بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بھارتی جارحیت اور عالمی برادری

بھارتی جارحیت اور عالمی برادری

وزیر اعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ سے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کا نوٹس لینے کو کہا ہے ۔ پرائم منسٹر ہاؤس میں ایل او سی کی صورتحال پر منعقدہ اجلاس میں وزیر اعظم نے کلیئر کیا کہ بھارت پاکستان کے صبر و تحمل کو کسی صورت کمزوری نہ سمجھے ان کا کہنا ہے کہ پاک فوج ملک کے چپے چپے کی حفاظت کرنے اور بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ عین اسی روز اقوام متحدہ نے کنٹرول لائن پر جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اڑی حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کی بھی سختی سے تردید کی ہے ۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو اپنے تمام مسائل کا حل مذاکرات کے راستے سے ہی نکالنا چاہئے۔ دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی افواج کی جانب سے کنٹرول لائن پر جارحیت سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی افواج نے دو ماہ میں 230 مرتبہ کنٹرول لائن کی خلاف ورزی اور شہری آبادی کو ٹارگٹ کرکے عالمی قانون کے منہ پر طمانچہ مارا ہے ‘ رپورٹ میں موجود اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گن سے معذور ہونے والوں کی تعداد ساڑھے تیرہ سو سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور حق خوداریت کی آواز دبانے میں ناکامی پر دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوششوں میں بھارت اس سے قبل پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کر چکا ہے جبکہ کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز کے واقعہ میں بھارتی فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے 7 جوان شہید ہوئے ہیں۔

جس پر پاک فوج کے بھر پور اور موثر جوابی وار میں کئی ہندوستانی مورچے اور چوکیاں تباہ ہوئی ہیں واقعہ پر سخت احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے بھارتی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا گیا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے واضح کیا ہے کہ فوج مادر وطن کے دفاع کیلئے ہمہ وقت چوکس ہے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے خصوصی اجلاس میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق حالیہ دنوں میں بھارتی افواج کی فائرنگ اور شیلنگ میں شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ جن میں 26 شہری شہید اور 107 زخمی ہو چکے ہیں ‘ برسرزمین حالات اور ریکارڈ پر موجودشواہد کی روشنی میں یہ بات باکل واضح ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہیں کر رہا۔ بھارت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کر رہا ہے بھارت کنٹرول لائن پر آبادیوں کو نشانہ بنا رہا ہے بھارت اپنی جارحیت کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے دریائے چناب کا پانی روک رہا ہے‘ اس آبی جارحیت کے نتیجے میں وطن عزیز کے مختلف علاقوں میں گندم کی بوائی میں تاخیر کا خدشہ ہے، اس ساری صورتحال پر کیا امریکہ اور دیگر ممالک کا خاموش رہنا خود انکی ساکھ اور غیر جانبداری پر سوالیہ نشان ثبت نہیں کر رہا۔

عالمی برادری کو ریکارڈ پر موجود وہ کوششیں بھی دیکھنا ہوں گی جو پاکستان بھارت کیساتھ مذاکرات کیلئے کر چکا ہے اور بھارت نے ہر مرتبہ ان کوششوں کو سبوتاژ کیا، دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے آغاز سے بھارت کو مروڑ اٹھ رہے ہیں، مدنظر یہ بات بھی رہنی چاہئے کہ خفیہ ایجنٹوں کی گرفتاری کے ساتھ پاکستان بھارتی مداخلت کے حوالے سے شواہد بھی پیش کرچکا ہے۔خطے میں امن، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششیں اور افغانستان کے حوالے سے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے درست اور اصولی موقف کی بھرپور سپورٹ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔