بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / جب تک ہرشہیدبچے کے خون کاحساب نہیں لیتے چین سے نہیں بیٹھیں گے،آرمی چیف

جب تک ہرشہیدبچے کے خون کاحساب نہیں لیتے چین سے نہیں بیٹھیں گے،آرمی چیف

پشاور ۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ آرمی پبلک سکول پر حملہ دہشتگردوں کی ضرب کاری تھی لیکن دہشتگردوں کی ضرب ہمیں اپنے مقصدسے ہٹانے میں ناکام رہی،سانحہ اے پی ایس کو بھلایا نہیں جاسکتا،جب تک ہرشہیدبچے کے خون کاحساب نہیں لیلیتے چین سے نہیں بیٹھیں گے۔تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز سانحہ آرمی پبلک سکول کے دو برس مکمل ہونے پر آرمی پبلک سکول میں تقریب کا اہتمام کیا گیا ،تقریب میں شہید بچوں کے والدین اور رشتہ داروں کی شرکت ، شہدا کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔

تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا اور اس کے بعد آرمی چیف نے یادگار شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ آرمی پبلک سکول پر حملہ دہشتگردوں کی ضرب کاری تھی لیکن دہشتگردوں کی ضرب ہمیں اپنے مقصدسے ہٹانے میں ناکام رہی،سانحہ اے پی ایس کو بھلایا نہیں جاسکتا،شہید بچوں کا خون ہم پر قرض ہے ، شہید بچوں کے والدین کا درد سمجھتا ہوں ، شہید بچوں کی تصاویر میرے دفتر میں لگی ہوئی ہیں جنہیں دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔

،جب تک ہرشہیدبچے کے خون کاحساب نہیں لیلیتے چین سے نہیں بیٹھیں گے ، اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی پبلک سکول کی پرنسپل نے کہا کہ آج سانحہ آرمی پبلک سکول کو دو سال بیت گئے۔ یہ ہماری پوری قوم کیلئے ایک عظیم سانحہ تھا لیکن ہماری قوم نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ حالات کی بھٹی میں تپ کر کندن بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی صورت ان 122 معصوم بچوں کی قربانی اور شہید ہونے والی پرنسپل کو فراموش نہیں کرسکتے ، ہم آج کے دن اس بات کا عہد کرتے ہیں۔

کہ ہم ان شہدا کو تا قیامت یاد رکھیں گے اور انہیں کسی صورت فراموش نہیں کریں گے ، آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے اس موقع پر یادگار شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ انہوں نے شہید بچوں کی عظیم قربانی کو خراج تحسین پیش کیا۔ گورنر کے پی کے ، کمانڈر پشاور ، سیاسی و عسکری قیادت و دیگر حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر کئی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ سانحے میں شہید ہونے والے بچوں کی مائیں اور لواحقین کی آنکھیں شدت غم سے بھر آئیں۔