اقدامات پر روشنی ڈالی جبکہ تقریب میں خیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی سپیکرڈاکٹر مہرتاج روغانی، صوبائی وزیراطلاعات شاہ فرمان اور بعض دیگر صوبائی وزرا و ارکان اسمبلی کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے شرکت کی وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری صوبائی حکومت نے خواتین کیلئے اپنی بہتری کی غرض سے فیصلہ سازی کے قابل بنانے اور انہیں ترقی کا سازگار ماحول مہیا کرنے کیلئے خواتین کو با اختیار بنانے کی پالیسی ڈرافٹ کی ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ اس ضمن میں اہداف کے حصول کیلئے کافی حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔اس سلسلے میں ویمن پارلیمنٹری کاکس کی کوششیں بھی قابل ستائش ہیں۔ یقین ہے کہ ان مخلصانہ کوششوں کی بدولت ہم خیبر پختونخوا میں خواتین کو با اختیار بنانے کا ہدف حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔اس پالیسی کا مقصد سماجی و معاشی،سیاسی اورقانونی حوالوں سے خواتین کی مجموعی حالت کی بہتری یقینی بنانا ہے۔ ان میں خواتین کو تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی، معاشرے میں صنفی تفریق کو کم سے کم سطح پر لانا، ملازمتوں اور آمدن کے مواقع بڑھانا ،سیاست و معیشت سمیت تمام میدانوں میں برابری کی سطح پر شرکت یقینی بنانا اور ان کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد کا خاتمہ شامل ہیں جس کیلئے جامع قانون سازی اور اس پر مؤثر عملدرآمدناگزیر بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی خواتین سے عدم امتیاز،صنفی برابری، دیہی علاقوں میں خواتین کو ترجیح،خواتین کی قدر و منزلت ، زندگی کے تمام شعبوں میں خدمات کے مواقع،تعمیر و ترقی کے عمل میں مردوں کے شانہ بشانہ لانے اور سماجی،معاشی اور سیاسی میدان میں تبدیلی کا ایجنٹ بنانے پر مبنی ہے۔حکومت نے اس ضمن میں کافی پیش رفت حاصل کی ہے۔ صوبائی کابینہ نے حال ہی میں خواتین کو کام کی جگہ پر ہراساں کرنے سے تحفظ کے ترمیمی ایکٹ کے مسودے کی منظوری دی ہے جس کی بدولت انہیں کام کے دوران ہراساں کرنے کی لعنت کا خاتمہ ہو گا۔اس کے علاوہ صوبائی حکومت نے صوبائی کمیشن برائے سٹیٹس آف ویمن ایکٹ 2016پر پہلے ہی عملدرآمد شروع کیا ہے جس سے خواتین کمیشن کو مالی اور انتظامی خود مختاری ملی ہے۔ اسی طرح صوبائی حکومت نے بیواؤں اور بے آسرا خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے لسائل والمحروم فاؤنڈیشن ایکٹ 2015کا نفاذ بھی کیا ہے۔صوبے میں عمر رسیدہ افراد بشمول خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے سینئر سٹیزن ایکٹ 2014بھی نافذ کیا گیا ہے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ ہم اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہیں کہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد آج کی دنیا میں سب سے زیادہ تباہ کن اور انسانی حقوق کے بر خلاف فعل ہے۔اس لعنت کے خاتمے کیلئے صوبائی حکومت عنقریب گھریلو تشدد اورجلانے سے بچاؤ و بحالی کے دو بل پیش کر رہی ہے۔صوبائی حکومت نے محکمہ سماجی بہبود ، خصوصی تعلیم اور ترقی نسواں پشاور میں “بولو اور بدلو”کے نام سے ٹول فری ہیلپ لائن قائم کی ہے جہاں صوبے بھر سے صنفی تفریق کی بنیاد پر ہونے والے تشدد کی رپورٹنگ کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس حقیقت سے بھی مکمل آگاہ ہے کہ کارکن خواتین کو معاشرے میں آئے روز نت نئے چیلنجوں کا سامنا ہوتا ہے جن میں رہائشی سہولیات کا فقدان بھی شامل ہے ۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت نے کارکن خواتین کیلئے پشاور اور مردان میں دو ہاسٹل قائم کئے جبکہ سوات میں ایک ہاسٹل2017-18کے اے ڈی پی میں شامل کیا ہے۔ صوبائی حکومت نے سول سیکرٹریٹ پشاور کی حدود میں کارکن خواتین کیلئے ڈے کیئر سنٹر بھی قائم کیا ہے جس کا عنقریب افتتاح ہونے والا ہے۔اسی طرح صوبے میں پہلے سے قائم 9ویلفیئر ہومز کے علاوہ صوبائی حکومت نے ہنگو اور صوابی کے اضلاع میں یتیم اور بے آسرا بچوں اور لڑکیوں کیلئے دو مزید ویلفیئر ہوم بھی قائم کئے ہیں۔صوبائی حکومت نے ضلع مانسہرہ میں خواتین کیلئے ایک دارالامان قائم کیا جبکہ چترال اور بنوں میں دو مزید دارالامان رواں اے ڈی پی میں شامل کئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ صوبائی حکومت کے ان اقدامات کی بدولت خواتین سے متعلق رویوں میں مثبت تبدیلی آئے گی اور خواتین کو با اختیار بنانے کیلئے پالیسی پر عملدرآمد توقعات کے مطابق کامیابی سے ہمکنار ہونے کے علاوہ مطلوبہ اہداف کا حصول آسان بنے گا۔ پرویز خٹک نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ خواتین کو با اختیار بنانے سے متعلق 16 روزہ بین الاقوامی مہم آج سے ہمارے صوبے میں اُسی جذبے کے تحت شروع کی جارہی ہے جس کا تھیم ہے کہ خواتین بالخصوص لڑکیوں پر تشدد کا خاتمہ کیا جائے ۔آج ہمیں بحیثیت قوم یہ عزم کرنا ہے کہ معاشرے میں خواتین اور بالخصوص کمسن لڑکیوں کے خلاف تشدد ماضی کا قصہ بن جائے۔