بریکنگ نیوز
Home / کالم / ایک روایت کااعادہ

ایک روایت کااعادہ

ہر سال دسمبر کے مہینے میں اہم شاہراہوں اور عمارتوں پر بدعنوانی کے خلاف نعروں کے حامل بینرز خصوصی طور پرآویزاں کئے جاتے ہیں ،سرکاری وغیر سرکاری سطحوں پر خصوصی تقاریب کا اہتمام ہوتا ہے جن سے خطاب کرتے ہوئے مقررین معاشرے میں پھیلی کرپشن کے اثرات پر تفصیل سے روشنی ڈا لتے ہیں اوربدعنوانی کے خاتمے کیلئے اقدامات کی ضرورت پر زور د یتے ہیں جبکہ کرپشن کے خاتمے کیلئے ’ذمہ دار‘ اداروں کی جانب سے ان اقدامات کی خصوصی طور پر تشہیر بھی ہو تی ہے جو ان اداروں نے مملکت کو بدعنوانی کے ناسور سے نجات دلانے کیلئے اٹھائے ہوتے ہیں رواں دسمبر میں بھی یہ روایت دہرائی جا رہی ہے وجہ یہ ہے کہ عالمی یوم انسداد بدعنوانی( نو دسمبر) اسی مہینے میں آتا ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ’ ہر سال دسمبر کے مخصوص ایام میں بدعنوانی کیخلاف روایتی بیان بازی میں عام دنوں کے مقابلے میں اضافہ اور مختلف سرکاری محکموں و این جی اوز کے زیر اہتمام خصوصی تقاریب کا اانعقاد روایت بن چکاہے جبکہ ان میں سے کئی تقاریب کا مقصدفنڈز کا استعمال ظاہر کرنے کیلئے مواقع پیدا کرنا اور تقاریب پر اٹھنے والے اصل اخراجات سے زائد بل تیار کرکے مالی منفعت کے حصول کا اہتمام کرنا ہوتاہے‘ سوال یہ ہے کہ عالمی یوم انسداد بدعنوانی کے آس پاس کرپشن کی وجوہات ، اثرات اور دیگر متعلقہ امور پر سیر حاصل تجزیوں و تبصروں کے بعد اس اہم ترین قومی مسئلے کوسال بھر کیلئے عمومی موضوع کی حیثیت کیوں دے دی جاتی ہے ؟ ملک بھر میں سرکاری اداروں کے حوالے سے بدعنوانی کی لاتعداد داستانیں زبان زد عام ہیں جو سرکاری اہلکاراوپر والوں کیساتھ حرام خوری‘کے بندھن میں بندھے ہوتے ہیں وہ اوپر والوں کی پردہ داری بھی تو نہیں کرتے وہ کسی نہ کسی محفل میں کسی نہ کسی دوست یا عزیز کے روبرو اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہوئے بتاہی دیتے ہیں کہ کون کون سا بڑا کس کس طرح اپنے اختیارات کو کام میں لاکر مال بٹور رہا ہے اوپر والوں کو بھی بخوبی معلوم ہوتا کہ کس کس آسامی پر بالائی آمدنی کی شرح کتنی ہے اورافسران ان مناصب پر تقرریوں کو کام میں لا کر کتنا دھن دولت بٹور رہے ہیں ۔

اب اگر کوئی یہ کہے کہ بدعنوانی کا راستہ روکنے کیلئے سارا زور عوامی نمائندوں پر کیوں ڈالاجاتاہے تو اس کا جواب یہی ہے کہ عوام کا براہ راست تعلق عوامی نمائندوں کے ساتھ ہے اورعوام کی طاقت سے عوامی نمائندوں کو وہ اختیارات ملتے ہیں جنہیں استعمال میں لاکر وہ اپنے دائرہ اختیار کی حدتک بدعنوانی کا راستہ روک سکتے ہیں لہٰذا عوام سب سے پہلے ان ہی سے یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ انہوں نے کرپشن کا راستہ روکا یا نہیں۔ اگرمنتخب عوامی نمائندے حقیقی معنوں میں صدق دل سے عہد کر لیں کہ انھوں نے اپنے اختیار کو عوام سے کئے ہوئے وعدوں اور خالق حقیقی کے احکامات کے تحت استعمال کرنا ہے تو چونکہ انھیں معلوم ہے کہ کون کون سی آسامی پر کیا کیابدعنوانیاں ظہور پذیر ہوتی ہیں اس لئے وہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ ان بدعنوانیوں کا راستہ روکنے کیلئے اہم سرکاری آسامیوں پر فرض شناس ودیانتدار افسران کی میرٹ پر تعیناتی یقینی بنا سکیں۔ یہ عمل کم از کم سرکاری اداروں میں بدعنوانی کا راستہ روکنے کیلئے ناگزیر حیثیت رکھتا ہے۔یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بدعنوانی کی شرح کم ہو ئی ہے اور پاکستان میں موجودہ دور حکومت میں وفاق، پنجاب اور خیبر پختونخوا کی سطح پر کرپشن کے خاتمے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کسی حد تک نتیجہ خیز رہے ہیں۔

تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مملکت خدادادکو کرپشن کے وجود سے پاک کر دیا گیا ہے بلکہ یہ حقیقت کہ’’ بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا تاحال ایک خواب ہے‘‘ اپنی جگہ سر اٹھائے کھڑی ہے ۔دسمبر کے ان مخصوص ایام کو روایتی طریقے سے منانے کیساتھ ساتھ مستقل بنیادوں پران تمام قباحتوں کے حل تلاش کرتے رہنا ضروری ہے جو مملکت خداداد سے کرپشن کے مکمل خاتمے کی راہ میں رکاوٹ ہیں اس حوالے سے سفارشات کی تیاری‘ ان سفارشات پر عمل درآمد کا طریقہ کاروضع کرنااورانہیں قانون سازاداروں کے اراکین تک پہنچانا کرپشن کے خلاف برسرپیکار ہر تنظیم اور ادارے کی کل وقتی ذمہ داری ہے جبکہ ان سفارشات کو پارلیمنٹ میں لانا اور پھر ان سفارشات کی روشنی میں بہتر سے بہتر قانون سازی کر تے رہنا تمام اراکین پارلیمنٹ کی انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں کا حصہ ہے ۔اس حوالے سے یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ بدعنوانی کا راستہ روکنے کیلئے سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کے اتفاق رائے کی حامل قانون سازی کا معاملہ ایک عرصے سے تعطل کا شکار ہے اس معاملے کو آگے بڑھانا اور احتساب کے موثر نظام کا وضع کیا جا نا وقت کی اولین ضرورت ہے ۔