بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / بھارت کے ساتھ مذاکرات مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر مذاکرات قبول نہیں،سرتاج عزیز

بھارت کے ساتھ مذاکرات مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر مذاکرات قبول نہیں،سرتاج عزیز

اسلام آباد۔مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ ہم بھارت کے ساتھ مذاکرات کے خواہاں ہیں مگر مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر مذاکرات قبول نہیں ایک نجی ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بھارت میں وزارتی میٹنگ تھی اس لیے ضروری تھا کہ میں اس میں شر کت کروں بھارت نے سارک کانفرنس کا بائیکاٹ کیا تھا اور ہم اس تاثر کو دور کرنا چاہتے تھے کانفرنس کے دیگر شرکاء نے میری شرکت کے فیصلے کو سراہا۔میری صبح افغان صدر سے دوستانہ ماحول میں میٹنگ ہوئی تھی۔

مجھے زیادہ مایوسی اس پر ہوئی کہ افغان صدر نے بھارت کی سرزمین پر پاکستان کے خلاف بیان دیا۔مشیر خارجہ نے کہا کہ افغان حکام نے خود تسلیم کیا کہ 35 سے 40 فیصد علاقے پر ان کی حکومت نہیں ہے 2014ء میں افغان صدر پاکستان آئے تھے افغان صدر کو توقع تھی کہ ہم طالبان سے مذاکرات میں ان کی مدد کریں گے اس وقت ہمارا آپریشن ضرب عضب شروع ہوا۔ہم نے ان سے کہا بھی کہ آپ لوگوں کو روکیں آپریشن شروع ہونے کے بعد یہاں سے لوگ ادھر گے ہم نے افغان حکومت سے کہا بھی کہ آپ لوگوں کو روکیں ملا عمر کی موت کی خبر نے مذاکرات کو نقصان پہنچایا یہ کہنا غلط ہے کہ پاکستان طالبان کی مدد نہ کرے تو حالات ٹھیک ہو جائیں گے ۔

افغان حکام کو پاکستان سے دراندازی کی غلط رپورٹس ملتی ہیں مشیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔ہم افغانستان مین امن دیکھنا چاہتے ہیں افغانستان میں امن پاکستان اور خطے کے مفاد میں ہے ہم نے پچاس لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دی۔ اب بھی تیس لاکھ افغان مہاجرین یہاں پر ہیں ہم نے افغانستان کو ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولت دی ہے سرتاج عزیز نے کہا کہ 2008ء کے بعد بھارت نے جو رویہ اختیار کیا اس سے تمام راستے بند ہو گئے بھارت نے جو رویہ اختیار کیا اس سے سارک کے ادارے کو نقصان پہنچاانہوں نے کہا کہ اس وقت پورے خطے میں امن وامان ہونا سب کے لیے فائدہ مند ہے۔

افغان سفیر پاکستان کے خلاف بیان دے رہے ہیں پاکستان نے بڑے خلوص کے ساتھ افغانستان کی مدد کی ہے بھارت کے عزائم ہیں کہ پاک افغان تعلقات خراب کرے ہم بھارت کی ان کوششوں کو ناکام بنائیں گے انڈیا نے چار بار سارک کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا اگر ایک ملک بھی سارک میں شریک سے انکار کرے تو سارک نہیں ہوگی۔مشیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے تمام ہمسائیہ ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہیں سری لنکا اور نیپال کے ساتھ بھارت کے تعلقات اچھے نہیں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔پاکستان نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نمایاں کیا۔