بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / خود احتسابی

خود احتسابی


اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے عوام کی واضح اکثریت اب بھی تحریک انصاف سے امیدیں و توقعات وابستہ کئے ہوئے ہے اور پی ٹی آئی کو ملک گیر سیاسی قوت کی حیثیت سے تسلیم کیا جا رہا ہے تاہم یہ توقعات اور امیدیں اسی صورت پھل پھول سکتی ہیں جب تحریک انصاف کی پیش قدمی عوامی خواہشات کے مطابق ہو۔ تبدیلی کے نعرے سے پاکستان کی سیاست میں ہلچل پیدا کر نے والی تحریک انصاف کیلئے سب سے زیادہ ضروری عمل اپنی پیش قدمی کو اس نعرے سے ہم آہنگ رکھنا ہے ۔باوجود اس کے کہ عمران خان کے خیر خواہ انکی باتوں کا سنجیدگی سے اثر لیتے ہیں اور انکی کال پر لبیک کہنے کیلئے تیار ملتے ہیں پھر بھی اسلام آباد دھرنے سے لیکر پانامہ لیکس احتجاج تک اُن خاص مواقع پر جب پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے’’ روایتی‘‘ سیاسی رویئے کا مظاہرہ کیا گیاتحریک کے خیر خواہ متاثر نہیں ہوئے ۔ اس حوالے سے متعدد عوامل بشمول بغیر ثبوت الزامات کا عائد کیا جانا ، سنی سنائی باتوں کا حقائق کے طور پر پیش کیا جانا اور غیر ضروری طور پر نعروں کی بنیاد پے عوام کو اشتعال دلا نے کی کوششیں جو روایتی سیاسی حربوں کے زمرے میں آتی ہیں مثال کے طور پر پیش کی جا سکتی ہیں۔یہ عوامل کئی مواقع پر پی ٹی آئی کے ہمدردوں کی دل شکنی کاباعث بنے ہیں ۔

عمران خان کے خلوص نیت ، ملک و قوم سے وفاداری اور دیانت و امانت پر اب بھی کسی کو کوئی شک نہیں لیکن کپتان کا اہم پارٹی فیصلوں کے حوالے سے بار بار بعض’’ قریبی‘‘ ساتھیوں کی رائے کو غیر ضروری طور پر مقدم رکھنا ایک قائد کی حیثیت سے ا نکے تشخص پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ دریں اثناء انتخابی دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے دوران متعلقہ کمیشن کے روبرو الزامات کے حق میں ٹھوس و ناقابل تردید ثبوت پیش نہ کر سکنے اور پانامہ لیکس کے تناظر میں سپریم کورٹ میں دائر آئینی درخواست پر رجسٹرار سپریم کورٹ کے اعتراضات سمیت کچھ حوالے ایسے بھی ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی بعض اہم مواقع پر اپنے مؤقف کو آئین و قانون کی روشنی میں قابل یقین حیثیت دینے میں کامیاب نہیں ہو ئی۔ادھرتحریک انصاف کے متعدد دیرینہ راہنماؤں کی جانب سے بعض قائدین کے طرز عمل اور اہم پارٹی فیصلوں پر اٹھنے والے اعتراضات بھی ایک ایسی سیاسی جماعت کے لئے لمحہ فکریہ ہیں جو ملک کے سیاسی نقشے پر اپنے وجود کو ’’غیر روایتی‘‘ حیثیت میں برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ پی ٹی آئی کے گزشتہ پارٹی انتخابات اور دیگر معاملات سے متعلق جسٹس (ر) وجیہہ الدین کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ایک’’ غیر روایتی ‘‘ سیاسی جماعت کی قیادت کی حیثیت سے پی ٹی آئی قائدین کوجو اقدامات لینے چاہئے تھے وہ بروقت نہیں لئے گئے ۔اس رپورٹ پر عمل درآمد میں پہلے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا گیا لیکن بعد ازاں وقت اور حالات کے تقاضو ں کا ادراک کرتے ہوئے وجیہہ الدین کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں تمام پارٹی عہدے ختم کرکے نئے پارٹی انتخابات کے انعقاد تک عبوری سیٹ اپ قا ئم کیاگیا۔

اس کے بعد نئی پارٹی رکنیت اور اس کی بنیاد پر نئے پارٹی انتخابات کیلئے تاریخ کا اعلان تو کیا گیا لیکن جب یہ تاریخ قریب آئی تو پانامہ لیکس کی تحریک کو بنیاد بنا کر پارٹی انتخابات مؤخر کر دیئے گئے اور روایتی انداز میں پارٹی عہدوں پر نامزدگیوں کے سہارے آگے بڑھنے کی کوشش کی گئی۔ یہ نامزدگیاں پارٹی کے راہنما وں اور عام کارکنوں میں بد دلی و مایوسی پھیلانے کا باعث بنی ہیں۔مختصراََ یہ کہ پاکستان تحریک انصاف جیسی مضبوط ، متحرک اور فعال جماعت کے معالات کواُن توقعات کے مطابق جو عوام نے اس جماعت سے وابستہ کر رکھی ہیں آگے بڑھانے کیلئے ہر زاویئے سے تسلسل کے ساتھ غور و فکر ضروری ہے ۔ خود احتسابی بڑی اچھی چیز ہے ۔ مصروفیات ،مسئلے مسائل اور الجھنوں میں گھرا انسان اگرکچھ وقت کیلئے سب سے الگ تھلگ ہو کر تنہائی اختیار کر لے اور خود احتسابی کی طاقت کو کام میں لا کر غور و فکر کرے تو اُس پر اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے بہت سے مخفی زاویئے آشکارا ہوجاتے ہیں،وہ غلطیوں اور کو تاہیوں کا ادراک کر سکتا ہے اور صحیح و غلط میں فرق کرکے آئندہ کیلئے بہتر لائن آف ایکشن کا تعین کرنے کے قابل ہو سکتاہے۔کپتان بھی اگر کچھ وقت کیلئے دوستوں ، خیر خواہوں ، مشیروں اور ناصحین کی بھیڑ سے الگ ہو کر ’’ تنہائی‘‘ اختیار کرے اور خود احتسابی کی شمع روشن کر کے ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ان تمام سوالوں پر (جو اسکی جماعت کے سیاسی کردار کے حوالے سے اٹھائے جارہے ہیں )غور کرتے ہوئے انکے جوابات تک پہنچنے کی کوشش کرے تو یہ اس کی ذات اور اسکی جماعت دونوں کے حق میں بہتر ہو گا۔