بریکنگ نیوز
Home / کالم / جنگی جنون

جنگی جنون


کشمیر میں مظالم کی داستان تو خاصی پرانی ہے۔ جب سے ہندوستان نے دھوکے سے اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کیں اور یو این او کی قرارداد کو پس پشت ڈالا جس میں کہا گیا تھا کہ قبائلیوں اور ہندوستانی فوجوں کو کشمیر سے نکال دیا جائے اور کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لئے استصواب رائے کا حق دیا جائے کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا ہندوستان کے ساتھ تو پاکستان نے اس قرار دا د پر من و عن عمل کیا اور قبائلیوں کو واپس بلا لیا۔ مگر نہرو نے نہایت چالاکی سے ہندوستانی فوج کو کشمیر میں داخل کر دیا اور استصواب رائے پر حیل و حجت کو وطیرہ بنا لیا۔ اس دن سے ریاستی عوام میں اور ہندوستانی فوج میں ایک بیر چلاآرہاہے ۔ ریاستی عوام ہندوستان کے زیر تسلط رہنا نہیں چاہتے اور ہندوستان کی سات لاکھ فوج اُن کے حق آزاد ی کوتسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔جتنے بھی حربے ہندوستانی حکومت نے کشمیر کو اپنے قبضے میں رکھنے کے لئے آزمائے ہیں وہ سارے ہی ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ایک بات جو اقوام عالم اس خطے کے متعلق سوچتی ہیں وہ یہ ہے کہ ہندوستان ایک بہت بڑی منڈی ہے جس سے مغرب استفادہ کرنا چاہتا ہے اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل مغرب کی باندی ہے اور جو حکم بھی امریکہ اور برطانیہ دیتے ہیں اُس پر ساری سکیورٹی کونسل کے اراکین سر جھکانے پر مجبور ہیں۔ امریکہ اوربرطانیہ اس منڈی کو کھونا نہیں چاہتے اور اب تو امریکہ کو اپنے ہتھیار بیچنے کے لئے ایک بڑی منڈی ہاتھ لگ چکی ہے۔

اُن کا خیال ہے کہ اگر سکیورٹی کونسل کشمیریوں کے حق میں منظور کی گئی قرار داد پر عمل درآمد کروانے پر زور دیتی ہے تو اُن کے ہاتھ سے ایک بہت بڑی منڈی نکل جائے گی اس لئے سکیورٹی کونسل نے اپنی قرار داد پر عمل درآمد کو سرد خانے میں ڈال رکھا ہے۔کشمیر کی وجہ سے پاکستا ن اور ہندوستان کئی جنگیں لڑ چکے ہیں اور ہر جنگ کے بعد ایک اعلامیہ جاری ہو جاتا ہے جس میں کشمیر کے مسئلے کو یا تو اعلامیے کا حصہ ہی نہیں بنایا جاتا یا اُسے گول مول کر کے دو ملکوں کا اندرونی معاملہ قرار دے دیا جاتا ہے۔پاکستانی قیادت میں بھی اس بات پر کھل کر بات نہیں ہوتی اس لئے کہ جو بھی حکومتیں اس ملک میں ابھی تک آئی ہیں امریکہ کی مرضی سے آئی ہیں اسلئے انہوں نے کشمیر پر اصلی موقف سے ہمیشہ انحراف کیا ہے اس لئے کہ امریکہ یہی چاہتا تھا۔ اب جو کشمیری نوجوانوں نے تحریک چلائی ہے اور اُس پر اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں تو پاکستانی قیادت کو بھی خیال آیا ہے کہ یہ معاملہ تو سکیورٹی کونسل کی قرار دادوں میں موجود ہے اور اس کو کشمیریوں کے استصواب رائے سے حل ہونا ہے اسی لئے وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس مسئلے کو زور و شور سے اٹھایا ہے اور اس پر ہندوستانی حکومت بوکھلا اٹھی ہے۔ اور اس جنگ کو جو کشمیری نوجوان اپنی آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں پاکستان تک پھیلانے کی بات کی ہے مگر ہندوستان شاید یہ بھول چکا ہے کہ پاکستان ایک آزاد ایٹمی حیثیت کا حامل ملک ہے اور پاکستانی قیادت بارہا یہ بات دہرا چکی ہے کہ ہم نے ایٹم بم نمائش کے لئے نہیں بنایا ۔ اس سے پہلے بھی ہندوستانی حکام کوشش کر چکے ہیں۔

کہ پاکستان پر حملہ کر کے اسے ختم کر دیا جائے مگر جب اُن کو معلوم8 ہوا ہے کہ پاکستان کے پاس پٹاخے ہیں تو اپنی فوجوں کو پاکستان کی سرحدوں سے جلدی سے واپس بارکوں میں بلا لیا تھا۔مگر اب ایک نادان شخص ہندوستان کا وزیر اعظم بنا ہوا ہے اور وہ پاکستان کو ریاست گجرات سمجھا ہو ا ہے مگر پاکستان اتنا آسان ہدف نہیں ہے۔پاکستان کی فوج پوری دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہے۔جہاں جہاں بھی یو این او نے امن فوج بھیجی ہے اُس میں اگر کوئی کام کے دستے تھے یا جنہوں نے امن میں کھل کر ہاتھ بٹایا ہے تو وہ صرف پاکستانی دستے تھے ہندوستانی فوجی اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اگر اس جنگی جنون میں انہوں نے حصہ لیا تو اس کا انجام کیا ہو گا۔ ہندوستانی فوج کا یہ حال ہے کہ چار شخص ایک پورے بریگیڈ کو ناکوں چنے چبواتے ہیں مگر ابھی تک یہ معلوم کرنے سے قاصر ہیں کہ یہ تھے کون لوگ۔اصل میں جب ایک قوم اپنی جانیں قربان کرنے پہ آ جاتی ہے تو وہ بہت کچھ کر جاتی ہے اور کشمیری یقیناًبزدل نہیں۔