بریکنگ نیوز
Home / صحت / پلیٹی پس کے زہرمیں ذیابیطس کا ممکنہ علاج

پلیٹی پس کے زہرمیں ذیابیطس کا ممکنہ علاج

ایڈیلیڈ۔ ماہرین نے پلیٹی پس کے زہرمیں ایک ایسا منفرد ہارمون دریافت کیا ہے جو مستقبل میں ذیابیطس کا بہتر علاج ثابت ہوسکتا ہے۔

پلیٹی پس آسٹریلیا میں پایا جانے والا ایسا منفرد ممالیہ ہے جس کی چونچ تو بطخ جیسی ہوتی ہے اور وہ پرندوں کی طرح انڈے دیتا ہے لیکن اپنے بچوں کو دودھ بھی پلاتا ہے، یہ اپنے دشمنوں سے بچاؤ کے لیے زہر خارج کرتا ہے البتہ وہ ہلاکت خیز نہیں ہوتا۔

یونیورسٹی آف ایڈیلیڈ آسٹریلیا کے ماہرین نے پلیٹی پس اور اس کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ’’اچڈنا‘‘ (echidna) کے زہر میں ’’جی ایل پی ون‘‘ (GLP-1) نامی ایک ایسا ہارمون دریافت کیا ہے جو آنے والے برسوں میں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہتر دوا کی بنیاد بن سکے گا۔

’’جی ایل پی ون‘‘ انسانوں اور مختلف جانوروں کی آنتوں میں خارج ہوتا ہے اور لبلبے تک پہنچ کر اسے انسولین خارج کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اسے ذیابیطس میں انسولین کے معاون کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن قباحت یہ ہے کہ ’’جی ایل پی ون‘‘ کے سالمات جسم کے اندر صرف چند منٹوں ہی میں ٹوٹ کر ختم ہوجاتے ہیں۔

پلیٹی پس کے زہر میں بھی یہی ’’جی ایل پی ون‘‘ دریافت کیا گیا ہے لیکن وہ انسانوں اور دوسرے جانوروں میں پائے جانے والے جی ایل پی ون سے تھوڑا سا مختلف ہے۔ اور یہی اختلاف اسے زیادہ سخت جان اور قیام پذیر بھی بناتا ہے۔ طبی نقطہ نگاہ سے اس دریافت کا مطلب یہ ہوا کہ مستقبل میں اس قیام پذیر جی ایل پی ون پر مشتمل دوا کو لبلبے تک پہنچا کر اس سے انسولین کا اخراج بڑھانے میں مدد لی جاسکے گی یعنی اس سے ذیابیطس کے مریضوں کو بہت افاقہ ہونے کی امید ہے۔

البتہ ممکنہ طور پر یہ اسی صورت میں کارگر ہوگا جب لبلبہ صرف مقدار کے اعتبار سے کم انسولین بنارہا ہو جب کہ اس کا معیار درست ہو۔ لبلبے کی ایسی خرابی جس میں لبلبے سے بننے والی انسولین کا معیار کم تر یا ناقص ہو اس میں یہ دوا بہرحال کسی کام کی نہیں ہوگی۔

جی ایل پی ون ہارمون کی نئی قسم دریافت کرنے والے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ابھی سے اس بارے میں کوئی رائے قائم نہ کی جائے کیونکہ ایک نئے مرکب کے شناخت ہونے سے لے کر اس سے دوا کی حتمی طور پر منظوری تک میں کم سے کم 10 سال اور 80 ارب روپے سے زیادہ کا سرمایہ درکار ہوتے ہیں۔