بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / ہارٹ ایشیاء کانفرنس ، چین افغانستان میں امن و سلامتی کیلئے قائدانہ کردار کا خواہشمند

ہارٹ ایشیاء کانفرنس ، چین افغانستان میں امن و سلامتی کیلئے قائدانہ کردار کا خواہشمند

بیجنگ ۔ ہارٹ ایشیاء کانفرنس 2016ء میں چین کا کردار ابھر کر سامنے آیا ہے ، اس نے افغانستان میں امن ، سلامتی اور خوشحالی کو فروغ دینے کی کوششوں کے سلسلے میں زبردست اور فعال کردار ادا کیا ہے ۔بھارت کے شہر امرتسر میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں چینی حکام نے افغانستان کے بہتر مستقبل کیلئے ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے کیلئے اپنے عزم کی تجدید کی ہے ۔سرکاری ذرائع کے مطابق چین جنوبی اور مرکزی ایشیائی ممالک کیساتھ افغانستان کے تجارتی رابطے قائم کرنے کیلئے صف اول کا کردار ادا کرنے کا خواہش مند ہے ،چین نے حالیہ برسوں بالخصوص 2016ء میں افغانستان کے معاملے کو نمایاں کرنے کیلئے بڑی کوششیں کی ہیں۔

، گذشتہ ہفتے چین نے افغانستان کیلئے اپنی فوجی امداد کی پہلی کھیپ بھی روانہ کی ہے جبکہ اس کے علاوہ کثیر المقاصد تعاون بھی نمایاں ہے ، چین امریکہ ، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل چار فریقی تعاون گروپ افغانستان میں امن عمل کے فروغ اور دہشتگردی کیخلاف میکنزم کی تشکیل کیلئے قائم کیا گیا تھا ، اس کے علاوہ اعلیٰ سطح کے سکیورٹی مذاکرات حال ہی میں بیجنگ اور کابل میں منعقد ہو ئے ہیں، افغان صدر کے قومی سلامتی کے مشیر محمد حنیف اتمار کا اپریل میں اعلیٰ چینی حکام نے گرمجوشی سے خیر مقدم کیا ، چین کے صدر شی چن پھنگ نے ایک اجلاس کے دوران افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبد اللہ کیساتھ ایک ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ چین افغانستان میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں افغانستان کی مکمل امداد کرتا ہے اور افغانستان کی سلامتی کو مضبوط بنانے کیلئے اپنی امداد جاری رکھے گا ۔

اس کے علاوہ چین افغانستان کے پرامن مفاہمتی عمل کی بھی مکمل حمایت کرتا ہے اور وہ افغانستان کی یکجہتی پر یقین رکھتا ہے جو کہ ملک میں طویل المیعاد امن و سلامتی کا بنیادی راستہ ہے ،چین اس وقت کابل کے سکیورٹی کے مسائل حل کرنے کیلئے مزید فعال اور مثبت کردار ادا کررہا ہے ، چین کی افغانستان کی سلامتی سے متعلق پالیسیاں دفاعی حکمت عملی کی بجائے جارحانہ دفاع کی طرف منتقل ہو چکی ہیں ، چین نے افغانستان کے بارے میں اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کے لئے کئی عناصر سے صلاح مشورہ کیا ہے ، چین دوسری بڑی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے خطے کی سلا متی کے مسائل پر خود قائدانہ کردار ادا کررہا ہے ۔ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طورپر چین کو علاقائی سلامتی کے معاون نظام کی تشکیل کی ضرورت ہے جو کہ اس کے اپنے مفادات کو پورا کرسکے کیونکہ چین کی بین الاقوامی حیثیت کو برقرار رکھنے کیلئے اس کی زبردست اہمیت ہے۔