بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ّّّّّپاکستان اور امریکہ دونوں ہی آپس کے تعلقات کو بہتر بنانے کے خواہاں ہیں ،اعزاز احمد چوہدری

ّّّّّپاکستان اور امریکہ دونوں ہی آپس کے تعلقات کو بہتر بنانے کے خواہاں ہیں ،اعزاز احمد چوہدری

اسلام آباد۔ سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ دونوں ہی آپس کے تعلقات کو بہتر بنانے کے خواہاں ہیں جس کا اظہار نومنتخب امریکی صدر کو وزیراعظم کی حالیہ ٹیلی فونک کال میں ہوا ہے، سی پیک منصوبہ خطے کی ترقی و خوشحالی کاضامن ہے، اس کی کامیابی پر حسد کرنے کی بجائے بھارت سمیت تمام علاقائی ممالک کو مثبت کردار ادا کرنا چاہئے۔ پاکستان افغانستان کے امن و استحکام کے لئے کردار ادا کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کی دشمن نہیں یہ سب کی مشترکہ دشمن ہے۔ اس کا مل کر مقابلہ کرنا چاہئے۔

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا سب اعتراف کر رہے ہیں۔ایک انٹر ویو میں سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے کے لئے بھارت نے طاقت کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے بھارت نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر جارحیت شروع کر دی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ کہہ کر کہ پاکستان پر الزام لگانا شروع کر دیا ہے کہ پاکستان سے لوگ آ کر مقبوضہ کشمیر میں حالات خراب کرتے ہیں۔ بھارت یہ بھی الزام لگاتا ہے کہ چونکہ لوگ لائن آف کنٹرول سے داخل ہوتے ہیں اس لئے فائرنگ کی جاتی ہے۔ اعزاز چوہدری نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر سخت حفاظتی اقدامات کے باوجود وہاں سے کسی کا داخل ہونا ناقابل یقین بات ہے۔

بھارت کا یہ فرض ہے کہ اگر اسے ایسی کوئی چیز نظر آتی ہے تو اسے روکے بھی اور ہمارے نوٹس میں بھی لائے۔ بھارت کے یہ محض الزامات ہیں۔ ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ بدقسمتی سے بھارت مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لئے ایسی راہ پر چل نکلا ہے جس سے دہشت گردی کے خلاف علاقائی تعاون متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے عنصر پاکستان، ہندوستان، افغانستان حتیٰ کہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردوں کا قلع قمع کر کے عملی طور پر دکھایا ہے۔ دہشت گردی کرنے والی عسکری تنظیموں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا ہے جس طرح ہم کام کر رہے ہیں وہ بھی کام کر کے دکھائیں۔ صرف ہم پر ہی الزامات نہ لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی قسم کا دہشت گرد پاکستان ہی نہیں رہے گا۔ ہماری قیادت نے برملا کہہ دیا ہے کہ ہم اپنی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو سی پیک منصوبہ ہضم نہیں ہو رہا۔ اس لئے بھی ہم نے کہا کہ آپ اس پر حسد کرنے کی بجائے پارٹنر شپ کیجئے۔

سی پیک کا فائدہ پورے خطے کو پہنچے گا۔ اس میں روڑے اٹکانے کی بجائے اس میں آپ اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش بھارت کی تھی مگر بدقسمتی سے ہمارے کچھ لوگ اس کے شکار ہوئے۔ اب بھارت یہ جان کر مایوس ہو گیا ہے کہ پاکستان تنہا ہونے کی بجائے پوری دنیا سے زیادہ جڑ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل بہت روشن ہے۔ انشاء اللہ دنیا دیکھے گی کہ ہم اس خطے میں خوشحالی کے وہ چشمے لگائیں گے جس سے نہ صرف ہمارا اپنا ملک بلکہ پورا خطہ بہرہ ور ہو گا۔ سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ سوائے پاکستان اور چین کے فی الحال کوئی اور ملک سی پیک میں شریک نہیں ہو رہا۔ اس میں کسی تیسرے ملک کو شامل کرنے کے لئے پاکستان اور چین بعد میں فیصلہ کرینگے۔ سی پیک سے جنوبی ایشیا میں آنے والی سرمایہ کاری کا فائدہ بھارت کو بھی پہنچے گا۔ جب انڈسٹریل زون اور اکنامک زون بنیں گے۔

اس وقت دوسرے ملکوں کو سی پیک میں آنے کے مواقع پیدا ہونگے۔ اس کے لئے پاکستان اور چین مل کر لائحہ عمل مرتب کرینگے۔ سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ پاک بھارت مذاکرات میں تعطل بھارت کی طرف سے ہے اور اس تعطل کو ختم کرنے کا فیصلہ بھارت کو ہی کرنا ہے۔ پاکستان اس وقت کا انتظار کرے گا جب بھارت اس کے لئے تیار ہو گا۔ ہم نے ہمیشہ یہ کہا کہ مہذب قوموں کا شعار میز پر بیٹھ کر بات چیت کرنا ہوتا ہے اور تمام مسائل خواہ وہ کتنے ہی مشکل اور کٹھن ہوں ان کا حل میز پر ہی ممکن ہے۔ ناراضیوں اور سازشوں سے امن کی راہیں نہیں کھلتیں۔ امن کی راہیں ہمیشہ پرامن مذاکرات سے ہی کھلتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے بہت سے فورموں پر افغانستان کا امن زیربحث آتا ہے۔ تمام فورم یہ مواقع فراہم کرتے ہیں کہ اقوام عالم بشمول پاکستان افغانستان میں ترقی کے لئے کام کر سکتے ہیں۔ ہم افغانستان میں امن کے قیام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ طالبان کو ہمارا پیغام یہی ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔ ہم افغانستان کا کوئی عسکری حل نہیں دیکھ رہے۔

ہمارے لوگ افغانستان کے طالبان کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انہیں سہولت کاری کے لئے قائل کرنے اور دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں پائیدار امن لانے کا یہی طریقہ ہے اور افغانستان کے طالبان کو بھی میدان جنگ میں وہ کامیابی حاصل نہیں ہو گی جو انہیں میز پر ہو سکتی ہے کیونکہ افغان عوام نے بہت زیادہ تکلیفیں برداشت کر لی ہیں۔ اب وہاں پائیدار امن لانے کا وقت ہے۔ اس کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ ہم تجارت ہو یا افغانستان کے پناہ گزین ہوں یا دونوں ملکوں کے درمیان رابطے ہوں یا افغانستان میں مفاہمتی عمل ہویا افغانستان کی حکومت کو کسی قسم کی ٹریننگ کے حوالے سے مدد چاہئے ہو پاکستان کو وہ ہمیشہ تیار پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بھارت افغانستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے مگر پاکستان کے افغانستان کے بارے میں کردار کا کوئی متبادل نہیں۔ پاکستان نے افغانستان میں پانچ سو ملین ڈالر کی پہلے سرمایہ کاری کی تھی اب وزیراعظم نے برسلز کی کانفرنس کے موقع پر 500 ملین ڈالر کی مزید سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا جس کے منصوبوں کے لئے تیار کی جا رہی ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان 2 ایسے ہمسائے ہیں جنہوں نے صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ روابط رکھے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے ہمارے درمیان ثقافتی، لسانی اور مذہبی روابط ہیں۔

اس لئے ان دونوں قوموں نے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہے۔ یہ ہمارا ادراک ہے کہ ہم افغانستان میں مثبت کردار اداکرنا چاہتے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے اور افغانستان میں امن کی کامیابی اسی صورت میں ہو گی جب دنیا سمجھے گی کہ پاکستان جو کچھ کر رہا ہے اس کی حوصلہ افزائی کی جائے نہ کہ افغانستان جیسی قوتیں اسے دوسری نظر سے دیکھیں۔ افغانستان میں امن و استحکام کے لئے تمام ہمسایوں کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ پاکستان کی طرف سے بالکل کوئی پراکسی نہیں ہو گی اور نہ ہی کسی قسم کی پراکسی ہونی چاہئے۔ ہم صرف سیاسی عمل کی حمایت کرتے ہیں اور ہم وہاں کی منتخب حکومت کو ہی مانتے ہیں اور اس کے ذریعے ہی آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ ہماری یہی خواہش اور توقع ہو گی کہ تمام ممالک افغانستان میں یہی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سے انشاء اللہ افغانستان میں امن آئے گا۔ امریکی صدر نے وزیراعظم نوازشریف سے ٹیلی فونک گفتگو میں پاکستان کو اچھے الفاظ میں یاد کیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

شاید یہ بات کجھ لوگوں کو پسند نہ آئی ہو جس کی وجہ سے انہوں نے بے جا تبصرے کرنے شروع کر دیئے کہ اس میں یہ نہیں تھا وہ نہیں تھا اگر پاکستان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس ریلیز کو دیکھا جائے تو دونوں میں مثبت بات دونوں پریس ریلیز میں اس بات کا اظہار کیا گیا کہ دونوں ملکوں کو قریب لایا جائے۔ دونوں کی قیادت قریب آئیں۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے اور اس کا اظہار امریکہ کی آنے والی انتظامیہ سے بھی ہوا ہے وزیراعظم کی ٹیلی فونک کال موقع کی مناسبت سے تھی۔ اس نے اس بات کو مزید تقویت دی ہے کہ دونوں ملک آپس کے تعلقات کو بہتر بنانے کے خواہش مند ہیں۔ روس خطے کا ایک اہم ملک ہے اس کی طرف سے بھی مثبت پیغامات آ رہے ہیں۔ انشاء اللہ آنے والے وقت میں اس خطے میں خوشحالی آئے گی۔ روس کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اس خطے کے پائیدار امن کے قیام میں مددگار ثابت ہو گی۔