بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / معروف ثناء خواں اور مبلغ جنید جمشید ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں دارالعلوم کراچی کورنگی میں سپرد خاک

معروف ثناء خواں اور مبلغ جنید جمشید ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں دارالعلوم کراچی کورنگی میں سپرد خاک


کراچی ۔حویلیاں طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے معروف ثناء خواں اور مبلغ جنید جمشیدکوجامعہ دارالعلوم کراچی کورنگی کے قبرستان میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں آہوں اور سسکیوں میں سپردخاک کردیاگیا۔قبل ازیں ان کی نمازہ جنازہ معین خان اکیڈمی سے متصل گراؤنڈ میں مولاناطارق جمیل کی اقتداء میں اداکی گئی۔نماز جناہ میں جید علمائے کرام، سابق اور موجودہ قومی کرکٹرز ، شوبز ستاروں سمیت اہم سیاسی و سماجی شخصیات اور ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔

جنید جمشید کی نماز جنازہ سے قبل مولانا طارق جمیل نے بیان بھی کیا جس میں انہوں نے دنیا و آخرت کے اہم پہلوں پر روشنی ڈالی،جنید جمشید کی نماز جنازہ کے موقع پر سیکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے، گراؤنڈ کے اندر اور باہر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا جب کہ گراؤنڈ کو بم ڈسپوزل اسکواڈ اور سراغ رساں کتوں کی مدد سے بھی سرچ کیا گیاتفصیلات کے مطابق معروف ثنا ء خواں اور دینی مبلغ جنید جمشید کی نماز جنازہ جمعرات کو اے کے ڈی گراؤنڈ ڈیفنس میں ادا کر دی گئی ۔

ہمایوں جمشید پی این ایس شفا سے بھائی کی میت لے کرڈیفنس فیز ایٹ میں واقع اے کے ڈی گراونڈ پہنچے معروف نعت خواں کے جسد خاکی کو قومی پرچم میں لپیٹا گیا تھا اے کے ڈی گراؤنڈ میں مرحوم کے پرستاروں ، اداکاروں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ، مرحوم کے دوستوں ، رشتہ داروں اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد نماز ظہر سے بہت دیر قبل ہی گراؤنڈ میں پہنچ گئی ۔

نماز جنازہ کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے اور تمام افراد کو مکمل چیکنگ کے بعد ہی گراؤنڈ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تین سو سے زائد رینجرز اور پولیس اہلکار سکیورٹی انتظامات کے لئے گراؤنڈ میں موجود رہے ۔ گراؤنڈ کو جانے والے تمام راستوں کو بیریئرز لگا کر بند کر دیا گیا اور صرف جنازے میں شرکت کیلئے آنے والوں کو ہی گراؤنڈ میں داخلے کی اجازت دی گئی ۔

نماز جنازہ میں مفتی تقی عثمانی ، ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار، سابق وزیرخارجہ خورشید قصوری، چیف سلیکٹر انضمام الحق، کرکٹر محمد یوسف، محمد حفیظ ، جماعت اسلامی کے رہنما حافظ نعیم الرحمان، پی ٹی آئی رہنما خرم شیرزمان، فیصل واوڈا، پی ایس پی کے ڈاکٹرصغیر احمد، اداکار سعود، نبیل ، اعجاز اسلم، گلوکار فاخرسمیت مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی نماز جنازہ کے موقع پر اے کے ڈی گراونڈ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔

اس موقع پر معروف عالم دین طارق جمیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موت کے بعد سب انسان ختم ہوجاتے ہیں ہم آج اللہ کی امانت کے اس کے سپرد کرنے آئے ہیں ، جنید جمشید کی نماز جنازہ کی ادائیگی سے قبل خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج جنید جمشید کے جنازے میں عوام کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر یقین ہوگیا کہ وہ لوگ کتنے خوش قسمت ہوتے ہیں جن کے جنارے میں اتنے زیادہ چاہنے والے شامل ہوتے ہیں ۔

مولانا طارق جمیل نے کہا کہ جس شان سے جنید جمشید کا جنازہ اٹھ رہا ہے ایسی شان تو بادشاہوں کے جنازے میں نہیں دیکھی انہوں نے کہا کہ ہر انسان کو موت کا مزہ چکھنا ہے ، جنید جمشید ہمارے درمیان نہیں لیکن جب میں اس کا نام اپنی زبان پر لاتا ہوں تو میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں انسان کو چاہئے کہ اس کی موت کے وقت اس کا خدا اس سے راضی ہو ، اگر اس کا خدا اس سے راضی ہو تو اس کی زندگی کامیاب ہے اور اگر اس کا خدا اس سے راضی نہ ہوا تو اس کی زندگی کا کوئی فائدہ نہیں ۔

بعدازاں جنید جمشید کے جسد خاکی کو جلوس کی شکل میں ڈیفنس سے دارالعلوم کراچی کورنگی میں پہنچایا گیا ،جہاں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں ان کو سپرد خاک کردیا گیا اس موقع پر رقت آمیزمناظر دیکھنے میں آئے اور لوگ پھوٹ پھوٹ کر روتے رہے۔