بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاست ایک عبادت

سیاست ایک عبادت


ایک سیاسی لیڈر نے گزشتہ دنوں کیا خوب بات کہی کہ نا اہل حکمرانوں کے باعث آج دنیا میں6 کروڑ کے قریب مسلمان مہاجر ہیں ایک دوسرے سیاسی لیڈر نے بھی بڑے پتے کی بات کہی کہ سیاست دانوں نے غریب عوام کیلئے کچھ نہیں کیا بات تو ٹھیک ہے اگر50 سے زیادہ اسلامی ممالک میں قیادت کا فقدان نہ ہوتا تو آج کشمیر ‘فلسطین ‘ برما ‘ شام وغیرہ پر کیا اس طرح ظلم کیا جاتا کہ جس طرح کیا جا رہا ہے ؟ اسلامی ممالک نے ایک نام نہاد بین الاقوامی ادارہ او آئی سی کے نام سے بنا تو رکھا ہے لیکن اس کے منہ میں دانت نہیں ہیں اس نے آج تک کوئی ایسا نمایاں کام سر انجام نہیں دیاکہ جوقابل ذکر ہو مقام افسوس ہے کہ بعض اسلامی ممالک امریکہ کے پٹھو ہیں تو بعض روس کے‘ بین الاقوامی سطح پر ماضی قریب میں تو ہمیں کسی اسلامی ملک کی طرف سے کی گئی کوئی کوشش نظر نہیں آتی کہ تمام اسلامی ممالک یکجا ہو جائیں ہاں البتہ 1974ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے ضرور تقریباًتمام اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کیلئے اسلامی ممالک کے سربراہان کی کانفرنس کا اہتمام لاہور میں کیا تھا اس کے لئے بھٹو کیساتھ سعودی عرب کے شاہ فیصل نے بھی کافی معاونت کی تھی لیکن وہ بیل منڈ ھے نہ چڑھ سکی اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ بھٹو اور شاہ فیصل کو اسلام دشمن قوتوں نے صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیا‘ اسلام دشمن عناصر کو خدشہ تھا کہ کہیں لاہور کانفرنس کے نتیجہ میں دنیا میں ایک اسلامی بلاک کا وجود عمل میں نہ آ جائے۔

جس کے تصور سے ہی وہ کانپ اٹھتے تھے ذرا سوچئے نا اگر تمام براعظموں میں رہنے والے مسلمان ممالک آپس میں معاشی‘ سیاسی اور عسکری طور پر ایک پیکٹ کر لیں تو کیا دنیا کا نقشہ ہی نہ بدل جائے ؟ آج یہ عالم ہے کہ کئی مسلمان ممالک ایک دوسرے کے بیری ہیں مسلمان ‘ مسلمان کا قتل کر رہا ہے یہود و نصاری کو مسلمانوں کیخلاف اٹیم بم استعمال کرنیکی کیا ضرورت ہے انہوں نے مسلمان ممالک میں آپس میں نفاق کے اتنے ٹائم بم نصب کر دیئے ہیں کہ وہ وقتاً فوقتاً خود بخود پھٹتے رہتے ہیں اور مسلمانوں کا تیا پانچہ کرتے رہے ہیں عیسائی ہم سے زیادہ دور اندیش ثابت ہوئے ہیں یورپی یونین کا قیام اس دور اندیشی کا زندہ ثبوت ہے لیکن ہم یہودو نصاری سے کیا گلہ کریں ہم خود ٹھیک نہیں ہیں ہم خود ان قوتوں کے ہاتھوں میں پیسے لیکر کھیل رہے ہیں کہ جو مسلمانوں کو نیست و نابود کرنا چاہتی ہیں اگر آپ دنیا کے نقشہ پر ایک طائرانہ نظر بھی ڈالیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ خودکش حملوں اور اس طرح کی دوسری کئی دہشتگردی کی کاروائیوں میں مسلمان ممالک زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ لوٹ مار کرنیوالے سیاست دانوں نے غریب عوام کیلئے کچھ بھی نہیں کیا وہ بھی پتھر کی لکیر ہے سیاست کسی زمانے میں عبادت کا نام تھا سوشل ورک سمجھ کر بعض افراد اسے پریکٹس کرتے تھے چنانچہ ہم نے دیکھا تاریخ گواہ ہے کہ اس ملک میں ‘ اس صوبے میں ماضی میں درجنوں کے قریب ایسے سیاست دان گزرے ہیں کہ جنہوں نے اپنی جائیدادیں تک اس سوشل ورک میں بیچ ڈالیں کئی ایسے سیاست دان ہم نے دیکھے کہ جو قرضے لیکر اسمبلیوں کے الیکشن لڑتے تھے وہ نسل اب کب کی ختم ہو چکی سیاست کی اقدار کافی بدل چکی ہیں ۔

سیاست اب ایک منافع بحش تجارت کی شکل اختیار کر چکی ہے یورپی حکمران قومی خزانے کی حفاظت کس طریقے سے کرتے ہیں ۔محمد خان جونیجو ہمارے وزیراعظم تھے وہ سویڈن کے دورے پر تھے وہاں پر وہ ایک ریسٹ ہاؤس میں مقیم تھے صبح کے ناشتے پر اسی ریسٹ ہاؤس میں انہوں نے سویڈن کے وزیراعظم سے ناشتہ کی میز پر ملاقات کرنا تھی کہ جس کیلئے صبح کے نو بجے کا وقت مقرر تھا جونیجو تیار ہو کر ٹھیک نو بجے ریسٹ ہاؤس کے لاؤنج میں سویڈن کے وزیراعظم کے انتظار کیلئے کھڑے ہو گئے وہ وقت مقررہ سے پندرہ منٹ لیٹ وہاں پہنچے وہ اپنی گاڑی خود چلا رہے تھے ڈرائیور بھی نہ تھا اور نہ ہی آگے پیچھے پروٹوکول یا پولیس کی گاڑیاں جونیجو سے ہاتھ ملاتے ہوئے انہوں نے پندرہ منٹ لیٹ آنے پر معذرت کی اور کہا کہ چونکہ ان کی اہلیہ کو بخار تھا اسلئے انہوں نے ان کیلئے بھی چائے کا کپ خود بنایا جس سے وہ لیٹ ہو گئے ذرا سوچئے سویڈن کے وزیراعظم کے گھر میں چائے بنانے والا کوئی سرکاری ملازم بھی نہ تھا کیا ہمارا کوئی سیاست دان یا حکمران اس قسم کے رہن سہن کا مظاہرہ کر سکتا ہے ؟