بریکنگ نیوز
Home / کالم / قومی ائر لائن کا زوال

قومی ائر لائن کا زوال

ی آئی اے کا کسی زمانے میں دنیا میں طوطی بولتا تھا دنیا کی چند بڑی بڑی ائر لائنز میں اس کاشمار ہوتا تھا ہماری یہ ائر لائن دنیا میں پاکستان کی شناخت تھی‘ یہ وہ دور تھا جب اس کا کنٹرول ائر مارشل اصغر خان اور ائر مارشل نور خان جیسے اعلیٰ درجے کے منتظمین کے ہاتھوں میں تھا جب اس میں کوئی سیاسی بھرتی نہیں ہوتی تھی جب اس میں میرٹ کا بول بالا تھا جب اس کے جہازوں کی مرمت اور دیکھ بھال کا معیار وہی تھا جو کسی یورپین ائر لائن کا ہوسکتا ہے جب اس کے جہاز وقت مقررہ پر اڑا کرتے تھے یہی پی آئی اے تھی کہ جس کے اہلکاروں نے مشرق وسطیٰ میں کئی ائر لائنز کے قیام میں عرب امارات اور سعودی عرب کی حکومتوں کی معاونت کی اور ان کے ائر لائنز کے عملے کو تربیت دی اور ان کو بتلایا کہ ائر لائنز کیسے چلائی جاتی ہیں آج ان ممالک کی ائر لائنز تو فرش سے عرش تک پہنچ گئی ہیں جبکہ ہماری ائر لائنز کا حال پتلا ہوچکا ہے اس ملک کے ہر حکمران نے اپنے منظور افراد کو سینکڑوں کے حساب سے پی آئی اے میں میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بھرتی کیا جہاں دس افراد سے بخوبی کام چلا یا جاسکتا تھا وہاں دو سو افراد پر مشتمل عملہ تعینات کیاگیا ظاہر ہے جب ضرورت سے زیادہ ورک فورس کسی بھی ادارے میں بھرتی کی جاتی ہے تونئے جہاز کہاں سے آئیں گے جہازوں کی دیکھ بھال کیسے ہوگی یہ لمبی تمہید اس لئے لکھنی پڑی کہ اگلے روز چترال سے اسلام آباد آنے والا پی آئی اے کا جو جہاز حویلیاں کے قریب حادثے کا شکار ہوا اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں پر ایک بڑی وجہ اس سانحے کی یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس جہاز کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی گئی تھی کہ جو اس حادثے میں تباہ ہوگیا۔

آج تک دنیا میں جتنے بھی ہوائی جہازوں کے حادثے ہوئے ہیں ایک محتاط اندازے کے مطابق ان میں نوے فیصد ایسے تھے کہ جو ہوابازوں کی غفلت یا نااہلیت کی وجہ سے ہوئے البتہ دس فیصد ایسے بھی تھے کہ جو کسی ٹیکنیکل یعنی فنی خرابی کی وجہ سے ہوئے ورنہ عام تاثراور تجربہ یہ ہے کہ مشین دھوکہ کم ہی دیتی ہے زیادہ تر حادثے انسانی غلطی سے رونما ہوتے ہیں یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ 1970ء کے بعد کسی بھی حکمران یا حکومت نے صدق دل سے یہ کوشش نہیں کی کہ وہ پاکستان کے دو اہم قومی اداروں یعنی پاکستان ریلوے اور پاکستان انٹرنیشنل ائر لائنز کی مزید نشوونما کریں الٹا قصداً انہیں خراب کیا گیا ریلوے کی خرابی میں روڈ ٹرانسپورٹرز کی لابی کا بڑا ہاتھ ہے انہوں نے دانستہ طور پر اسے برباد کیا تاکہ ریلوے فیل ہو اور روڈ ٹرانسپورٹ پھلے پھولے پی آئی اے کی نجکاری کرنے کا منصوبہ بھی یار لوگوں نے بنایا ہوا ہے پی آئی اے دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑی ہوسکتی تھی اگر اسے خالصتاً کمرشل خطوط پر چلایا تھا جرمنی کی لفٹانسا سنگار کی سنگاپور ائر لائنز‘تھائی لینڈ کی تھائی ائرویز آسٹریلیا کی کینٹاس وغیرہ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جن خطوط پر مندرجہ بالا ائر لائنز کو چلا جارہا ہے انہی خطوط پر آخر ہم نے پی آئی اے کو کیوں نہ چلایا؟ جس طرح ائر مارشل اصغر خان یا ائر مارشل نور خان نے اسے چلایا ان کے بعد آنے والے پی آئی اے کے کرتا دھرتوں نے آخر ان دو عظیم ایڈمنسٹریٹرز کی تقلید کیوں نہ کی؟ اگر کسی ادارے کا چیف یعنی سب سے بڑا حاکم قابل ہو اور دیانت دار بھی ہو تو اس ادارے کی کایا پلٹ سکتی ہے پی آئی اے کو آج ایک اصغر خان یا ایک نور خان جیسے حاکم کی ضرورت ہے کہ جو اسے اتھاہ گہرائیوں سے نکال کر اس کی نشاۃ ثانیہ کرے‘ حکومت کو کم ازکم ایک مرتبہ کڑوا گھونٹ بھر کر اس میں بھاری سرمایہ کاری کرنا ہوگی پرانے جہازوں کے فلیٹ کو بدلنا ہوگا جہازوں کی دیکھ بھال کے اس معیار کو اپنانا ہوگا کہ جو ماضی میں کبھی تھا ۔