بریکنگ نیوز
Home / کالم / نواز شریف کی سُبکی کا ذمہ دار کون؟

نواز شریف کی سُبکی کا ذمہ دار کون؟


بدھ30نومبر کو وزیراعظم نوازشریف اور امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر جو گفتگو ہوئی وہ امریکی اور عالمی میڈیا میں گرما گرم بحث و نزاع کا موضوع بنی ہوئی ہے اس گفتگو کے بارے میں حکومت پاکستان کی طرف سے جو پریس ریلیز جاری کی گئی تجزیہ کاروں کے مطابق اس پر امریکی میڈیا میں غم و غصہ کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس میں یک طرفہ طورپر ڈونلڈ ٹرمپ سے کچھ مخصوص باتیں منسوب کی گئی ہیں اور یہ نہیں بتایا گیاکہ نوازشریف نے ان سے کیاکچھ کہا تاہم تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس ٹیلی فونک رابطے کیلئے پہل ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کی گئی انہوں نے نوازشریف کے ساتھ بات چیت کی خواہش ظاہر کی تجزیہ کاروں کے مطابق باضابطہ رابطہ سے پہلے دونوں طرف سے کافی ہوم ورک کیا گیا اور طے پایا کہ کسی طرف سے کوئی متنازعہ مسئلہ نہیں اٹھایا جائیگا ٹرمپ اس بات پر رضا مند ہوئے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کا معاملہ نہیں اٹھائینگے اور امریکہ کو مطلوب ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا مطالبہ بھی نہیں کرینگے نواز شریف کی طرف سے بھی بعض یقین دہانیاں کرائی گئیں اسکے بعد بات چیت ہوئی تاہم اس بات چیت کے بعد حکومت پاکستان کی طرف سے جو پریس ریلیز جاری کی گئی اس پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں امریکی میڈیا نے پریس ریلیز پر حیرت ظاہر کی ہے جس میں نئے امریکی صدر سے کچھ باتیں منسوب کی گئی ہیں ۔پاکستانی پریس ریلیز کے بعد نومنتخب امریکی صدر کا دفتروائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ حرکت میں آئے ٹرمپ کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ بات چیت تعمیری رہی جس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ دونوں لیڈروں کے درمیان مستقبل میں کس طرح مضبوط ورکنگ ریلیشن شپ قائم کی جا سکتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ٹرمپ نوازشریف کیساتھ مضبوط تعلقات چاہتے ہیں واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر سلیم عباس جیلانی نے پاک امریکہ تعلقات میں پیش رفت کی اطلاع دیتے ہوئے کہا ہے کہ خارجہ امور کیلئے وزیراعظم نوازشریف کے خصوصی معاون طارق فاطمی امریکہ کے دورے پر پیر کو واشنگٹن پہنچ رہے ہیں دورے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی انکی ملاقات ہوگی وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جوش ارنسٹ نے کہا ہے کہ پاکستان کیساتھ امریکہ کے تعلقات پیچیدہ رہے ہیں لیکن یہ تعلقات اہم ضرور رہے ہیں انہوں نے کہا کہ خاص طور پر گزشتہ آٹھ سال کے دوران یہ تعلقات تسلسل کے ساتھ ہموار نہیں رہے بالخصوص ایبٹ آباد آپریشن کے تناظر میں تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے انہوں نے کہا کہ نوازشریف کیساتھ گفتگو میں ٹرمپ نے کیا کچھ کہا اسکے متعلق وہ قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتے امریکی محکمہ خارجہ نے پریس ریلیز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے اس گفتگو کیلئے محکمہ خارجہ سے بریفنگ نہیں لی تھی وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا کہ تعلقات کی پیچیدہ نوعیت ہی تھی جس کی وجہ سے صدراوباما خواہش کے باوجود پاکستان کا دورہ نہیں کر سکے‘ انہوں نے کہاکہ نوازشریف سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے پاکستان کا دورہ کرنیکی خواہش ظاہر کی لیکن پھر فیصلہ بدل لیا تاہم جب نومنتخب صدر غیر ملکی دورہ کرنا چاہیں گے اور اس دورے کے پروگرام کی تیاری شروع کی جائیگی تو پاکستان یقیناًانکے دورے کے پروگرام میں شامل ہوگا تجزیہ کاروں کے مطابق ٹیلی فونک گفتگو پر پاکستانی پریس ریلیز کے حوالے سے امریکی میڈیا میں غم و غصہ کی فضا پائی جاتی ہے امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی حلقے اس گفتگو کو اس قدر اہم سمجھ رہے تھے تو اس کیلئے سفارتی آداب کا خیال رکھتے ہوئے ٹرمپ کی ٹیم سے پیشگی مشورہ اور تفصیلات طے کرنے کے بعد ایسا کرنا چاہئے تھا امریکہ میں بھارتی اور پاکستان مخالف لابی اس صورتحال کا بڑھ چڑھ کر فائدہ اٹھا رہی ہے امریکی میڈیا میں اس پریس ریلیز پر جو بحث چھڑ گئی ہے اسے نہ تو ٹرمپ کیلئے اور نہ ہی پریس ریلیز جاری کرنے والے پاکستانی حلقوں کیلئے مفید یا اچھی خبرقرار دیا جارہا ہے یہ ’’بیک فائر‘‘ پاکستان کیلئے سفارتی نقصان کا سبب بن رہاہے۔

جسکی ذمہ داری پریس ریلیز تیار اور جاری کرنیوالے پاکستانی حلقوں پر ڈالی جا رہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ اگر نومنتخب صدر محکمہ خارجہ سے بریفنگ یا مشورہ لئے بغیر مبارکباد کیلئے پاکستانی وزیراعظم کی فون کال پر ان سے بات چیت کیلئے رضا مند ہوگئے تھے اور بات چیت کے دوران انہوں نے کوئی خوشنما جملے کہہ بھی دئیے تھے تو گفتگو پر یکطرفہ شادیانے بجانے کے بجائے ٹرمپ کے کیمپ کے ساتھ باہمی مشاورت سے تفصیلات طے کرنے کے بعد اسے میڈیا کیلئے جاری کرنا چاہئے تھا گفتگو کی یکطرفہ تفصیلات جاری کرنا کیوں مناسب سمجھا گیا نوازشریف کو پریس ریلیزجاری کرنیکا مشورہ دینے والے انکے مشیروںیا معاونین نے وزیر اعظم کی کوئی خدمت نہیں کی نہ ہی اس سے پاکستان کو کوئی فائدہ پہنچا ہے بلکہ الٹا ’ بیک فائر‘ ہوگیا ہے پاکستان کے بارے میں انتخابی مہم کے دوران دیئے گئے ٹرمپ کے بیانات اور ٹیلی فونک گفتگو میں ان سے منسوب خوشنما جملوں کا موازنہ کرکے میڈیا میں ٹرمپ کی تضاد بیانی پر تنقید ہو رہی ہے اور امریکی محکمہ خارجہ سے بریفنگ یا مشورہ لئے بغیر پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ فون پر گفتگو کیلئے نئے صدرکوہدف تنقید بنایا جا رہا ہے تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن میں پاکستانی سفیر سلیم عباس جیلانی صورتحال پر پریشانی محسوس کر رہے ہیں نومنتخب صدر کے کیمپ میں جن دوستوں نے فون کال ملانے کیلئے کوششیں کی تھیں وہ بھی ندامت محسوس کر رہے ہیں اور انہیں چھبتے سوالات کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے اس پریس ریلیز کے بعد آئندہ کیلئے ٹرمپ اور انکے معاونین پاکستان کیساتھ رابطوں میں محتاط رہنے کی آخری حد تک جائینگے نئے امریکی صدر کے قریبی حلقوں میں پہلے ہی بھارتی لابی بہت موثر بتائی جاتی ہے نوازشریف کے جومشیر اور معاونین وزیراعظم کو سفارتی آداب کا خیال رکھنے کا مشورہ دینے اور یکطرفہ پریس ریلیز جاری کرنے سے احتراز کا مشورہ نہ دے کر وزیراعظم کی سبکی کرانے کے ذمہ دار ہیں جس نے عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں منفی تاثر کو ہوا دی اور دونوں ملکوں میں ناگوار صورتحال پیدا کی وزیراعظم کو چاہئے کو ان کی سختی سے سرزنش کریں اور آئندہ ان سے مشورہ لینے میں محتاط رہیں۔