بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / توانائی بحران اور ہوم ورک

توانائی بحران اور ہوم ورک

وزیراعظم نوازشریف نے دیامر بھاشا ڈیم کے فنانسنگ پلان کی اصولی منظوری دیدی ہے مہیا تفصیلات کے مطابق منصوبے پر کام اگلے سال کے آخر تک شروع ہوگا ڈیم میں 8.1ملین ریکٹر فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی پراجیکٹ میں بجلی پیدا کرنے کی استعداد4500 میگا واٹ تک ہے جو سستی اور ماحول دوست ہوگی وزیراعظم نے متعلقہ محکموں کو مالیاتی تجویز کو حتمی شکل دینے اور فزیکل ورک یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی ہے ڈیم کیلئے اراضی کا حصول وفاقی حکومت اور گلگت بلتستان انتظامیہ کی کوششوں سے مکمل ہوچکا ہے وزارت پانی وبجلی اور منصوبہ بندی کی حکمت عملی کے تحت ڈیم کی تعمیر پی ایس ڈی پی کے فنڈز سے ہوگی جبکہ واپڈا کے اپنے وسائل بھی اس میں استعمال ہوں گے فنڈز کا کچھ حصہ کمرشل بنیادوں پر بھی اکٹھا کیا جائے گا اس ڈیم کیلئے ایک سمری 2006ء میں منظورہوئی تھی جبکہ2011ء میں اس پر کام کا افتتاح بھی ہوا تاہم ڈیم کو عملی شکل دینے کے لئے کوئی واضح اور نتیجہ خیز اقدامات سامنے نہیں آئے وطن عزیز میں سرکاری منصوبوں کے اعلانات اور ان کے عملی شکل میں برسرزمین آنے کے درمیان موجود فاصلوں کو دیکھتے ہوئے ہر نئے پراجیکٹ سے متعلق خدشات زیادہ نظر آتے ہیں جہاں تک موجودہ حکومت کا تعلق ہے تو انرجی سیکٹر میں حکومتی اقدامات سے انکار نہیں کیا جاسکتا تاہم ان اقدامات کے ثمر آور نتائج دینے والے سرکاری سیٹ اپ کی کارکردگی پر سوالیہ نشانات ضرور ہیں یہ نشانات لوڈشیڈنگ اووربلنگ بجلی کی ترسیل کے نظام میں خرابیوں پر ہی لگتے ہیں

اب جبکہ حکومت بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لئے اقدامات اٹھانے جارہی ہے تو اس بات کا خدشہ بھی ضرور ہے کہ کیا ملک میں بجلی ٹرانسمیشن کا نظام اتنا محفوظ اور استعداد کا حامل ہے کہ اضافی بجلی سسٹم میں آکرڈسٹری بیوشن کے مراحل طے کرپائے گی سڑکوں پر لٹکتی تاریں اور تیل ٹپکتے ٹرانسفارمر جن کی مرمت اکثر صارفین کو اپنے چندوں سے کرنا پڑتی ہے اس قابل ہیں کہ اضافی بجلی کی صارفین تک رسائی ممکن بناسکیں سوال یہ بھی ہے کہ خیبر پختونخوا کے بجلی منافع کے اربوں روپے بروقت ادا نہ کرنے والا ادارہ نئے ڈیم کی فنانسنگ کیلئے کوئی موثر پلاننگ کر پائے گا کیا ہی بہترہو کہ وزیراعظم خود نئے منصوبوں کے ساتھ موجودہ صورتحال میں بہتری اور پراجیکٹس سے پہلے ہوم ورک کا خود ایک مقررہ ٹائم فریم کیساتھ جائزہ لیں اس سب کے ساتھ بھاشا ڈیم جیسے بڑے منصوبے میں شریک محکموں کے درمیان باہمی رابطہ یقینی بنانا بھی ضروری ہے اس مقصد کیلئے ایک سپروائزری اتھارٹی قائم کرکے تمام سٹیک ہولڈر ڈیپارٹمنٹس کو اس میں نمائندگی دینا ہوگی تاکہ سارے امور ایک ہی چھت تلے طے پاسکیں اس سب کے ساتھ بھاشا ڈیم پر اکتفا بھی کسی صورت درست نہیں ہوگا برسرزمین صورتحال کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آبی ذخائر میں اضافہ ضروری ہے اس میں صوبوں اور مرکز کو اپنی کاوشیں تیز کرنا ہوں گی آبی ذخائر ہی ہماری زرعی معیشت کو استحکام دے سکتے ہیں ان سے ملنے والی بجلی نہ صرف وطن عزیز کے اندھیروں کو ختم کرنے میں معاون ہوگی بلکہ ہماری صنعت کا پہیہ بھی اسی سے چلے گا یہ صرف حکومت کا کام نہیں ہماری پوری قومی قیادت کو اس مقصد کیلئے سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا آج اگر اس ذمہ داری کو پورا نہ کیا گیا تو آنیوالے کل کو پوری قیادت ذمہ داروں میں شامل ہوگی۔کیا ہی بہتر ہو کہ وزیراعظم صرف توانائی بحران کے خاتمے اور آبی ذخائر میں اضافے پر غور اور بڑے فیصلے کرنے کیلئے سیاسی قیادت کو آل پارٹیز کانفرنس میں اکٹھا کریں۔