بریکنگ نیوز
Home / کالم / سفارتی آداب!

سفارتی آداب!

پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی کب دشمنی میں تبدیل ہوئی اور اِس دشمنی کو دوبارہ دوستی کے سانچے میں کیسے ڈھالا جا سکتا ہے یہ بظاہر مشکل لیکن ناممکن نہیں‘ تاوقتیکہ اِس کی ضرورت بھارت بھی محسوس کرے‘ حالیہ واردات یہ ہے کہ پاکستان سے ذاتی عناد اور بغض رکھنے والا بھارت سفارتی آداب بھی بھول گیا ہے‘ جس نے سرعام ویانا کنونشن کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز ’ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس‘ میں شرکت کے لئے جب پہنچے تو پاکستانی میڈیا نمائندوں کیساتھ بھی بھارتی حکام کی جانب سے بُرا سلوک روا رکھا گیا‘ بھارت پہنچنے پر پاکستانی میڈیا نمائندوں کو موبائل نیٹ ورک کا مسئلہ درپیش تھا۔ میڈیا نمائندوں کو جو سمیں فراہم کی گئیں وہ انہیں قریبا ساڑھے تین گھنٹے کے پراسیس کے بعد دی گئیں۔ بعدازاں بھارت نے سکیورٹی مسائل کا بہانہ بنا کر مشیر خارجہ سرتاج عزیز کو ہوٹل سے باہر نکلنے سے روک دیا۔ کانفرنس کے سکیورٹی عملے نے پاکستانی صحافیوں اور سفارتی عملے کے ساتھ بدتمیزی کی۔ ہائی کمشنر عبدالباسط کو ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کانفرنس کے سکیورٹی انچارج کو ڈانٹ دیا۔ عبدالباسط کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کا ہائی کمشنر ہوں۔ پاکستانی میڈیا والے میرے لوگ ہیں۔ اُن سے بات کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کو گولڈن ٹیمپل کا دورہ کرنے سے بھی روک دیا گیا۔

بھارتی حکام نے سکیورٹی ایشوز کا بہانہ کر کے سرتاج عزیز کو ہوٹل سے نکلنے اور گولڈ ٹیمپل کا دورہ کرنے سے روک دیا۔ سرتاج عزیز نے بھارت کے سفارتی آداب کے منفی روئیے پر شیڈول سے پہلے ہی وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔ سرتاج عزیز کی بھارت میں کانفرنس میں شرکت کی کچھ حلقوں کی طرف سے مخالفت کی جارہی تھی تاہم دنیا کے سامنے پاکستان کے مثبت رویئے کے اظہار کیلئے وزیراعظم نوازشریف کی طرف سے ’ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس‘ میں شرکت کا فیصلہ کیا گیا جس کی عالمی امور پر نظر رکھنے والے حلقوں نے حمایت کی۔ دنیا کے سامنے یہ واضح ہوگیا کہ بھارت نے پاکستان میں ہونیوالی ’سارک سربراہ کانفرنس‘ سبوتاژ کی اس کے باوجود پاکستان نے امرتسر کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ جہاں پاکستانی صحافیوں‘ مشیر خارجہ اور ہائی کمشنر کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا گیا تاہم پاکستان کی طرف سے اس کانفرنس میں شرکت سے پاکستان کا مؤقف دنیا کے سامنے آیا‘ اشرف غنی اور نریندر مودی کے زہریلے پراپیگنڈے کا مسکت جواب دیا گیا‘ جس نے سرتاج عزیز کے اس کانفرنس میں شرکت کے فیصلے کو درست ثابت کر دیا۔اس کانفرنس میں چالیس ملکوں کے نمائندے شریک ہوئے جن تک پاکستان کا نکتۂ نظر پہنچا۔ روس اور چین نے کھل کر پاکستان کے موقف کی تائید کی۔

اشرف غنی اپنی تقریر کے دوران پاکستان کیخلاف بھڑکتے رہے تاہم کانفرنس سے قبل سرتاج عزیز کیساتھ اُنکی ملاقات مثبت رہی۔ اشرف غنی کی طرف سے بھارت کو خوش کرنے کیلئے پاکستان کیخلاف الزامات لگائے گئے ہونگے۔ اَقوام متحدہ کے چارٹر اور علاقائی سلامتی‘ خود مختاری کے اَصولوں پر کاربند رہنے اور ’ہارٹ آف ایشیاء‘ کی پانچ کانفرنسز کے فیصلوں پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا گیا‘بھارت کی طرف سے پاکستانی صحافیوں‘ ایک اعلیٰ عہدیدار اور ہائی کمشنر کے ساتھ توہین آمیز سلوک پہلی بار نہیں کیا گیا‘ یہ بھارت کا عمومی رویہ ہے۔ جو بھارتی میڈیا‘ شدت پسندوں اور حکمران کی طرف سے سامنے آتا رہا ہے‘ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اپنی کتاب کی رونمائی کے لئے جب بھارت گئے تو اُن کی موجودگی میں شدت پسندوں نے میزبان کا سیاہی سے منہ کالا کردیا تھا۔ پاکستان کے فنکاروں اور کھلاڑیوں کی تضحیک و تذلیل کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ سربجیت سنگھ کو کسی جنونی نے جیل میں ہلاک کر دیا تو اس کے بدلے میں بھی بھارتی حکومت کی طرف سے سفاکیت دیکھنے میں آئی۔ ایک پاکستانی قیدی کو تشدد کرکے مار ڈالا تھا۔ شہریار اور نجم سیٹھی کیساتھ بدسلوکی کی گئی۔وزیراعظم نواز شریف مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلئے گئے تھے‘ اُن کے ساتھ بھی سفارتی آداب کے برعکس سلوک روا رکھا گیا۔ وزیراعظم نواز شریف اپنے ہم منصب کو مبارکباد دینے گئے تھے جبکہ ممبئی حملوں کے ملزموں کے خلاف کاروائی کے سوالات اٹھاتے رہے۔ بھارت سے کوئی پوچھے کہ کیا یہی مہمان نوازی کے آداب ہوتے ہیں؟ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: افتخار احمد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)