بریکنگ نیوز
Home / کالم / غوروفکرکادن

غوروفکرکادن

بارہ ربیع الاول نہایت ہی مقدس دن ہے جب ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ اس دنیا میں تشریف لائے اور انہوں نے دنیا کو روشن کر دیاآپ جیسی ہستی کی مثال اس دنیا میں نہیں ملتی ان کی آمد سے پہلے ہر نبی خاص اپنی قوموں کی طرف مبعوث کئے جاتے تھے لیکن ہمارے نبی حضرت محمدؐ تمام انسانوں کیلئے مبعوث ہوئے بنی نوع انسان کو خواہ وہ مشرق وسطیٰ یا عرب دنیا سے تعلق رکھتے ہوں یورپ کے ہوں‘ امریکہ سے ان کا تعلق ہو یا افریقہ ان کا مسکن ہو یا وہ براعظم ایشیا کے رہنے والے ہوں ان سب کیلئے مصطفوی نظام میں رہنمائی کا سامان موجود ہے ۔ حضورپاکؐ نے مسلمان کیلئے اپنے اعلیٰ وارفع کردار اور فرمودات سے ایک ایسی مشعل چھوڑی ہے کہ جس کی روشنی میں اگر ہم اپنی زندگی کا سفر طے کریں تو دنیا میں بھی سرخرو ہو سکتے ہیں اور آخرت میں بھی اپنے لئے ایک بلند مقام حاصل کر سکتے ہیں انہوں نے مسلمان کو مسلمان کا بھائی قرار دیادنیا میں پچاس سے زیادہ اسلامی ممالک ہیں افریقہ سے لیکر ایشیا تک ہر براعظم میں مسلمان حکومتیں قائم ہیں لیکن ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر خدا لگتی کہئے کہ کیا ہم سب واقعی ایک دوسرے کے بھائی نظر آتے ہیں ہم ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں ایک دوسرے کو گرا رہے ہیں دور نہ جاےئے اپنے ہمسایہ ملک افغانستا ن کو ہی دیکھ لیجئے ہندوؤں سے گٹھ جوڑ کر وہاں کے حکمران اپنے مسلمان بھائی ملک پاکستان کی بیخوں میں پانی دے رہے ہیں ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ نے حقوق العباد پر کافی زور دیا تھا مجبوروں غریبوں اور مظلوموں کے حقوق بتائے تھے ۔

یتیموں کا خیال رکھنے کا کہا تھا دنیا میں لاکھوں مسلمان ایسے ہیں کہ جن کے پاس دولت کے انبار ہیں اتنے کرنسی نوٹ ان کے پاس ہیں کہ ان کو گننے کیلئے ان کے پاس وقت نہیں ہے کتنے یتیم خانے انہوں نے بنائے ہیں کہاں کہاں انہوں نے غریبوں اور نادار مسلمانوں کیلئے ایسے ہسپتال بنائے ہیں کہ جن میں ناداروں اور مفلوک الحال لوگوں کا مفت علاج معالجہ ہوتا ہو کتنے تعلیمی ادارے وہ چلا رہے ہیں کہ جہاں غریبوں کے بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہو ہماری مسلمان اشرافیہ توبڑے بڑے محل‘ جزیرے اور مہنگے ترین جہاز اپنے ذاتی استعمال کیلئے خریدنے کی شوقین ہے ؟ اسے غریب کی کیا پرواہ۔ مال کو تو حضور پاکؐ نے امت کے لئے فتنہ قرار دیا تھا اور ایک ہم ہیں کہ اس کے پیچھے سرپٹ بھاگ رہے ہیں کیا حضور پاکؐ نے یہ نہیں فرمایا کہ رشوت دینے اور لینے والے دونوں جہنمی ہیں؟ کیا ان کا یہ فرمان نہیں کہ جس نے اشیائے خوردنی میں ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ؟ آج مسلمانوں میں ہر سو رشوت کا بازار گرم ہے کمیشن کے بغیر ہم کوئی کام کرتے ہی نہیں حکمرانوں کا کام ہوتا ہے اس کا قلع قمع کرنا پر ہمارے حکمران خود اس غلیظ کام میں سر کے بال سے لیکر پاؤں کو انگوٹھے تک ملوث ہیں ہر شے میں ملاوٹ ہے چائے میں ‘ دودھ میں ‘ مرچ مصالحوں میں گھی میں حتیٰ کہ مسلمان دوسرے مسلمان کو کھانے کیلئے گدھے کا گوشت یا مردہ مال مویشیوں کا گوشت بیچ رہا ہے ۔

ہمارا خدا ایک ہمارا نبیؐ ایک ہمارا قرآن ایک تو پھر ایک مسلمان کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ دوسرے کا قتل کرے یا اس پر کفر کا فتویٰ لگائے اقبال نے کیا خوب کہا کہ
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہو ئے تارک قرآن ہو کر
شاعر مشرق نے مسلمانوں میں پھیلی ہوئی افراتفری کو کیا خوب صورت انداز میں درج ذیل شعروں میں بیان کیا ہے ۔
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے تو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

آئیے آج کے دن ہم سب عہد کریں کہ ہم حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں میں توازن رکھیں گے اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ نے ہمیں قدم قدم پر اس دنیامیں جس طرح زندگی گزارنے کا طریقہ سکھلایا ہے اس پر من وعن عمل درآمد کریں گے سلمان فارسی سے کسی نے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے انہوں نے فرمایا اسلام ‘ اس نے پھر پوچھا آپ کے والد کا نام فرمایا اسلام‘ اس نے تیسرا سوال کیا آپ کے دادا کا نام جواب دیا ‘اسلام ہمیں بھی اپنے تمام اختلافات ختم کرکے ایک اچھے مسلمان کی طرح زندگی گزارنی ہو گی آج کا دن غور و فکر کا دن ہے ۔