بریکنگ نیوز
Home / کالم / تحقیقاتی رپورٹیں اور کمیشنز!

تحقیقاتی رپورٹیں اور کمیشنز!

وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو 1971ء کے واقعات کے حوالے سے ایک کتاب لکھوانا چاہتے تھے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ انہوں نے یہ کتاب لکھنے کی ذمہ داری ایک ایسے شخص کو دی جن کا تحقیقی کام عالمی سطح پر مستند مانا جاتا ہے۔ ان کا نام تھا خورشید کمال عزیز جنہیں سب ’’کے کے عزیز‘‘ کے نام سے جانتے ہیں اور علم و تحقیق کے سمندر میں وہ عالمی سطح پر پاکستان کی ایک روشن پہچان ہیں۔ زرینہ بی بی ان کی بیگم تھیں۔ اُن کے بقول 1971ء کے متعلق کتاب پر کام کرنے کے دوران ایک دن ’’کے کے‘‘ نے وزیرِ اعظم سے کہا کہ اس کتاب پر کام کرنے کیلئے انہیں حمودالرحمان کمیشن رپورٹ پڑھنی ہوگی۔ بھٹو صاحب نے حکم جاری کر دیا اور پھر جنرل امتیاز نے ان صندوقوں کو اُن کے گھر پہنچانے کا انتظام کیا۔ تقرییاً نو مہینوں تک یہ صندوق برابر ہمارے گھرسرکاری گاڑی میں لائے جاتے تھے۔ ’’کے کے‘‘ نے ان سب کو پڑھا اور نوٹس بنائے۔ کے کے‘‘ نے تو کتاب مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم کو 1975ء میں تھما دی تھی مگر وزیرِ اعظم نے بتایا کہ وزارتِ داخلہ اس مسودے پر اپنی رائے دے گی۔اُس وقت وزیرِ داخلہ خان عبدالقیوم خان تھے اور ان کی موجودگی میں کیسے وزرات داخلہ نے اسے لٹکائے رکھا اور کون کون اس کتاب کے چھپنے کے خلاف تھا‘ یہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔ ’’کے کے‘‘ کے پاس اس کتاب کی کاربن کاپی تھی جو ضیاء الحق کے دور میں اِدھر اُدھر ہو گئی۔

آج اِس سانحہ کو گزرے کم وبیش پینتالیس برس ہونے کو ہیں۔ اس معاملے پر ہنری کسنجر کا گمراہ کن بیان آ چکا ہے۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ جب بھٹو صاحب نے حمودالرحمان کمیشن بنایا تھا تو اس کا تعلق محض 1971ء کے واقعات سے نہیں تھا بلکہ اس میں 1974ء سے 1971ء کے تمام حالات کا جائزہ لیا گیا تھا‘ کیونکہ کوئی بھی مسئلہ نہ تو ایک دن میں کھڑا ہوتا ہے نہ اسے ایک حکم سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ قرارداد کی منظوری سے قبل پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ افتخار حسین خان ممدوٹ کی حکومت کو ’’بدعنوانیوں‘‘ کی آڑ میں ختم کر کے گورنر راج لگا دیا گیا تھا۔ یہ گورنر راج پاکستان کے پہلے صوبائی انتخابات تک جاری رہا تھا جو پنجاب میں مارچ 1951ء میں ہوئے تھے اور اگلے دن اخبارات میں ’’جھرلو‘‘ کی سرخیاں لگی تھیں۔ سہروردی کی ’’چھٹی‘‘ اور پنجاب میں گورنر راج بظاہر قراردادِ مقاصد لانے کی تیاریاں تھیں مگر درحقیقت اشرافیہ کی رال ہندؤں اور سکھوں کی چھوڑی جائیدادوں پر تھی۔ میاں افتخارالدین نے کہا بھی کہ ان جائیدادوں کو ’’قومی تحویل‘‘ میں لے لیں مگر جن کی ’’مالِ غنیمت‘‘ پر نظر تھی انہوں نے میاں صاحب کو مسلم لیگ ہی سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ اگر 1970ء کی دہائی میں ہم حمودالرحمان کمیشن رپورٹ سے استفادہ کر لیتے تو پھر ان بدبخت پالیسیوں سے بچا جاسکتا تھا جو 1980ء کی دہائی سے ہمارا مقدر ٹھہریں۔ ایک حمودالرحمان رپورٹ ہی کیا‘ ہم نے تو اس کے بعد اوجڑی کیمپ اور اسامہ بن لادن کی موت بارے بھی جو کمیشن بنائے ان کی سفارشات کو بھی صیغہ راز رکھا۔ البتہ کچھ ہرکاروں کو محض ماڈل ٹاؤن کمیشن کی رپورٹ ہی کا مطالبہ کرنا ہوتا ہے۔

قالین کے نیچے گند چھپانے سے تعفن پیدا ہوتا ہے اور اس کے اثرات بعض اوقات ناقابل یقین حد تک تکلیف دہ ثابت ہوتے ہیں۔ چھ برس قبل سیاستدانوں نے بذریعہ اٹھارہویں ترمیم اس دیرینہ مسئلے کو 2010ء میں حل کر ڈالا تو پچھلے چھ برس میں کون سا طوفان آگیا؟ پر اگر یہی کام چھ دہائیوں قبل کر لیا گیا ہوتا تو شاید آج بہت کچھ مختلف ہوتا۔ اگر باہمی مشاورت کی جائے تو دنیا کا کون سا مسئلہ ہے جو حل نہ ہوسکے‘ مگر اس کے لئے تمام کھلاڑیوں (سیاسی کرداروں) کا ایک جگہ بیٹھنا لازم ہے۔ یہ وقت ہے کہ جنوبی افریقہ کے رہنما نیلسن منڈیلا کی تقلید میں ’’سچ اور مفاہمت‘‘ پر مبنی کمیشن بنایا جائے اور سب ’’اِن کیمرہ‘‘ (کھلے عام) اس کمیشن کے روبرو پیش ہوں۔ صیغۂ راز میں موجود تمام دستاویزات بشمول حمود الرحمان کمیشن رپورٹ یہاں جمع کروائی جائیں۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: عامر ریاض۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)