بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / خطے کی صورتحال اور پاکستان کا موقف

خطے کی صورتحال اور پاکستان کا موقف

وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے امریکی جریدے کو اپنے خصوصی انٹرویو میں خطے کی صورتحال کے تناظر پاکستان کے کردار اور حکومت کی پالیسیوں کے خدوخال اجاگر کئے ہیں طارق فاطمی کا کہنا ہے کہ خطے کو درپیش مسائل کے حل کیلئے پاک امریکہ تعلقات کا ہموار رہناضروری ہے پاکستان ٹرمپ انتظامیہ سے قریبی تعاون اور مل کر کام کرنے کا خواہش مند ہے امریکہ کے نومنتخب صدر کی اقتصادی رابطوں میں دلچسپی وزیراعظم پاکستان کے وژن سے مماثلت رکھتی ہے طارق فاطمی واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کے روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات بھارت کے امریکہ کے ساتھ فوجی تعلقات کا نتیجہ نہیں ہیں امریکہ کی جانب سے ایف 16طیاروں کی فراہمی روکے جانے پر پاکستان نے دیگر آپشنز پر غور کیا ہے امریکہ جو بھی اقدام کرے اسے ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے دوسری جانب اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں تنازعات کے حل کے لئے کثیر ملکی سفارت کاری کی ضرورت ہے وہ کلیئر کرتی ہیں کہ پاکستان جنوبی ایشیاء میں امن کا خواہاں ہے اور بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام حل طلب مسائل پر دوطرفہ بات چیت کی خواہش رکھتا ہے

افغانستان سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ وہاں کے تمام متحارب گروہوں کے مابین بات چیت ہی امن کے قیام کی راہ ہموار کرسکتی ہے بھارت اور افغانستان سے متعلق پاکستان کا موقف صرف پالیسی بیانات تک محدود نہیں بھارت کے ساتھ بات چیت کیلئے ہروقت کوشش کی گئی جسے بھارت کی جانب سے سبوتاژ کیا جاتا رہا افغانستان کے لاکھوں مہاجرین کی میزبانی کیساتھ امن کے قیام کے لئے بات چیت کے ضمن میں بھی پاکستان کا کردار اہم رہا اب بھی پاکستان کابل میں امن کے لئے مذاکرات ہی کا خواہاں ہے اس سب کے باوجود ایک جانب بھارت سے غیرذمہ دارانہ الزامات اور بیانات سامنے آتے ہیں تو دوسری جانب افغانستان سے الزام تراشی کی جاتی ہے برسرزمین حالات اور پاکستان کے کردار کا تقاضا ہے کہ امریکہ سمیت عالمی برادری اس کو سمجھے اور پاکستانی موقف کی تائید کرے۔بصورت دیگر مسئلہ کشمیر پر قرار دادوں پر عمل نہ ہونے کی صورت میں اقوام متحدہ کی ساکھ متاثر ہوگی تو عالمی برادری کے دیگر ممالک کی غیر جانبداری پر سوال اٹھے گا۔

صرف کریک ڈاؤن کیوں؟

پشاور پولیس نے بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکلوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے، مہم کا مقصد ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے واقعات پر قابو پانا ہے کریک ڈاؤن کے آغاز پر تھانہ گلبہار کی حدود میں 200افراد کوگرفتار کیا گیا پولیس کاآپریشن درست اور بروقت ہے امن وامان کی صوتحال بھی اس کی متقاضی ہے دوسری جانب اس حقیقت سے بھی چشم پوشی کسی طور ممکن نہیں کہ موٹرسائیکل کی رجسٹریشن اور نمبر پلیٹ کا حصول ایک طویل اور صبر آزما کام بن چکا ہے ذمہ دار محکموں کو کریک ڈاؤن کے ساتھ نمبرپلیٹس کے اجراء کا فول پروف انتظام کرنا ہوگا۔

اس مقصد کیلئے رجسٹریشن آفس کے شہر کینٹ اور حیات آباد میں کاؤنٹر بنانے کے ساتھ پلیٹس کی تیاری کیلئے انتظام مسئلے کے حل میں معاون ثابت ہوسکتا ہے پولیس کی جانب سے صرف شہریوں کو پلیٹس کیلئے ڈیڈلائن کافی نہیں متعلقہ دفاتر کا پلیٹس تیار کرکے دینا بھی ضروری ہے بصورت دیگر صرف پکڑ دھکڑ وقتی کاروائی ہی رہ جاتی ہے معاملہ صرف نمبر پلیٹس کی تیاری کے ذمہ دار اداروں اور پولیس کے درمیان فاصلوں کا نہیں ہمارے سرکاری سیٹ اپ میں باہمی رابطوں کا فقدان ہر جگہ مسائل کے حل میں رکاوٹ بنا ہوا ہے جس کو دور کرنا ضروری ہے۔