بریکنگ نیوز
Home / کالم / سمجھو کہ اب ہمارا تماشا تمام شد

سمجھو کہ اب ہمارا تماشا تمام شد

وقت تیزی سے آگے بڑھتا جا تا ہے او ر اسکا ساتھ دینے کیلئے ہم خود کو ہلکان کئے رکھتے ہیں آگے بڑھنے کی للک دوڑاتی رہتی ہے پھر کسی دن کسی موڑ پر تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور تب آگے دیکھنے کی بجائے پیچھے دیکھنا ہی ہمارا پسندیدہ مشغلہ بن جاتا ہے، دل چاہتا ہے کہ کچھ کہا جائے،کوئی بات کی جائے، رکے ہوئے مکالمے کو جگایا جائے آگے بڑھایا جائے، مگر ایسا اب ممکن نہیں ہوتاکیونکہ یہ وقت،یہ زمانہ تنہائی کا زمانہ ہوتا ہے،کوئی بات سننے والا، مکالمہ کرنیوالا میسّرہی نہیں ہوتا۔ ہر شخص وقت کے ساتھ دوڑ رہا ہوتا ہے۔(شام کا وقت تھا ہر شخص کو گھر جانا تھا) گویا اسے نہ رکنے کی فرصت ہوتی ہے نہ بات سننے کا دماغ، مانو تھک ہار کر بیٹھنے والوں کے یہ شب و روز بہت خالی خالی گزرتے ہیں دن بھر کے ہنگاموں میں یاد ہی نہیں رہتا کہ شام بھی آتی ہے، شام جب پرندے گھونسلوں کو لوٹ رہے ہو تے ہیں اور ہماری تھکن ٹھکانے کی تلاش میں ہوتی ہے اور شام زندگی کی ہو تو اور بھی تنہا کر دیتی ہے جاننے والے جانتے ہیں کہ شام کے بعد کا سفر اکیلا ہی طے کرنا ہوتا ہے اور ایسے میں بجز خود کلامی کوئی دوست ،کوئی ساتھی نہیں ہوتا اور خود کلامی بھی کچھ ایسی کہ

اب تو دو چار قدم چلتا ہوں تھک جاتا ہوں
زندگی! تجھ سے بھی رفتار زیادہ تھی کبھی

زندگی کا یہ موڑ چاہنے یا نہ چاہنے سے مشروط نہیں اسے آنا ہے وہ آئے گا توکیوں نا اس موڑ کے آنے سے قبل اور ا س طرح مڑمڑ کر پیچھے دیکھنے کے زمانے سے پہلے پہلے اگر اپنے حصے کا کام کیا جائے تو قدرے پرسکون ہو کر یہ زمانہ گزارا جا سکتا ہے۔ شاید ساری گڑ بڑ اس وجہ سے ہوتی ہے کہ ہمیں وقت کے اس طرح گزرنے کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ وہ اپنی دلکی چال چلتا ہوا لمحوں کی بوندیں مسلسل گرا تا ہوا آگے بڑھ رہا ہوتا ہے اور ہم اسے آب حیات سمجھ کر اس یقین کے ساتھ پی رہے ہوتے ہیں کہ جیسے ہم ، ہماری توانائی ، ہمارا قد و قامت اور ہماری ساری وجاہت برقرار رہے گی زندگی اور شباب کے یہ سارے ہنگامے یوں ہی بپا ہوتے رہیں گے، ایسے میں دوسروں کو دیکھ کر خوش بھی ہو رہے ہوتے ہیں کہ دیکھو وہ پہلے کی طرح نہیں رہے اور احمد مشتاق کی آواز میں آواز ملا کر ان پر ترس کھانے لگتے ہیں
دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن
عمر بھر کون جواں کون حسیں رہتا ہے

دوسروں کو مسلسل مشورے بھی دیتے ہیں کہ دیکھوبیٹھ مت جانا، کسرت کثرت سے کرتے رہنا،الم غلم کھانا چھوڑ دواور یاد رکھو کہ’’ پرہیز علاج سے بہتر ہے‘‘ ، یہ اور بات کہ میرے دوست ممتاز معالج ڈاکٹر انتخاب عالم کو اس کہاوت سے بلا کا اختلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی بیمار نہیں ہے تو ظاہرہے اسے علاج کی ضرورت نہیں ہے لیکن اگر کوئی بیمار پڑ جائے تو ’ پھر علاج پرہیز سے بہت بہتر ہے ‘‘ میرے کچھ شکی مزاج د وست اسے ڈاکٹروں کا پوائنٹ آف ویو سمجھتے ہیں کہ ان کو تو کسی بہانے علاج کی بات کرنا ہوتی ہے، بات تو مشورے کی ہو رہی تھی جو ہم دوسروں کو مفت میں دے رہے ہوتے ہیں اور اپنا خیال نہیں رکھ رہے ہوتے۔تبھی تو ریاض مجید کو کہنا پڑا
وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے
رو پڑا وہ آپ ‘مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئے

سو یہ نصیحتیں اور مفت کے مشورے بانٹے جارہے ہوتے ہیں، فارسی روز مرہ کے مطابق ’ میں نے نہیں کی مگر آپ ضرور احتیاط کریں ‘ اس سے نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہماری ساری توجہ کا مرکز دوسرے بن جاتے ہیں اور ہم اپنے آپ سے بیگانہ اور بے خبر ہو جاتے ہیں اور پھر اچانک کہیں سے ایک بلائے ناگہانی کا حملہ ہو جاتا ہے جو ہمیں چاروں شانے چت کر دیتا ہے اور ہماری ساری مثبت سوچوں سے بنی ہوئی عمارت دھڑام سے گر پڑتی ہے پھریہ وقت یہ تیزی سے بھاگتا ہوا وقت ایک اور کھیل بھی شروع کر دیتا ہے اور کسی کسی کو اس کے اپنے کہے یا لکھے ہوئے لفظوں میں جکڑ لیتا ہے، جس کا کیا خوب نقشہ احمد فراز نے کھینچا ہے۔
میں کہہ رہا تھا رفیقوں سے جی کڑا رکھو
چلا جو درد کا اک اور تیر، میں بھی نہ تھا

پھر اس نیلے آسمان نے وقت کا یہ کھیل بھی دیکھا کہ احمد فراز کو ایک دن دیارِ غیر میں ویسی ہی صورت حال سے دوچار ہونا پڑا ۔اسی طرح ابن انشانے ایک بار ٹی وی پروگرام میں پروین شاکر کی شاعری پر تبصرہ کے دوران اس کا ایک شعر
دشمن ہے اور ساتھ رہے جان کی طرح
مجھ میں اتر گیا ہے وہ سرطان کی طرح

پڑھتے ہوئے کہا تھا کہ میں تو سرطان کی’ خوفناک امیجری ‘کا تصور بھی نہیں کر سکتا،مگر پھر یہ بھی سب نے دیکھا کہ تیزی سے بھاگتے ہو ئے وقت نے ابن انشا کو اسی مرض کے کچوکے دے کر مغلوب کیا اوردوسری طرف خودپروین شاکر نے جس صبح سڑک کے حادثہ میں زندگی سے ناتا توڑا اسی دن اس نے اپنے کالم میں لکھا تھا ،’’ میں نے کراچی جانے کی دعوت سے یہ کہہ کر معذرت کر دی کہ میں اس گولی سے مرنا نہیں چاہتی جس پر میرا نام نہ لکھا ہو۔‘‘کالم لکھنے کے گھنٹوں کے اندر اندر ہی وہ اندھی گولی کی بجائے اسلام آباد کی دھند بھری اندھی صبح حادثے کا شکار ہو گئی،مجھے اب بھی یاد ہے کہ میری والدہ مرحومہ اکثر کہا کرتیں کہ ’’ بچے! اپنے بارے میں ایسی ویسی بات مذاق میں بھی مت کہا کرو کہیں فرشتے آمین نہ کہہ دیں‘‘ اور اس بات میں تو کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ وقت ہی ہے جو ہمارے بنائے ہوئے بے رنگ خاکوں میں اپنی مرضی کے رنگ بھرتا رہتا ہے اور ہمیں تماشائی سے تماشا بنا دیتا ہے اور کچھ دن یہ تماشا خوب چلتا ہے باتیں بنتی ہیں حکایتیں سنائی جاتی ہیں اور وارداتیں گھات میں بیٹھ کروقت کے آخری وار تک جاری رہتی ہیں پھر ’ آخری عشائیہ ‘ تر تیب دیا جاتا ہے اور حسن عباس رضا کی زبان میں تماشا بننے والا یہ کہہ کر چل دیتا ہے
ہم شہرجاں میں آخری نغمہ سنا چلے
سمجھو کہ اب ہمارا تماشا تمام شد