بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا میں 22ارب روپے کے منصوبوں کا آغاز

خیبر پختونخوا میں 22ارب روپے کے منصوبوں کا آغاز


پشاور ۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے صوبہ بھر میں ترقیاتی سکیموں کیلئے سات ارب روپے جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور کہا ہے کہ صوبہ کے مختلف علاقوں کو باہم منسلک کرنے والے روڈ کمیونیکیشن کے80ارب روپے کے میگا پراجیکٹس پر کام جاری ہے جسکے لئے 40ارب روپے پہلے سے جاری کئے جا چکے ہیں صوبائی حکومت نے ایریگیشن سکیموں کیلئے بھی ایک ارب روپے رواں ماہ جاری کر دیئے ہیں جبکہ آئندہ ماہ مزید ایک ارب روپے جاری کئے جائیں گے۔انہوں نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت صوبہ بھر میں 22ارب روپے کے منصوبے شروع کر رہی ہے انہوں نے صوبہ بھر میںآئمہ مساجد کے ماہانہ وظائف اور مساجد کی سولرائزیشن کے عمل کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ سوات کالام تا دیر کمراٹ کو مختلف وادیوں کو باہم مربوط کرنے والے روڈ کمیونیکیشن کے ذریعے سیاحتی خطوط پر ترقی دینے کا پلان ہے۔یہ پورے خطے کا ایک طویل اوربڑا سیاحتی سپاٹ ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں صوبائی وزیر برائے بلدیات عنایت اللہ خان کی سربراہی میں جماعت اسلامی کے ممبران صوبائی اسمبلی کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزراء اور اراکین صوبائی اسمبلی بھی موقع پر موجود تھے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترقیاتی حکمت عملی کے تحت صوبے کے تمام علاقوں کو منصفانہ حصہ دینے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ترقیاتی حکمت عملی میں میرٹ اور شفافیت کا عنصر یقینی بنایا جا رہا ہے۔مجموعی ترقیاتی عمل عوامی مسائل اور ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ ترقیاتی اخراجات کے نتیجے میں عوام کی فلاح نظر آنے چاہئے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انکی حکومت کی ترقیاتی حکمت عملی اور ماضی کی حکومتوں کے ترقیاتی پلان میں بڑا فرق ہے۔آج پوری کابینہ حکومت کی نمائندہ ہے وسائل کی تخصیص کا فارمولہ ایک مشترکہ سوچ کے تحت وضع کیا گیا ہے جس میں ماضی میں نظر انداز کئے گئے عوام کی فلاح اور شفافیت یقینی بنائی گئی ہے۔پرویز خٹک نے یقین دلایا کہ صوبے کا ہر علاقہ وسائل کی تقسیم ، ترقیاتی سکیموں اور خوشحالی کے مجموعی پروگرام میں اپنا پورا پورا حصہ حاصل کرے گا۔صوبائی حکومت کی طرف سے جاری کردہ سات ارب روپے کی صوبے کے علاقوں میں مساوی تقسیم یقینی بنائی جائے گی تاہم صوبے کے پسماندہ اضلاع اور علاقے خصوصی توجہ کا مرکز ہوں گے۔

وزیر اعلیٰ نے ارکین صوبائی اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ اپنے علاقوں کیلئے منصوبے تیار کریں ، بجلی ، گیس اور شمسی توانائی کے منصوبوں کو ترجیح دیں کیونکہ اس صوبے کے عوام نے واپڈا کی غیر منصفانہ پالیسیوں کی وجہ سے بہت تکالیف اٹھائی ہیں۔ صوبے میں نا قابل برداشت حد تک لوڈ شیڈنگ نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے وزیر اعلیٰ نے سکولوں کی نان اے ڈی پی سکیموں کی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اس سلسلے میں بہت جلد اجلاس طلب کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔

پرویز خٹک نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبہ بھر میں مختلف شعبوں میں متعدد منصوبوں کیلئے 22ارب روپے جاری کرے گی۔ یہ تمام منصوبے ضرورت کی بنیاد پر ہوں گے اور وسائل کی تقسیم کا فارمولہ شفاف اور منصفانہ ہو گا۔انہوں نے محکمہ تعلیم کو ہدایت کی کہ سکیموں کو جلد عملی جامع پہنائے۔ وسائل پہلے سے جاری کئے جا چکے ہیں اب ان کا مزید استعمال نظر آنا چاہئے اور شفافیت یقینی بنائی جائے۔وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ صوبائی حکومت کی ترقیاتی حکمت عملی صوبے کی شکل بدلنے کے حوالے سے نظر آنے والی تبدیلی یقینی بنائی گی۔