بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ،حلب پر حملوں کی مذمت

سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ،حلب پر حملوں کی مذمت


نیو یا رک۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں امریکا ، برطانیہ اورفرانس نے روس پرچڑھائی کردی۔ شام کے شہرحلب میں روس اور شامی فوج کے فضائی حملے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس میں 124افراد ہلاک ہوئے۔جن میں اکثریت شہریوں کی تھی۔۔سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی سفیرسمنتھا پاورنے کہا کہ حلب میں وحشیانہ بمباری سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ امن کی کوششوں کی بجائے روس اور بشار الاسد صرف فوجی حل پریقین رکھتے ہیں۔مریکی سفیر سمنتھا پاور کا کہنا تھا کہ روس شام میں انسداد دہشت گردی میں نہیں بلکہ بربریت میں ملوث ہے۔س

منتھا پاور نے سلامتی کونسل میں بتایا کہ روس اور شام نے حلب میں حکومت مخالف باغیوں پر جنگ مسلط کی ہوئی ہے اور وہ جنگی جرائم کے مرتکب بھی ہوسکتے ہیں۔دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ شامی فوجیں حلب میں عام شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچائے حلب سے دہشت گردوں کو نکالنے کی کوشش کر رہی تھی۔روسی سفیر وتالی شرکن نے یہ نہیں کہا کہ اس میں روسی فوجیں بھی شامل تھیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ شام میں امن کا قیام ’اب تقریباً ناممکن کام ہے۔‘ انھوں نے حکومت مخالف مسلح گروہوں پر جنگ بندی کے معاہدے کو ثبوتاژ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔سمنتھا پاور کا کہنا تھا کہ ’امن کے بجائے، روس اور اسد جنگ کر رہے ہیں۔ شامیوں کو جان بچانے والی امداد فراہم کرنے کے بجائے روس اور اسد ہسپتالوں اور طبی عملے پر بمباری کر رہے ہیں۔‘اجلاس کے دوران کئی ممبران کی جانب سے کہا گیا پیر کو روس کی جانب سے امدادی قافلے پر بمباری کرنے پر جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا جا سکتا ہے۔دوسری جانب روس نے اس حملے کی تردید کی ہے جس میں 31 امدادی ٹرکوں میں سے 18 ٹرک تباہ ہوگئے تھے۔

اس کا کہنا تھا کہ اس کا ذمہ دار باغیوں کی بمباری یا امریکی ڈرون ہیں۔روس کی جانب سے جنگ بندی کے حالیہ معاہدے کے خاتمے کے بعد حلب میں بمباری کی بھی تردید کی گئی ہے۔حلب پردوبارہ قبضے کیلیے روس اورشام شدید کارروائی کررہے ہیں جہاں تین روزمیں 150فضائی حملے کیے جاچکے ہیں۔برطانوی سفیر، میتھیو رائیکروفٹ نے کہا کہ روس کو چاہیے کہ وہ پھر سے سیاسی مذاکرات کا راستہ نکالنے کی کوشش کرے۔فرانس کے سفیر فرانسواں دیترے نے کہا کہ حلب میں جنگی جرائم سرزد ہو رہے ہیں۔ روسی نمائندے ویٹالی چرکن نے کہا کہ شام کے علاقوں کو بلاامتیاز بم حملوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے اورامن بحال کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے