بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / ایک اور المناک فضائی حادثہ

ایک اور المناک فضائی حادثہ

پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن کا مسافر طیارہ گذشتہ روز چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوگیا میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثے میں 47افراد جاں بحق ہوئے تادم تحریر مہیا رپورٹس کے مطابق اے ٹی آر42 کی پرواز پی کے 166معمول کے مطابق چترال گئی اور تین بجکر50منٹ پر واپس اسلام آباد کے لئے روانہ ہوئی تاہم حویلیاں کے قریب انجن میں خرابی پیدا ہوگئی خرابی سے متعلق پائلٹ کی اطلاع کے بعد طیارے کا کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا اس حادثے میں معروف نعت خواں جنید جمشید بھی جاں بحق ہوئے جو اپنے تبلیغی دورے پر چترال گئے تھے حادثے میں جاں بحق ہونے والے دیگر افراد میں چترال کے ڈپٹی کمشنر اسامہ ورائچ ان کی اہلیہ اور بیٹی بھی شامل ہیں طیارے کے مسافروں میں غیر ملکی بھی شامل تھے حادثے میں جاں بحق ہونے والی خواتین کی تعداد 9بتائی جاتی ہے خبررساں ایجنسیوں کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت کا کام جاری ہے وزیر مملکت طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ پانچ لاشیں شناخت کرلی گئی ہیں جبکہ باقی پر ابھی وقت لگ سکتا ہے وطن عزیز میں فضائی حادثات کی تاریخ پرانی ہے اور اب تک50 کے قریب بڑے حادثات ہوچکے ہیں جن میں اہم قومی شخصیات سمیت سینکڑوں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

تازہ ترین حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ 2007میں تیار ہوا اور اس نے پہلی پرواز 2007ء ہی میں بھری اس طیارے میں پریٹ اینڈ ونٹی کے دو انجن لگے ہوئے ہیں قومی فضائی کمپنی کے چیئرمین اعظم سہگل کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارے کا صرف ایک انجن خراب تھا اور امید کی جارہی تھی پرواز منزل مقصود تک پہنچ جائے گی تاہم پائلٹ کی مے ڈے کال کے بعد جہاز ریڈار سے غائب ہوگیا اس افسوسناک حادثے کی تحقیقات بھی حسب معمول ہوں گی طیارے کا بلیک باکس مل چکا ہے امریکہ نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات میں تعاون کی پیشکش بھی کی ہے قواعد کے مطابق پرواز سے قبل طیارے کو تکنیکی بنیادوں پر چیک ضرور کیا جاتا ہے اس افسوسناک حادثے میں اگر کسی جگہ کسی بھی شعبے کی غفلت اور لاپرواہی ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف کاروائی ضروری ہوگی تاکہ آئندہ کے لئے احتیاط برتی جائے امید ہے کہ انکوائری رپورٹ جلد قوم کے سامنے لائی جائے گی۔

گرانفروشوں کے خلاف کاروائی

پشاور میں گرانفروشوں کے خلاف مہم میں متعدد افراد کو گرفتار کیا جاتا رہا ہے ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن شہر کے مختلف علاقوں میں کریک ڈاؤن جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیتی ہے مصنوعی گرانی کے خلاف انتظامیہ کا احساس قابل اطمینان ضرور ہے تاہم مہنگائی کے بہت بڑے چیلنج سے نمٹنے کے لئے اقدامات کوآٹے میں نمک کے برابر ہی قرار دیا جاسکتا ہے اس وقت نہ صرف پشاور بلکہ پورے ملک میں مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے اس کے خاتمے کے لئے ایک جانب اضلاع اور تحصیل لیول پر انتظامات کی ضرورت ہے تو دوسری طرف حکومت کو ملک میں مجسٹریسی نظام کی بحالی کے لئے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے حکومت مرکز میں ہو یا صوبوں میں اس برسرزمین حقیقت سے انحراف نہیں کرسکتی کہ غریب متوسط اور تنخواہ دار طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے اور اس کے لئے حکومت کے بڑے بڑے اعلانات اور منصوبے ہر حوالے سے بے معنی ہیں اسے فوری ریلیف کی ضرورت ہے جس کیلئے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کرنا ہوں گے بصورت دیگر لوگوں میں مایوسی بڑھتی چلی جائے گی۔