بریکنگ نیوز
Home / کالم / پلیز اور تھینک یو

پلیز اور تھینک یو


نبیلہ آپریشن تھیٹرمیں میری مددگار نرس ہے جہاں اسے چند ہی ماہ ہوئے ہیں شروع سے ہی نبیلہ کی شہرت لڑائی جھگڑے کی رہی ہر کسی سے تُند لہجے میں بات کرنا ‘اپنے ہم منصبوں یا کلاس فور ملازمین کی توہین کرنا اسکا روٹین تھا میں نے چند دن تو برداشت کیا لیکن اسکے بعد میں نے مداخلت کا فیصلہ کیا میری اپنی عادت بھی تند خوئی کی تھی لیکن جب ٹریننگ اور اعلیٰ تعلیم کیلئے انگلینڈ کے ہسپتالوں میں کام کیا تو وہاں ملازمت کی اخلاقیات خود بخود سیکھ لیں چنانچہ آج بھی جب میں آپریشن کے دوران نرس سے کوئی اوزار مانگتا ہوں تو ساتھ پلیز کہے بغیر نہیں رہتا اور اوزار لینے کے بعد ’تھینک یو‘ ضرور کہتا ہوں کیونکہ برطانوی نرسوں سے کوئی چیز مانگو اور ساتھ پلیز کی دم نہ لگاؤ تو وہ خودیاددہانی کرادیتی ہیں کہ ساتھ کہو پلیز۔ چنانچہ میں نے نبیلہ پر خصوصی توجہ دینی شروع کی اور بات بات پر پلیز اور تھینک یو سے مخاطب ہونے لگا تاہم وہ پھر بھی نہ سمجھی تو میں نے اسکی گفتگو میں لقمہ دینا شروع کیا جب اس نے اسسٹنٹ سے انجکشن مانگا تو میں نے اسی کی بات پر ’پلیز ‘ کا اضافہ کیا اور اسسٹنٹ نے چیز دی تو میں نے نبیلہ کی جگہ ’تھینک یو ‘ کہا۔ چند دفعہ اسکی گفتگو میں اسی طرح کی مداخلت کرنے کے بعد میں نے تمام سٹاف کو اپنے سبق حاصل کرنے کی کہانی سنائی کہ کس طرح انگلینڈ میں نرسوں نے شروع میں تنگ کیا اور بعد میں جب میں ’مہذب‘ بن گیا تو کیسے میری مدد کرنے لگیں نبیلہ واقعی اسکے بعد ایک مقبول مددگار کے طور پر پہچانی جانے لگی۔

ہمارے ہسپتال ہوںیا کلینک، ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف پر کام بہت زیادہ ہے ایک انار صد بیمار کے مصداق ، ڈاکٹر ہو کہ نرس ان پر کافی پیشہ ورانہ دباؤ ہوتاہے کچھ مریض کی بے صبری اور کچھ اسکے رشتہ داروں کا اپنے نمبر سے پہلے دیکھے جانے پر مصر ہونے کی وجہ سے رفتہ رفتہ ڈاکٹر اور اسکا عملہ بھی بے حسی کا شکار ہوجاتا ہے اسکا نتیجہ نہ صرف مریض اور ان کے اہل و عیال کی بے یقینی اور بے اطمینانی میں نکلتا ہے بلکہ ڈاکٹر کے سارے علاج کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اس سے ڈاکٹر کی شہرت بھی داغدار ہوجاتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ نہ صرف قومی سطح پر بلکہ ہر شعبے میں نرم خوئی، لہجے میں حلاوت اوررویّہ نرم رکھنے کی تربیت دی جائے میں ہمیشہ سے اپنے زیر تربیت ڈاکٹروں کو چند ایک اخلاقیات ازبر کروانا نہیں بھولتا سب سے پہلے میری کوشش ہوتی ہے کہ میرے طلبہ اور زیر تربیت ڈاکٹر مریض کو اس کے نام سے مخاطب کریں میں انہیں ’بابا، کاکا، خالہ اور حاجی صاحب ‘ کے ناموں سے پکارنے کی حوصلہ شکنی کرتا ہوں انسانی کمزوری ہے کہ اسے بڑی عمر یاد دلانا کچھ خوشگوار نہیں لگتا۔

آپ لاکھ اپنے آپ کو تسلی دیں کہ آپ کا مقصد تو ان کی عزت ہے لیکن نوّے سالہ شخص کو بھی بابا کہہ کر پکارنے سے اسکے دل پر ایک ناگوار تاثر ضرور پڑتاہے لوگ سمجھتے ہیں کہ عمر صرف خواتین کی کمزوری ہے لیکن مردوں کو بھی اسی طرح سے ناگوار گزرتا ہے یہ الگ بات ہے کہ وہ خاموش رہ جاتے ہیں اسی طرح ہسپتال میں داخل مریضوں کو ان کے بیڈ نمبر سے پہچانا اور بلایا جاتا ہے جو میرے نزدیک بداخلاقی کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اس سے انکی انسانی حیثیت چھین کر ایک میکانکی نمبر کی پہچان دی جاتی ہے ہسپتال میں مریض کو صرف ایک بیڈ نمبر کے طور پر یاد رکھنے کے کئی بھیانک نتائج بھی نکل سکتے ہیں کیونکہ بعض اوقات مریض کے بستر تبدیل کردیئے جاتے ہیں اوریوں کسی مریض کا غلط علاج یا آپریشن بھی ہوسکتا ہے یہ تو میرے سامنے والی بات ہے کہ مریض کے رشتہ دار نے مریض سے ملنا چاہا اور جب بیڈ پر گئے تو وہ خالی پڑا تھا ساتھ والے بیڈ سے پوچھاتو جواب ملا کہ وہ تو رات کو جاں بحق ہو چکا ہے رشتہ دارجب بین کرنے لگتے ہیں تو مریض دوسرے بیڈ سے اٹھ کر حقیقت بتا دیتا ہے۔

مریض ایک تو تکلیف میں ہوتے ہیں دوسرے کئی بار مرض کی وجہ سے ان کی یادداشت پر اثر پڑتا ہے تکلیف کی وجہ سے چڑ چڑاپن بھی آجاتا ہے اور اس لئے معمولی سی بات پر بھڑک سکتا ہے اسلئے ہسپتال کے تمام سٹاف کو بے حد احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے مریض کی بدتمیزی مرض کا حصہ سمجھ کر برداشت کرنی چاہئے عمر رسیدہ مریضوں کے سننے کی صلاحیت بھی کُند ہوجاتی ہے اور وہ نہ صرف اونچا سنتے ہیں بلکہ ہسپتال کے ماحول میں انکے دوسرے حواس بھی صحیح کام نہیں کررہے ہوتے اسکی وجہ سے اگر ان افراد کے پاس اونچی آواز سے بھی گفتگو کی جائے تو وہ دماغ میں بہت زیادہ گونج پیدا کردیتی ہے اس طرح سے انکے سامنے صرف اونچا بولنے ہی سے کام نہیں چلتابلکہ رک رک کر اور باآواز بلندبات کرنی چاہئے۔

مریض چونکہ تکلیف میں ہوتے ہیں اس لئے ان کی دعا میں بڑا اثر ہوتا ہے اور اسی لئے مریض کی عیادت کیلئے جانیوالے اس سے دعا کی درخواست کرتے ہیں ویسے بھی مریضوں کی عیادت ایک عبادت ہی ہے جسکا بڑا ثواب بتایا گیا ہے ہسپتال اور کلینک کا سٹاف اگر ثواب کی نیت ہی سے مریضوں کا خیال رکھے تو کوئی وجہ نہیں کہ اللہ ان کو روزی کے ساتھ ساتھ بے تحاشا ثواب سے بھی نہ نوازے۔ ہسپتال میں سٹاف کی اکثریت مریضوں کیساتھ شفقت سے پیش آتی ہے لیکن بعض مریضوں کے لواحقین بڑے صبر آزما ثابت ہوتے ہیں۔ ہسپتال میں کبھی بھی اتنا سٹاف نہیں ہوتا کہ ہر وقت ہر مریض کے سرہانے کھڑا رہا جائے۔ درد کی ادویات بھی ایک حد میں دی جاسکتی ہیں بعض مریض محض تشخیص کیلئے داخل ہوتے ہیں اور ان کے مختلف ٹیسٹوں کا انتظار ہوتا ہے یہ انتظار بعض اوقات لمبا ہوجاتاہے جس میں کسی کا بھی قصور نہیں ہوتا اس دوران مریض کو کوئی حتمی دوا نہیں دی جاسکتی لیکن لواحقین شکایت کرتے ہیں کہ ہمیں دوسرا دن ہے لیکن مریض کو ایک انجکشن تک نہیں لگا یہ سارا گلہ سٹاف کی طرف سے تسلی بخش جواب سے جاتا رہتاہے لیکن یاد رہے کہ سٹاف کی کمی کی وجہ سے ایک دو ہی لواحقین کو سمجھایا جاسکتا ہے یہ نہیں کہ ہر نئے تیماردار کو سرے سے پوری داستان سنائی جائے۔

صبر، تحمل اور انتظار ہماری قومی کمزوریاں ہیں اور یہ نہ صرف ہسپتال بلکہ دفاتر، سڑک ، مسجد ، ائرپورٹ یا جہاز میں بھی ہمارا رویّہ ہمیں شرمندہ کرواتا ہے۔ اسی سے لڑائی جھگڑوں کی بنیاد پڑتی ہے اور ہم مہذب اقوام کی فہرست سے گرتے جاتے ہیں۔ گھر‘ سکول‘ کالج اور یونیورسٹیاں اگر بنیادی تربیت گاہیں ہیں تو سیاست ایک اور میدان ہے جس میں اگر ہمیں مخلص رہنما میسر ہوں تو قوم کی تربیت کی جاسکتی ہے۔