بریکنگ نیوز
Home / کالم / روس ایک ابھرتی ہوئی طاقت

روس ایک ابھرتی ہوئی طاقت


جب براک اوباما نے یورپی یونین کے ساتھ مل کر روس پر پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں اور ولادیمیر پیوٹن نے کریمیا پر قبضہ اور یوکرین اور شام پر حملے کر کے مغربی ملکوں کو بر افروختہ کیا ہوا ہے تو ایسے میں ڈونلڈ ٹرمپ روس کے صدر کی تعریفیں کیوں کر رہا ہے انتخابی مہم کے دوران جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ وہ پیوٹن کی تعریف و توصیف کیوں کرتا ہے تو اس نے جواب دیا تھا کہ وہ صرف Compliment returnکر رہا ہے‘ کل تک امریکہ میں پوچھا جا رہا تھا کہ نیا صدر قوم پرست ہونے کے باوجود روس جیسے دشمن کے لئے کیوں نرم گوشہ رکھتا ہے آج فرانس میں پیوٹن کے ایک حمایتی کی انتخابی فتح کے بعد یہ عقدہ کھلا ہے کہ یورپ کے کئی ملکوں میں روس کی حمایت ایک تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے منگل کے روز فرانس میں ہونے والے ایک سنٹر رایٹ پارٹی کے اندرونی انتخابات میں فرانسواز فلن کی کامیابی نے مغربی ملکوں میں روس سے بہتر تعلقات استوار کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے بعض دانشور اسےTactonic Shift یعنی زمین کی بالائی پرت کے لرزنے والی تبدیلی کہہ رہے ہیں دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک یورپی لیڈر اپنے اتحاد کو روس کے خلاف ایک آہنی دیوار قرار دیتے رہے ہیں ۔دو بڑی جنگوں کے بعد طاقت کا یہ نیا توازن یورپی براعظم کے استحکام کی ضمانت تھا مگر اب یورپ میں ایک نئی عوامی تحریک پیوٹن کی مخالفت کی بجائے اس کی حمایت کا مطالبہ کر رہی ہے فرانسواز فلن کئی مرتبہ اپنی تقریروں میں روس پر لگی ہوئی پابندیوں کی مخالفت کر چکے ہیں ۔ پیرس میں انتیس نومبر کو انتخابی فتح کی تقریر میں انہوں نے فرانس پر مہاجرین کی یلغار اور دہشت گردی کو ایسے خطرات قرار دیا جن کے مقابلے کے لئے انکے ملک کو روس کی حمایت درکار ہو گی ۔ فلن اگر چند ماہ بعد ہونے والے انتخابات میں صدر بن جاتے ہیں تو انکا شمار یورپ کے ایسے مقبول لیڈروں میں ہو گا جو خارجہ پالیسی کے اہم معاملات میں ہم خیال ہیں۔

بعض دانشوروں کی رائے میں یہ نئے لیڈر یورپ میں ایک ایسی عوامی تحریک کی قیادت کر رہے ہیں جو یورپی برآعظم کی تعمیر نو کرنے کے علاوہ طاقت کے ایک نئے عالمی توازن کا باعث بنے گی واشنگٹن یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر جیمز گولڈ گائر نے کہا ہے کہ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح گزشتہ نصف صدی کی عالمی سیاست میں ایک ڈرامائی تبدیلی کا پیش خیمہ ہیں نو منتخب امریکی صدر کئی مرتبہ ناٹو ممالک کو اپنے اخراجات ادا نہ کرنے کا طعنہ دے کر بوجھ قرار دے چکے ہیں یہ تمام علامات روس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا پتہ دیتی ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ مغربی لوگ روس کو مسیحا سمجھتے ہیں اور اسے دہشت گردی کے خلاف آخری قلعہ سمجھ کرماضی کو بھلا دینا چاہتے ہیں مشرقی یورپ کے ممالک کو یورپ سے آزاد ہوئے ابھی نصف صدی ہوئی ہے کیا وہ ایک مرتبہ پھرپیوٹن کے طاقتور ملک کے زیر سایہ رہنے پر آمادہ ہو جائیں گے۔ یہ تمام سوالات پوچھے جا رہے ہیں مگر طے شدہ بات یہ ہے کہ روس کی طرف یورپی مراجعت کا آغاز ہو چکا ہے فرانس میں فلن صدر بن کر اگر روس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہ ہو گی ان سے پہلے چارلس ڈیگال 1969۔1959 تک روس کیساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے کے باوجود یورپی اتحاد کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے تھے فرانسواز فلن جن انتخابی وعدوں کی وجہ سے کامیاب ہوئے ہیں۔

ان میں یورپی اقدار کا احیاء مہاجرین کی واپسی اور فرانسیسی مسلمانوں پرسخت انتظامی کنٹرول شامل ہیں ایک فرانسیسی دانشور بنجا من حداد نے کہا ہے کہ پیوٹن ازم ایک ایسا نظریاتی قلعہ ہے جس میں لوگ گلوبل ازم‘ اسلام‘ مہاجرین اور ہم جنس پرستی والے لبرل ازم سے پناہ لے سکتے ہیں گزشتہ نصف صدی میں فرانسیسی سیاستدان امریکہ نواز ایجنڈے پر انتخابات جیتتے رہے ہیں مگر اب وہPro Putin Populist بن چکے ہیں جرمنی میں بھی ایسی عوامی تحریک زور پکڑ رہی ہے جو روس کے خلاف اپنے ملک کی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف ہے آجکل جرمنی کے لوگ سرد جنگ کی ان خارجہ پالیسیوں کو زیادہ بہتر سمجھ رہے ہیں جب ان کا ملک دو بڑی طاقتوں کے درمیان ایک ثالث کا کردار ادا کرتا تھا فرانس‘ جرمنی اور اٹلی میں ہمیشہ ایسی تحریک موجود رہی ہے جو امریکہ یا روس میں سے کسی ایک کا ساتھ دینے کو ایک مہنگا سودا سمجھتی رہی ہے ان کے تجربے کے مطابق ایک طاقت کے ساتھ مل کر دوسری کا مقابلہ ایک تھکا دینے والا اور نقصان دہ معاملہ ہے فرانسیسی دانشور کی رائے میں انکا ملک بہ یک وقت کئی محاذوں پر نہیں لڑ سکتا اس لئے اسے ایسے دشمن کا انتخاب کرنا ہو گا جس سے سمجھوتہ اور چھٹکارہ دونوں ممکن نہیں روس کے ساتھ انکے اختلافات کی نوعیت اس قسم کی ہے کہ جن پر پہلے بھی فریقین سمجھوتے کر چکے ہیں لہٰذا اب بھی ایسا ہو سکتا ہے دوسری طرف اسلامی ممالک سے انکا ماضی‘ مذہب‘ تہذیب اور اقدار کچھ بھی مشترک نہیں لہٰذا ان سے تعلق کی نوعیت مختلف ہو گی بعض مفکرین کی رائے میں یورپی اقوام پرانے نظام سے اس لئے بھی نجات چاہتی ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ آئے روز اتحادوں سے الگ ہونے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں ان کے خیال میں امریکی طرز کی ایک فار رایٹ حکومت انہیں نظام کہنہ سے نجات دلا کر جہان نو تخلیق کرنے میں مدد دے سکتی ہے اس میں حیرانگی کی بات یہ ہے کہ سب جانتے ہیں کہ روس امریکہ کے مقابلے میں اقتصادی اور عسکری اعتبار سے نہایت کمزور ہے اور اس کی اکانومی کا حجم فرانس کی اکانومی کا نصف ہے مگر اس حقیقت کا دوسرا رخ یہ ہے کہ روس کی فوج کا شمار دنیا کی تین بہترین افواج میں ہوتا ہے‘ اسکے پاس نیوکلیئر اسلحے کا ایک بڑا ذخیرہ بھی موجود ہے اور ولادیمیر پیوٹن طاقت کا استعمال کرنا بھی جانتا ہے ابھی تک یورپ کے کسی ملک نے روس کی کھلم کھلا حمایت کا اعلان نہیں کیا مگر روس کی مخالفت کا دور ختم ہو چکا ڈونلڈ ٹرمپ کا گروہ یورپ میں ابھرتی ہوئی اس نئی سفید نسل پرستی کی جانکاری رکھتا تھا اسے یہ بھی معلوم تھا کہ امریکی نسل پرستوں کے جذبات بھی یورپی نسل پرستوں سے مختلف نہیں اسلئے اس نے پیوٹن کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تا کہ اسکے ساتھ مل کر اصل دشمن کا مقابلہ کر سکے۔